BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 January, 2009, 15:56 GMT 20:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ناظم بمقابلہ پنجاب حکومت

ڈویژنل کمشنر کی تقرری سے ناظمین کا کردار متاثر ہوا ہے

پاکستان کے سابق صدر جنرل ریٹائر پرویز مشرف کے نئے بلدیاتی نظام کے ذریعے ڈویژنل کمشنر کا جو عہدہ ختم ہوگیا تھا اس کو مسلم لیگ نون نے اقتدار میں آنے کے بعد صوبہ پنجاب میں بحال تو کرلیا ہے لیکن یہ بحث شروع ہوگئی ہے کہ آیا کسی قانون میں بالواسطہ ترمیم کی جاسکتی ہے جس کے ذریعے دوسرا قانون غیرمؤثر ہوجائے۔

مسلم لیگ نون کی صوبائی حکومت نے لوکل گورنمنٹ آرڈیننس میں ترمیم کرنے کے بجائے لینڈ ریونیو ایکٹ میں ترمیم کرکے نئے ڈویژنل کمشنر متعین کیے۔

قانونی ماہرین کا موقف ہے کہ کمشنرز کی تعیناتی کے بعد صوبائی حکومت ضلعی ناظمین کے بجائے کمشنرز کے ذریعے براہ راست ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن افسرز کے لیے اپنے احکامات پر عمل درآمد کرائے گی۔

ان ماہرین کے بقول لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کو سترہویں ترمیم کے ذریعے آئینی تحفظ دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کو آئینی تحفظ کی وجہ سے ہی حکومت پنجاب نے لیڈ ریونیو ایکٹ میں ترمیم کی اور اس ترمیم کے ذریعے نہ صرف کمشنر عہدے پر تقرریاں کی گئیں بلکہ ضلعی ناظم کو غیرمؤثر بنانے کی کوشش ہے۔

بلدیاتی قوانین کے ماہر قاضی مبین ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ حکومت پنجاب نے لینڈ ریونیو ایکٹ میں ترمیم کرکے کمشنری نظام کو بحال نہیں کیا گیا بلکہ کمشنر کا نیا عہدہ تخلیق کیا گیا ہے۔ ان کے بقول لوکل گورنمنٹ آرڈیننس میں ترمیم کے لیے صدر پاکستان کی اجازت درکار ہے کیونکہ بلدیاتی نظام کو سترہویں ترمیم کے ذریعے تحفظ دیا گیا ہے۔

 سابق وزیر قانون ایس ایم مسعود کی رائے ہے کہ لینڈ ریونیو ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے جو کمشنر مقرر کیے گئے ہیں اس سے لوکل گورنمنٹ آرڈیننس متاثر نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا ہے کہ کمشنر کے تقرر کے بعد اب یہ ابہام ختم ہوگیا ہے کہ ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ آفیسر کی فیصلہ کے خلاف دادرسی کے لیے کہاں رجوع جائے۔ان کے بقول مقامی حکومت کے نظام کو اچھی افسرشاہی یعنی بیوروکریسی کے ذریعے ہی بہتری لائی جاسکتی ہے۔
انہوں نے آئین کے آرٹیکل ایک سو چالیس اے کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس شق کے تحت ہر صوبہ قانون کے ذریعہ مقامی حکومتی نظام قائم کرے گا اور مقامی حکومت کے منتخب نمائندگان سیاسی، انتظامی اور مالی امور کو منظم طریقہ سے چلائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب صوبائی حکومت پر یہ دستوری پابندی ہے کہ وہ مقامی حکومت کو منتخب نمائندگان کے ذریعے ہی چلائیں گی تو ایسی صورت میں مقامی حکومت کو کس طرح غیرمنتخب افراد کے ذریعے چلایا جاسکتا ہے اور ایسا کرنا آئینی کی خلاف ورزی ہے۔

قاضی مبین کا یہ کہنا ہے کہ لینڈ ریونیو ایکٹ ایک محدود قانون ہے اور اس قانون کا مقصد زرعی اراضی سے متعلق ریونیو کے معاملات کو دیکھنا ہے۔ ’کس طرح ایکٹ کے تحت وجود آنے والے کمشنرز مقامی حکومت کے معاملات کا جائزہ لے سکتے ہیں؟‘

ان کے بقول لوکل گورنمنٹ آرڈیننس پر ابھی مکمل طور پر عمل درآمد نہیں ہوا ہے اور اس آرڈیننس کے تحت ضعلی محتسب کا تقرر عمل میں آنا تھا جو ابھی وجود میں نہیں آیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جب قانون پر مکمل طور پر عمل درآمد نہیں ہوا تو ایسی صورت میں یہ کہنا درست نہیں ہے کہ یہ نظام میں خرابی ہے اور یہ ناکام ہوگیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر ضلعی حکومت میں کہیں بے ضابطگی ہوئی ہے تو اس کی ذمہ داری منتخب ضلعی ناظم پر نہیں بلکہ ڈی سی او اور ٹی ایم او پر عائد ہوتی ہے لیکن ان فسروں کے خلاف کارروائی کے بجائے دوبارہ معاملات افسر شاہی یا بیوروکریسی کو دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔

قاضی مبین قاضی کے بقول کمشنری نظام کے ذریعے صوبائی حکومت نے ناظمین کے اختیارات کو محدود کرنے کی کوشش کی ہے جس کی قانون اجازت نہیں دیتا۔

 قانون دان فواد حسین چودھری کا کہنا ہے کہ ضلعی حکومت کے نظام میں صوبائی حکومت کا نمائندہ ڈی سی او یعنی ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن افسر ہوتا ہے اور لینڈ ریونیوایکٹ میں ترمیم کے بعد اب ڈی سی او ضلعی ناظم کے بجائے اپنے اعلیْ افسر یعنی کمشنر رپورٹ کرے گے اور اس طرح ضلعی ناظم کو نظرانداز کیا جائے گا۔
سابق وزیر قانون ایس ایم مسعود کی رائے ہے کہ لینڈ ریونیو ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے جو کمشنر مقرر کیے گئے ہیں اس سے لوکل گورنمنٹ آرڈیننس متاثر نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا ہے کہ کمشنر کے تقرر کے بعد اب یہ ابہام ختم ہوگیا ہے کہ ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ آفیسر کی فیصلہ کے خلاف دادرسی کے لیے کہاں رجوع جائے۔ان کے بقول مقامی حکومت کے نظام کو اچھی افسرشاہی یعنی بیوروکریسی کے ذریعے ہی بہتری لائی جاسکتی ہے۔

قانون دان فواد حسین چودھری کا کہنا ہے کہ ضلعی حکومت کے نظام میں صوبائی حکومت کا نمائندہ ڈی سی او یعنی ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن افسر ہوتا ہے اور لینڈ ریونیوایکٹ میں ترمیم کے بعد اب ڈی سی او ضلعی ناظم کے بجائے اپنے اعلیْ افسر یعنی کمشنر رپورٹ کرے گے اور اس طرح ضلعی ناظم کو نظرانداز کیا جائے گا۔

ان کے بقول صوبہ میں جو کمشنر مقرر کیے گئے ہیں وہ دراصل ’ْریٹرن آف بیوروکریسی‘ ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک میں مقامی حکومت کو منتخب نمائندگا کے ذریعے چلایا جاتا ہے اور مقامی حکومت کے معاملات منتخب میئر دیکھتا ہے لیکن پاکستان میں مقامی حکومت کے نظام کو بیورو کریسی کے سپرد کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب وفاقی اور صوبائی قوانین کے درمیان تنازعہ ہونے کی صورت میں وفاقی قانون کو فوقیت ہوتی ہے اور لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کو آئین کے شیڈول چھ میں شامل ہے اس لیے صوبائی حکومت کو اس قانون میں ترمیم کا اختیار نہیں ہے۔

فواد چودھری کے بقول اگر وفاقی حکومت کو بھی مقامی حکومت کے قانون میں کوئی ترمیم کرنی ہے تو اس کے لیے وفاقی حکومت کو آئین کی متعلقہ شق میں ترمیم کی ضرورت ہے اس کے بغیر اس میں تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔

ان کی رائے ہے کہ اگر حکومت کسی قانون میں ترمیم یا تبدیلی کی مجاز نہ ہو تو وہ بالواسطہ طور پر کسی دوسرے قانون میں ترمیم کرکے اس قانون کو غیرمؤثر نہیں کرنے کی اختیار نہیں ہے جس قانون میں حکومت کو ترمیم کرنے کا اجازت نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ مقامی حکومت کے ساتھ ساتھ ڈویژنل کمشنرز کی تقرری سے صوبے میں ضلعی حکومت کے تحت ہونے والے ترقیاتی کام رک گئے ہیں اور ان کے بقول تمام کارروائی صرف زبانی احکامات کے تحت کی جا رہی ہے۔

فوج آئے یا نہ آئے
فوج کی نگرانی میں بلدیاتی انتخابات؟
غیر سیاسی سیاست
سیاسی امیدواروں کی متبادل سیاسی شناختیں
مقامی انتخاباتضلعی انتخابات
مقامی انتخابات میں سوا دو لاکھ امیدور
بلدیاتی انتخابات کی تیاریضلعی انتخابات شروع
بلا مقابلہ امیدوار اورغیر ووٹر خواتین
بلدیاتی نظام بلدیاتی انتخابات
سیاسی جوڑ توڑ اور امن وامان کا مسئلہ
سندھ کے بلا مقابلہ
1054 کونسلر اور ناظم بلا مقابلہ کامیاب
مسلم لیگانتخابی میدان سے
قومی انتخابات کے ’بلدیاتی‘ امیدوار
اسی بارے میں
مٹہ نائب ناظم سمیت دو ہلاک
25 November, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد