BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 January, 2009, 16:46 GMT 21:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوریج پر پابندی، بار کا احتجاج

علی احمد کرد نے سڑک پر پریس کانفرنس کی
علی احمد کرد نے سڑک پر پریس کانفرنس کی
سپریم کورٹ کی انتظامیہ نے میڈیا کو لاہور رجسٹری میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اجلاس کی کوریج سے روک دیا ہے جس پر بار کے صدر علی احمد کرد نے احتجاجی طور پر بار ایسوسی ایشن کے اجلاس کو منسوخ کر دیا ہے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا اجلاس لاہور میں سپریم کورٹ کی عمارت میں ہونا تھا اور بار کے عہدیداروں کو نیوز کانفرس میں اجلاس میں ہونے والے فیصلوں کا اعلان کرنا تھا۔

علی احمد کرد بار ایسوسی ایشن کے دیگر عہدیداروں کے ہمراہ سپریم کورٹ کی عمارت سے باہر آئے اور سڑک پر بیٹھا کر پریس کانفرنس کی۔

انہوں نے سپریم کورٹ انتظامیہ کی طرف سے میڈیا کو بار کے اجلاس کی کوریج کی اجازت نہ دینے کی مذمت کی اور کہا کہ وکلاء تحریک پرامن ہے لیکن انہیں اشتعال دلایا جا رہا ہے تاکہ وکیل پرامن رویہ چھوڑ کر تشدد کا راستہ اختیار کریں۔

علی احمد کرد نے کہا کہ اگر دوبارہ سپریم کورٹ بار کے اجلاس میں صحافیوں کو آنے سے روکا گیا تو وکلاء کا پرامن رویہ تبدیل ہوسکتا ہے اور اس کی ذمہ داری ان افراد پر ہوگی جو وکیلوں کو پرامن راستہ چھوڑنے کے لیے مجبور کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر دوبارہ سپریم کورٹ بار کے اجلاس میں صحافیوں کو آنے سے روکا گیا تو وکلاء کا پرامن رویہ تبدیل ہوسکتا ہے اور اس کی ذمہ داری ان افراد پر ہوگی جو وکیلوں کو پرامن راستہ چھوڑنے کے لیے مجبور کر رہے ہیں۔

علی احمد کرد نے واضح کیا ہے کہ نو مارچ کو جو لانگ مارچ کے موقع پر وکلاء ہر حالت شاہراہ دستور پر دھرنا دیں گے۔ان کا کہنا ہے کہ وکیل پرامن ہیں اس لیے انہیں پرامن اندازمیں لانگ مارچ کردیا جائے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر لانگ مارچ روکنے کی کوشش کی گئی تو اس صورت میں بھی شاہراہ دستور پر دھرنا دیا جائے گا۔ ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا ہے کہ لانگ مارچ کہاں سے شروع ہوگا اور دھرنے کا دورانیہ کتنا ہوگا۔

ایک دیگر سوال پر سپریم کورٹ بار کے صدر نے کہا کہ چوبیس جنوری کو معزول چیف جسٹس کی لاہور آمد پران کے استقبال کے لیے کسی سیاسی جماعت سے مذاکرات نہیں کیے تاہم عوام، سول سوسائٹی اور سیاسی کارکنوں سے اپیل ہے کہ وہ جسٹس افتخار محمد چودھری کا پرتپاک استقبال کریں۔

دوسری جانب جسٹس افتخار محمد چودھری کی لاہور آمد کے موقع پر ان استقبال کے لیے وکلاء کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ نون اور دیگر سیاسی جماعتیں تیاریاں کر رہی ہیں۔

ادھر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے جسٹس افتخار محمد چودھری کو سرکاری پروٹول دینے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ جہاں تک کسی سیاسی جماعت کا معزول چیف جسٹس کا استقبال کرنے کا سوال ہے اس پر انہیں کوئی اعتزاض نہیں ہے۔

مسلم لیگ نون کے لاہور سے رکن قومی اسمبلی نصیر بھٹہ کے مطابق مسلم لیگ نون نے جسٹس افتخار محمد چودھری کے استقبال کی بھر پور تیاریاں کی ہیں اور ان کے بقول مسلم لیگ نون کے ارکان اسمبلی، عہدیدار اور کارکن جسٹس افتخار محمد چودھری کا پرتپاک استقبال کریں گے۔

پنجاب حکومت کی طرف معزول چیف جسٹس کو سرکاری پروٹول دیا جا رہا ہے اور کڑے حفاظتی انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔

اسی بارے میں
کرد کے آنسو
27 October, 2008 | پاکستان
وکلاء گروپ بندی کا شکار
09 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد