BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 17 November, 2008, 22:17 GMT 03:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بار کونسل کی کارروائی بلاجواز‘

اقبال حیدر سابق اٹارنی جنرل بھی ہیں
ہیومن رائٹس کمیشن نے پاکستان بار کونسل کے فیصلوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بار کونسل بغیر کسی جواز کے غیر قانونی طور پر وکلاء تحریک کی حامی بار ایسوسی ایشنز کے رہنماؤں کے خلاف سخت کارروائیاں کر رہی ہے۔

سوموار کے روز ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے شریک چئرمین اور ریٹائرڈ اٹارنی جنرل اقبال حیدر سے منسوب ایک بیان کے مطابق پاکستان بار کونسل اس سال اگست سے وکلا برداری میں اختلافات اور نا اتفاقی پھیلانے کی کوششوں میں مصروف ہے جس کا مقصد وکلاء تحریک کو کمزور کرنا اور نقصان پہنچانا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان بار کونسل نے بظاہر نظم و ضبط کی خلاف ورزی کرنے پر پشاور ، ملتان اور فیصل آباد سمیت دیگر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشنز کے اُن منتخب نمائندوں کے خلاف غیر قانونی کارروائیاں کی ہیں جو ملک میں آزاد عدلیہ کے قیام ، آئین اور قانون کی بالادستی اور معزول چیف جسٹس سمیت دیگر معزول ججوں کی بحالی کے لیے ’ایک تاریخی اور مقبول تحریک میں بغیر کسی خوف ، دباؤ اور حکومتی لالچ کی پرواہ کیے بغیر حصہ لے رہے ہیں۔‘

واضع رہے کہ اس سے پہلے وکیل رہنما اعتزاز احسن نے پاکستان بار کونسل پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ اپنے اختیارات سے تجاویز کرتے ہوئے وکلاء تحریک کے منافی کردار ادا کر رہی ہے۔

ہیومن رائٹس کے شریک چئرمین کے مطابق پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر لطیف آفریدی سمیت ملتان، فیصل آباد ، بہاولپور کی بار ایسوسی ایشنز کے منتخب نمائندوں کے خلاف غیر قانونی کارروائی کرتے ہوئے ان کے لائسنس منسوخ کیے گئے ہیں جبکہ انہیں اپنے بینک اکاؤنٹ استعمال کرنے پر پابندی کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ لائسنس منسوخ کرنے سے پہلے کوئی شو کاز نوٹس بھی جاری نہیں کیا گیا ہے۔

اقبال حیدر کے مطابق وکلاء تحریک انسانی حقوق، آئین، آزاد عدلیہ اور قانون کی حکمرانی کی حمایتی ہے۔ اس لیے پاکستان کے اندر اور باہر انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تمام تنظیموں اور فورمز کا فرض بنتاہے کہ وہ وکلاء کے حقوق اور مفادات کی بھر پور حفاظت کریں۔ انہوں نے پاکستان بار کونسل پر زور دیا کہ وہ وکلاء کے منتخب نمائندوں کے خلاف کیے گئے اقدامات کو فوراً واپس لے۔

واضع رہے کہ پندرہ نومبر کو پاکستان بار کونسل نے پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور وکلاء رہنما لطیف آفریدی کی طرف سے پاکستان بار کونسل کے نائب چئرمین کو لکھے گئے خط کو جواز بنا کر ان کا لائسنس منسوخ کرتے ہوئے بار کے اکاونٹس کے استعمال پر بھی پابندی عائد کر دی تھی۔ جس کے خلاف سوموار کے روز پشاور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں وکلاء نے احتجاج بھی کیا ہے۔

اسی بارے میں
مشرف کا احتساب ہو: اعتزاز
16 August, 2008 | پاکستان
’اکثریت ڈوگر کو نہیں مانتی‘
26 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد