پنجاب، گورنر ناظمین کے ساتھ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب کے چوبیس ناظمین اور مسلم لیگ نون کے صوبائی وزراء نے بلدیاتی اداروں میں کرپشن کے معاملے پر ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جبکہ گورنر پنجاب نے ناظمین کے موقف کی حمایت کی ہے اور صوبائی حکومت پنجاب کومشورہ دیا ہے کہ وہ ان پر جھوٹے الزامات عائد کرنے پر معافی مانگ لے۔ تینوں فریقوں نے لاہور میں جواب در جواب تین الگ الگ پریس کانفرنس کی ہیں۔ پنجاب کے چوبیس اضلاع کے ناظمین نے پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا اور کہا کہ انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے ناظمین نے کہا کہ تمام اضلاع کے ڈی سی او یعنی ضلعی رابطہ افسروں کو بلدیاتی نمائندوں کے احکامات ماننے سے روک دیا گیا ہے جس کی وجہ سے اضلاع میں ترقیاتی کام رکے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متعدد ضلعی ناظمین سے توہین آمیز طریقے سے ان کے دفاتر خالی کروالیے گئے ہیں تاکہ حال ہی میں تعینات ہونے والے ڈویژنل کمشنروں کے بیٹھنے کی جگہ بنائی جاسکے۔ حکومت پنجاب نے گذشتہ دنوں میڈیا میں سرکاری اشتہارات کے ذریعے بلدیاتی ادارں میں چورانوے ارب روپے کی دھاندلی کے الزمات عائد کیے تھے۔ اٹک کے ضلعی ناظم ریٹائرڈ میجر طاہر صادق نے کہا کہ یہ الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔انہوں نے کہا کہ صرف سیاسی مخالفت کی وجہ سے بلدیاتی نمائندوں کو انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ میجر طاہر صادق نے کہا کہ بلدیاتی اداروں کو عوام نے مینڈیٹ دیا ہے اور مسلم لیگ نون کو اس کا احترام کرنا چاہیے۔ ضلعی ناظمین نے کہا ہے کہ وہ وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف اور دیگر متعلقہ صوبائی حکام کے خلاف ایک ایک ارب روپے حرجانے پر مبنی ہتک عزت کے مقدمات دائر کررہے ہیں۔ اس پریس کانفرنس کے بعد تمام ضلعی ناظمین گورنر ہاؤس پہنچ گئے جہاں ان کی موجودگی میں گورنر پنجاب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جس آڈیٹر جنرل کا حوالہ دیکر بلدیاتی دھاندلی کے الزام لگائے گئے اسی آڈیٹر جنرل نے تحریری طور پر کہا ہے کہ کوئی کرپشن ثابت نہیں ہوسکی۔ پنجاب میں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت ہے۔وزیر اعلی مسلم لیگ نون اور گورنر پیپلز پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے گورنر پنجاب سلمان تاثیر بلدیاتی اداروں کے نمائندوں کی کھل کر حمائت کررہے ہیں۔انہوں نے حکومت پنجاب کو مشورہ دیا کہ وہ بلدیاتی نمائندوں پر جھوٹے الزامات لگانے پر سرعام ان سے معافی مانگ لے۔ گورنر پنجاب نے وزیر اعلی کو بلدیاتی نمائندوں پر دھاندلی کے ان کے بقول بے بنیاد الزامات لگانے پر ایک خط بھی لکھا ہے۔ گورنر سلمان تاثیر نے کہا کہ صوبے کے انتظامی اداروں کا تحفظ ان کی آئینی ذمہ داری ہے اور وہ یہ نبھاتے رہیں گے۔ پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے گورنر سلمان تاثیر کی اس پریس کانفرنس کے بعد مسلم لیگ نون کے سنئیرصوبائی مشیر ذوالفقار علی کھوسہ نے وزیر اعلی سیکرٹریٹ میں ہنگامی پریس کانفرنس طلب کرلی اس پریس کانفرنس میں ان کے علاوہ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناءاللہ اور صوبائی وزیر بلدیات دوست محمد کھوسہ بھی موجود رہے ۔ صوبائی وزیر بلدیات دوست محمد کھوسہ نے بلدیاتی اداروں میں مداخلت کے حوالے سے گورنر پنجاب کے کردار کو افسوسناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی اداروں میں اربوں روپے کی کرپشن کی تحقیقات جاری ہیں اور جس پر بلدیاتی نمائندے پر کرپشن ثابت ہوئی اسے قانون اور عوام کے کٹہرےمیں آنا ہوگا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ بلدیاتی ادارے مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کے درمیان سیاسی اور انتظامی کشمکش کا سبب بن گئے ہیں اور یہ محاذ آرائی نئے بلدیاتی الیکشن میں اپنے عروج پر پہنچ سکتی ہے جو اس سال کے آخر تک متوقع ہیں۔ |
اسی بارے میں انتخابی اہلیت، شریف برادران کی طلبی05 June, 2008 | پاکستان نواز، شہباز کو نئے چیلنج کا سامنا05 June, 2008 | پاکستان نواز، شہباز کو نئے چیلنج کا سامنا04 June, 2008 | پاکستان شہباز منتخب: نوٹیفیکیشن جاری03 June, 2008 | پاکستان لاہور: نئے وزیراعلٰی کی حلف برداری12 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||