BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ میں کابینہ نے حلف اٹھالیا

سندھ اسمبلی
اس کابینہ میں متحدہ قومی موومنٹ شامل نہیں ہے
سندھ کی اکیس رکنی کابینہ نے جمعہ کو حلف لے لیا ہے، جس میں چار خواتین اور دو اقلیتی اراکین بھی شامل ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ کی شمولیت کے لیے پیپلز پارٹی کی جانب سے رابطے جاری ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ ورکرز کنوینشن میں اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کرے گی۔

گورنر ہاؤس میں جمعہ کی شام حلف برداری کی تقریب منقعد کی گئی، گورنر ڈاکٹر عشرت العباد نے نے کابینہ سے حلف لیا۔

حلف اٹھانے والے وزراء میں آغا سراج درانی، ڈاکٹر ذوالفقار مرزا، مراد علی شاہ، سسی پلیجو، شازیہ مری، سیف اللہ دھاریجو، پیر مظہر الحق، نادر مگسی، منظور وسان، توقیر فاطمہ، نرگس این ڈی خان، ساجد جوکھیو، اختر جدون، عبد الحق بھرٹ، مکیش کمار چاؤلہ، علی نواز شاہ، جام مہتاب ڈہر دیا رام، عبد الجلیل میمن، ایاز سومرو اور اے این پی کے امیر نواب شامل ہیں۔

پیپلز پارٹی کے اراکین حلف برداری کے بعد بلاؤل ہاؤس پہنچے جہاں بینظیر بھٹو کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ان کی تصویر پر پھول چڑھائےگئے۔

بعد میں صوبائی کابینہ کے اراکین نے پاکستان کے بانی محمد علی جناح کے مزار پر حاضری دی، اس موقعے پر وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کابینہ کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے بعد میں اس میں توسیع کی جائے گی ۔

ان کا کہنا تھا کہ نئی حکومت کو بیروزگاری، امن امان ، تعلیم صحت سمیت کئی مسائل کا سامنا ہے گزشتہ دس سالوں میں عوام کو بنیادی سہولیت اور حقوق نہیں ملے ہیں۔گزشتہ چند روز میں انہوں نے تبدیلی محسوس کی ہوگی ۔

سید قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ میں امن امان بگاڑنے کی کسی کو اجازت ، نہیں دی جائے گی نو اپریل کو ہونے والی ہنگامہ آرائی کی تحقیقات جاری ہے، جو جیسے ہی مکمل ہوئی تو اسے ظاہر کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ متحدہ قومی موومنٹ سے رابطہ جاری ہیں ان کی کابینہ میں شمولیت پر بات نہیں ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتوں میں ڈیڈ لاک کسی حد تک ختم ہوا ہے گورنر ہاؤس میں زیادہ بات تو نہیں ہوئی مگر اندازہ ہے کہ جو کمیٹیاں بنی تھیں ان کی ملاقات ہوگی۔ آگے بڑہیں گے اور بات چیت کے لیے راہ ہموار کریں گے۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی کا مشیر داخلہ رحمان ملک کے توسط سے متحدہ قومی موومنٹ کی قیادت سے رابطہ جاری ہے، اس سلسلے میں انہوں نے لندن میں متحدہ کے سربراہ الطاف حسین سے بھی ٹیلیفون پر رابطہ کیا ہے۔

سندھ اسمبلی میں متحدہ کے ڈپٹی پارلیمانی رہنما فیصل سبزواری کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے رابطے جاری ہیں مگر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد