معزول چیف جسٹس کو تمغہ آزادی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ امریکہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی کی جدوجہد کی طرفداری کے بغیر دہشتگردی کےخلاف جنگ نہیں جیت سکتا۔ انہوں نے امریکہ سے کہا ہے کہ اب فیصلہ اسے کرنا ہے کہ وہ پاکستان میں شخصی حکومت چاہنے والوں کی طرفداری کرتا ہے یا قانون کی حکمرانی کی۔ پاکستان کے مغزول چیف جسٹس بدھ کو امریکہ میں قانون کی تعلیم اور تحقیق کے سب سے بڑے اور عالمی شہرت یافتہ ادارے ہارورڈ لاء اسکول کے اہم ترین ایوارڈ، میڈل آف فریڈم، یا تمغہ آزادی وصول کرنے کے بعد تاریخي تقریب سے خطاب کرر ہے تھے۔ انہیں یہ اعزاز پاکستان میں قانون کی حمکرانی اور عدلیہ کی آزادی اور بحالی کے لیے ان کی کاوشوں اور قربانیوں کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔ اس تقریب میں ہارورڈ لا سکول کے طلبہ و فیکلٹیز کے علاوہ امریکہ بھر سے چوٹی کے جج، وکلاء اور قانون کے شعبے سے وابستہ افراد اور بڑی تعداد میں پاکستاننی بھی شریک تھے۔ معزول چیف جسٹس نے اپنی تقریر میں امریکہ میں قانون اور جمہوریت کی تاریخ کا ذکر کیا اور ساتھ ہی دنیا میں انصاف اور انسانی حقوق کیلیے اٹھ کھڑی ہونے والی قوموں کا۔
اس پس منظر میں انہوں نے پاکستان میں ’باوردی اور بے وردی حکمرانوں‘ کی شخصی حمکرانی اور عوام اور وکلاء کی قانون کی حکمرانی کیلیے جدوجہد کا بہت دلچسپ انداز میں ذکر کیا۔ چیف جسٹس نے اپنی لکھی ہوئي تقریر ميں امریکی قانونی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:’ پاکستان کی موجودہ عدلیہ کو نہ ہی اداراتی اور نہ ہی فیصلہ کرنے کی آزادی حاصل ہے۔ پھر کوئي عجیب بات نہیں کہ پاکستان اقتصادی دیوالہ پن سے ہمکنار ہے۔ ایسے میں امریکہ بھی اپنی جنگ نہیں جیت سکتا۔ بلکہ کوئي بھی قانون کی حکمرانی کی طرفداری کے بغیر نہیں جیت سکتاگ۔‘ انہوں نے کہا کہ پاکستان حالت جنگ میں ہے۔ اور وہ دو محاذوں پر یعنی عدلیہ اورعسکریت پسندی سے برسر پیکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں لاقانونیت، کنفیوزن، افراتفری اور بد نظمی نے پاکستان کو ایک انتہائي خطرناک قیدخانے کی طرف دھکیل دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کیلیے اس صورتحال سےباہر نکلنے کا واحد راستہ قانون کی حمکرانی ہے اور قانون کی حمکرانی امریکہ کیلیے بھی نکلنے کا واحد راستہ ہے۔ پاکستان کے معزول چیف جسٹس نے کہا اب فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ آپ کونسا راستہ چنتے ہیں۔ ’وہ راستہ جو لاقانونیت، افراتفری ، کنفیوزن اورو بدنظمی کا ہے؟ یا وہ راستہ جو قانون کی حکمرانی، خدمت، امن، اور خوشحالی کو جاتا ہے۔‘ جسٹس افتخار محمد چوہدری نے پاکستان میں اب تک آنے والی فوجی او رغیر فوجی حکومت کی ’آمریت پسندی‘ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ’ بدقسمتی سے پاکستان میں حکمران باوردی ہوں کہ بغیر وردی ، تاریخ کے پہیے کو پیچھے کیطرف موڑنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔‘ انہوں نے پاکستان میں موجودہ حکومت کا نام لیے بغیر کہا کہ ’ پاکستان میں اگرجہ بغیر وردی حکمران ایک طرف جمہوریت کی بالادستی کی بات کررہے ہیں تو دوسری طرف آزاد عدلیہ کے قیام کو مستقبل بعید کی طرف ٹال رہے ہیں۔‘ انہوں نے کہا آزاد عدیلہ کے بغیر جمہوریت کا مقدر ناکامی ہے کیونکہ ججوں کے معیاد عہدہ کی ضمانت دیے بغیرآئینی جمہوریت قائم نہیں کی جاسکتی۔ جسٹس چودھری سے پہلے نیلسن منڈیلا کو اس ایوارڈ سے سرفراز کیا جاچکا ہے۔ | اسی بارے میں ’اچھی حکمرانی کے لیے آزاد عدلیہ لازم‘09 November, 2008 | پاکستان حکومت وعدہ کر کے پھر گئی: کرد08 November, 2008 | پاکستان ’قانون کی حکمرانی نہیں تو ترقی نہیں‘08 November, 2008 | پاکستان یوم سیاہ، بائیکاٹ اور احتجاجی ریلیاں03 November, 2008 | پاکستان میرا فیصلہ درست تھا، افتخار چودھری03 November, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||