BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 12 April, 2008, 09:56 GMT 14:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہور: نئے وزیراعلٰی کی حلف برداری

 پنجاب اسمبلی
دوست محمد کھوسہ کو رائے شماری کے دوران دو سو تریسٹھ ووٹ ملے۔
پنجاب کے نومنتخب وزیر اعلیْ دوست محمد کھوسہ نے ہفتے کو اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ گورنر پنجاب لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ خالد مقبول نے نئے وزیر اعلیْ سے حلف لیا۔

گورنرہاؤس میں ہونے والی تقریب حلف برادری میں مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کی قیادت اور ارکان اسمبلی نے شرکت نہیں کی۔

مسلم لیگ نواز پنجاب کے صدر سردار ذوالفقار علی کھوسہ مسلم لیگ نواز کے واحد عہدیدار ہیں جو تقریب میں تھے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اس تقریب میں بطور عہدیدار شامل نہیں ہوئے بلکہ ایک باپ ہونے کے ناطے انہوں نے اپنے بیٹے کی حلف برادری میں شرکت کی ہے۔

تقریب میں گورنر پنجاب نے پیپلز پارٹی پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر راجہ ریاض سے سینئر وزیر کے عہدے کا حلف بھی لیا۔ دوست محمدکھوسہ اور راجہ ریاض نے جیسے ہی حلف اٹھایا تو تقریب میں موجود مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے ’گومشر ف گو‘ کے علاوہ بینظیر بھٹو اور نواز شریف کے حق میں نعرے لگائے۔

گورنر پنجاب خالد مقبول نے تقریب حلف برادری کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت میں کہا کہ عوام کے فیصلے کے مطابق حکومتیں قائم ہوگئیں بلکہ حکومتوں نے اپنی پالیسی ترتیب دینی شروع کر دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام جن لوگوں کو اقتدار میں لائے ہیں وہ اب عوام کی توقعات کو پورا کریں اور کیے ہوئے وعدوں پر عمل کریں۔

جمہوریت کی جدوجہد
 جمہوریت کی واپسی نواز شریف، شہباز شریف ، بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔
دوست محمد کھوسہ

نومنتخب وزیر اعلیْ دوست محمد کھوسہ نے صحافیوں سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ترجیحات میں لاقانونیت، مہنگائی اور بے زورگاری کے خاتمےجبکہ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بہتری لانا شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ آٹھ سالوں سے آمریت کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں اور ان کی یہ جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ملک سے آمریت کے سائے ختم نہیں ہوجاتے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ جلد ہی صوبائی کابینہ بھی تشکیل دے دی جائے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ سابق حکمرانوں کی طرح اپنی ذاتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اقتدار میں نہیں آئے بلکہ وہ عوام کی امنگوں پر پورا اترنے کے لیے آئے ہیں۔

سینئر وزیر پنجاب راجہ ریاض نے اس موقع پر کہا کہ ججوں کی بحالی کے لیے پارلیمانی کمیٹی بن گئی ہے اور یہ کمیٹی جو فیصلہ کرے گی وہ سب کو قبول ہوگا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ صوبائی کابینہ کے حلف اٹھانے کے بعد ان کے محکموں کا اعلان کیا جائے گا۔

مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی نے اس اسمبلی میں پینتیس وزراء پر مبنی کابینہ بنانے کا اعلان کیا ہے اور شراکت اقتدار کے فارمولے کےتحت بائیس وزراء مسلم لیگ نواز اور تیرہ پیپلزپارٹی کے ہونگے۔

دوست محمد کھوسہ اپنے والد اور پنجاب کے سابق گورنر ذوالفقار کھوسہ کے ہمراہ

اس سے قبل سنیچر کی دوپہر پنجاب اسمبلی نے مسلم لیگ نواز کے دوست محمد کھوسہ کو بلامقابلہ وزیر اعلیْ پنجاب منتخب کیا۔اسمبلی کے اجلاس میں دوست محمد کھوسہ کو رائے شماری کے دوران دو سو تریسٹھ ووٹ ملے۔ پنجاب اسمبلی میں حزب مخالف کی جماعت مسلم لیگ ق نے ڈاکٹر شیرافگن خان نیازی سے بدسلوکی کے خلاف اس انتخاب کا بائیکاٹ کیا۔

دوست محمد کھوسہ نے وزیراعلیٰ منتخب ہونے کے بعد ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کا جو سورج طلوع ہوا ہے وہ آمریت کے سورج کو غروب کردے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بارہ اکتوبر ننانوے کو ایک آمر نے جمہوریت پر شب خون مارا اور آج بھی بارہ تاریخ ہے جب جمہوریت کو فتح نصیب ہوئی ہے۔

دوست محمد کھوسہ بقول آئین اور نظام سے غداری کرنےوالوں میں سے کچھ حساب دے چکے ہیں اور کچھ دیں گے۔ نئے وزیر اعلیٰ نے صوبے کے عوام کی خدمت کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ وزیراعلیٰ ہاؤس کے دروازے ارکان اسمبلی کے لیے ہر وقت کھلے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ افسر شاہی جو بے لگام ہوچکی ہے اس کو لگام ڈالیں گے۔

دوست محمد کھوسہ نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کی واپسی نواز شریف، شہباز شریف ، بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔

سیاسی پس منظر
 دوست محمد کھوسہ پہلی مرتبہ سنہ انیس سو ننانوے میں اپنے والد سردار ذوالفقار علی کھوسہ کے گورنر بننے کے بعد ان کی چھوڑی ہوئی نشست پر تین اکتوبر ننانوے میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے تاہم بارہ اکتوبر کے فوجی اقدام کے باعث وہ رکن اسمبلی کی حیثیت سے حلف نہیں لے سکے تھے۔

پینتیس سالہ سردار دوست محمد کھوسہ مسلم لیگ پنجاب کے صدر اور سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار علی کھوسہ کے بیٹے ہیں۔ان کومسلم لیگ نواز کی اتحادی جماعتوں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ فنکشنل اور متحدہ مجلس عمل کی حمایت حاصل ہے۔

پنجاب کے نومنتخب وزیر اعلیٰ دوست محمد کھوسہ پہلی مرتبہ سنہ انیس سو ننانوے میں اپنے والد سردار ذوالفقار علی کھوسہ کے گورنر بننے کے بعد ان کی چھوڑی ہوئی نشست پر تین اکتوبر ننانوے میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے تاہم بارہ اکتوبر ننانوے کے فوجی اقدام کے باعث وہ رکن اسمبلی کی حیثیت سے حلف نہیں لے سکے تھے۔

دوست محمد کھوسہ سنہ دو ہزار پانچ کے انتخابات میں ضلع ڈیرہ غازی خان کے نائب ناظم چنے گئے تھے۔اٹھارہ فروری کے انتخابات میں دوست محمد کھوسہ ڈیرہ غازی خان کے صوبائی حلقہ دوسو چوالیس سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔

دوست محمد کھوسہ مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف کے ضمنی انتخاب میں رکن منتخب ہونے تک وزیراعلیٰ رہیں گے۔مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف کاغذات نامزدگی مسترد ہوجانے کی وجہ سے عام انتخابات میں حصہ نہیں لے سکے تھے تاہم مسلم لیگی قیادت کا خیال ہے کہ ضمنی انتخاب کے لیے ان کے کاغذات نامزدگی منظور ہوجائیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد