’اچھی حکمرانی کے لیے آزاد عدلیہ لازم‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا کہنا ہے کہ ملک میں اچھی حکمرانی کے لیے آزاد عدلیہ ضروری ہے ۔ انہوں نے یہ بات اتوار کی صبح چار بجے سیالکوٹ بار ایسوسی ایشن میں ہونے والے وکلا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ جسٹس افتخار محمد چودھری سولہ گھنٹوں کی مسافت کے بعد سیالکوٹ بار ایسوسی ایشن میں پہنچے۔ معزول چیف جسٹس سینچر کی صبح ساڑھے دس بجے اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ سے سیالکوٹ کے لیے روانہ ہوئےتھے۔ جسٹس افتخارمحمد چودھری کا کہنا تھا کہ اکسٹھ برس میں پاکستان میں نہ تو عدلیہ آزاد ہوئی اور نہ ہی اچھی حکمرانی ہوئی۔ان کے بقول ملک آج مسائل میں گھرا ہوا ہے اور آج آزاد عدلیہ کی اشد ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب عوام کو ان کے حقوق ملیں گے تو وہ حکومت کا ساتھ دیں گے اور آزاد عدلیہ کی موجودگی میں سرمایہ کاری بھی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آئین اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک میں آزاد عدلیہ ہونی چاہیے۔ جسٹس افتخار محمد چودھری نے پڑوسی ملک ہندوستان کا حوالہ دیا اور کہا کہ وہاں قانون کی حکمرانی اور آزاد عدلیہ ہے اور اسی وجہ سے بھارت نے پاکستان کہیں زیادہ ترقی کی ہے۔ ان کے بقول نو مارچ سنہ دو ہزار سات کو ایک آمر نے چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر کرکے ملک میں آزاد عدلیہ کے قیام کا موقع فراہم کردیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وکلاء تحریک کی وجہ سے آج ملک کے بچے بچے میں شعور آگیا ہے۔ جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا کہ ماضی میں جب بھی کسی آمر نے آئین پر شب خون مار تو عدلیہ نے اس کا ساتھ دیا ۔ ان کے خیال میں اگر ملک میں قانون کی حکمرانی ہوتی تو ملک نہ ٹوٹتا۔ ان کا کہنا تھا کہ وکلاء نے بہت قربانیاں دی ہیں لیکن اب منزل قریب آگئی ہے اس لیے ضروری ہے کہ تحریک کی صفوں میں اتحاد رکھا جائے۔ان کے بقول جو لوگ تحریک کو چھوڑ گئے یا اس سے دور ہوگئےہیں آج ان کا کوئی نام لیوا بھی نہیں ہے۔ اس موقع پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر منیر اے ملک نے کہا کہ وکلاء تحریک نے سیاست دانوں کی سوچ تبدیل کرنے کی کوشش کی لیکن اس حد کامیاب نہیں ہوئے کہ انہیں باور کراسکتے کہ آزاد عدلیہ جمہوریت اور ان کے اقتداد کی ضمانت ہے۔ ان کے بقول آزاد عدلیہ کے بغیر اس ملک میں جمہوری ادارے مضبوط نہیں ہوسکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر جدوجہد کو کامیاب کرنا ہے تو حکمت عملی تبدیل کرنی ہوگی اور وہ سیاسی قوتیں جو آزاد عدلیہ اور قانون کی حکمرانی کے خلاف ہیں ان کی نشاندہی کرکے انہیں اپنا دشمن قرار دینا پڑے گا او رجو سیاسی قوتیں جو آپ کے مقاصد سے اتفاق کرتی ہیں ان کو آج کے حالات میں اپنے پیلٹ فارم پر جگہ دینا ہوگی۔ پاکستان بارکونسل کے رکن حامد خان نے خطاب کرتےہوئے کہا کہ صدر آصف علی زرداری اور سابق صدر پرویز مشرف میں ایک قدر مشترکہ ہے کہ دونوں آزاد عدلیہ کو برداشت نہیں کرسکتے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکمران احتساب کےڈر کی وجہ سے آزاد عدلیہ نہیں چاہتے۔ قبل ازیں معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے گوجرانوالہ اور گجرات کی ضلعی بار ایسوسی ایشنز سے خطاب کیا جبکہ تحصیل بار کھاریاں میں اس ہال کا بھی افتتاح کیا جو ان ان کے نام سے منسوب کیا گیاہے۔ معزول چیف جسٹس اور اُن کے قافلے میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر علی احمد کرد اور سابق صدر چوھدری اعتزاز احسن سمیت دیگر وکلاء رہنما اور مختلف بار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کے علاوہ بڑی تعداد میں وکلاء بھی شامل ہیں۔ معزول چیف جسٹس کے قافلے کے راستے میں سڑک کے دونوں جانب استقبالیہ کیمپ لگائے گئے تھے جہاں پر وکلاء کے علاوہ سیاسی جماعتوں کے کارکن اور شہریوں کی ایک بڑی تعداد بھی موجود ہے جنہوں نے معزول چیف جسٹس کے حق میں نعرے لگائے اور لوگ اُن کی گاڑی پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے رہے۔ | اسی بارے میں ’قانون کی حکمرانی نہیں تو ترقی نہیں‘08 November, 2008 | پاکستان حکومت وعدہ کر کے پھر گئی: کرد08 November, 2008 | پاکستان عدالتوں کی تالابندی پر مقدمات07 November, 2008 | پاکستان ’پرانی سینیارٹی نہیں مل سکتی‘05 November, 2008 | پاکستان لاہور، ماتحت عدلیہ کی تالہ بندی04 November, 2008 | پاکستان وکلاء جدوجہد جاری رہے گی: کرد03 November, 2008 | پاکستان یوم سیاہ، بائیکاٹ اور احتجاجی ریلیاں03 November, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||