BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 24 January, 2009, 23:46 GMT 04:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’چیف جسٹس میں ہی ہوں‘

جسٹس افتخار: فائل فوٹو
’تین نومبر کو ملک میں جو مارشل لا لگایا گیا تھا وہ ایک ناکام مارشل لا اور پی سی تھا‘
سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا کہنا ہے کہ کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے لیکن یہ حقیقیت ہے کہ وہ ابھی بھی پاکستان کے آئینی چیف جسٹس ہیں۔

انہوں نے یہ بات سینچر کو رات گئے لاہور میں ہونے والے وکلاء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وکلاء کنونشن کا اہتمام پنجاب بارکونسل نے کیا تھا۔

جسٹس افتخار محمد چودھری سنیچر کی دوپہر کو لاہور پہنچے تھے اور لاہور کے ہوائی اڈے سے پنجاب بارکونسل تک بیالیس منٹ کی مسافت انہوں نے لگ بھگ نو گھنٹوں میں طے کی۔

کنونشن میں تین نومبر کو پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں نے بھی شرکت کی جبکہ سپریم کورٹ کے معزول جج جسٹس خلیل الرحمن رمدے اور لاہور ہائی کورٹ کے معزول جج جسٹس خواجہ محمد شریف نے کنونشن سے خطاب کیا۔

جسٹس افتخار محمد چودھری کا کہنا ہے کہ کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ تین نومبر کو جو مارشل لا لگایا گیا تھا اس کی توثیق کرنے کی ابھی تک کسی جرات نہیں ہوئی۔

اب یہ نہیں ہو گا
 جب کسی آمر کا دل کرتا ہے وہ آئین کا حلیہ بگاڑ دیتا ہے لیکن اب ملک میں بہت جلد قانون کی حکمرانی قائم ہوگی
معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری

معزول چیف جسٹس نے کہا کہ جب سابق صدر جنرل پرویزمشرف نے خود سولہ نومبر کو ایک انٹرویو میں یہ اعتراف کیا کہ تین نومبر کو انہوں نے غیر قانونی طور پر پی سی او جاری کیا اور ملک میں مارشل لا لگایا تھا ایسی صورت میں تین نومبر کے بعد والی عدلیہ اس غیر آئینی اقدام کو کیسے جائزہ قرار دے سکتی ہے۔

انہوں نے تین نومبر کے بعد والی عدلیہ پر نکتہ چینی کی اورکہا کہ کچھ لوگوں کی نوکری بچانے کے لیے یہ قرار دیا گیا ہے کہ اگرچہ آمر نے غلط کیا تھا لیکن پھر بھی یہ جائز ہے۔ ان کے بقول یہ ایک نرالا فیصلہ ہے۔

ان کے مطابق تین نومبر کو ملک میں جو مارشل لا لگایا گیا تھا وہ ایک ناکام مارشل لا اور پی سی تھا اور ان کی رائے میں جب کوئی ناکام پی سی او جاری کیا جائے تو اسے نہ تو عدالت جائز قرار دے سکتی اور نہ ہی اسمبلی اس پر تصدیق کی مہر لا سکتی ہے۔ان کے بقول تین نومبر کا مارشل لا اس لیے ناکام ہے کیونکہ اس کو وکلا اور سول سوسائٹی نے تسلیم نہیں کیا۔

انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ تین نومبر کو آئین میں ترمیم کر کے اسلام آباد ہائی کورٹ قائم کی گئی ہے جس کا جواز نہیں تھا۔

جسٹس افتخار چودھری کا کہنا ہے کہ یہ دعوے غلط ہیں کہ تین نومبر کے اقدامات کی توثیق ہوگئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ ارکان اسمبلی نے جب حلف اٹھایا تھا تو انہوں نے یہ کہا تھا کہ وہ تین نومبر سے پہلے والے آئین پر حلف لے رہے ہیں اور تین نومبر کو آئین میں کی جانے والی ترمیم پر حلف نہیں لیا گیا۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ جب کسی آمر کا دل کرتا ہے وہ آئین کا حلیہ بگاڑ دیتا ہے لیکن اب ملک میں بہت جلد قانون کی حکمرانی قائم ہوگی۔ معزول چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ ملک میں ایسی عدلیہ ہونی چاہئے جو قانون اور آئینی کے مطابق فیصلے کرے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی عدالتوں نے ہمیشہ آمروں کے مارورائے آئین اقدامات کی توثیق کی ہے لیکن تین نومبر کو عدلیہ نے ایک آمر کے اقدامات کو مسترد کر کے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔

کنونشن میں معزول چیف جسٹس نے لاہور کی ضلعی بار ایسوسی ایشن کے نومنتحب عہدیداروں سے حلف بھی لیا۔

جسٹس افتخار’عدلیہ کی آزادی‘
جسٹس افتخار نے کہا ہے کہ ان کا فیصلہ درست تھا
افتخار محمد چودھریچودھری کا اعزاز
معزول چیف جسٹس کو تمغہ آزادی
معزول چیف جسٹس’اپنے اقتدار کیلیے‘
مشرف نےعدلیہ، ادارے تباہ کیے: معزول جسٹس
اعتزاز احسن اعتزاز اور پیپلز لائرز
پی سی او چیف جسٹس کو نہ بلانےکی اپیل
نیا آئینی تصادم؟
ججز کی بحالی - ایک قدم آگے دو قدم پیچھے
اسی بارے میں
وکلاء گروپ بندی کا شکار
09 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد