BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 30 October, 2008, 22:50 GMT 03:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ:کمشنریٹ نظام کی تیاریاں

سندھ اسمبلی(فائل فوٹو)
’حکومت پولیس کے نظام میں تبدیلی لانے کے لیے بھی اسمبلی میں ایک بل پیش کرے گی‘
حکومتِ سندھ نے صوبے میں کمشنریٹ نظام کی بحالی کے لیے تیاریاں شروع کردی ہیں اور اس سلسلے میں آئندہ مہینے شروع ہونے والے صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں ایک بل پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

صوبائی وزیر قانون ایاز سومرو نے بی بی سی کو بتایا کہ صوبائی وزارت قانون مجوزہ بل کے مسودے کی تیاری کا کام کر رہی ہے اور اس سلسلے میں حلیف جماعتوں سے مشاورت بھی کی جا رہی ہے۔

’آج ہماری (اس سلسلے میں) ایک میٹنگ ہوئی تھی جس میں ایم کیو ایم کے (پارلیمانی لیڈر) سید سردار احمد اور (ڈپٹی پارلیمانی لیڈر) فیصل سبزواری نے بھی شرکت کی جس میں غور ہوا کہ سندھ میں کمشنریٹ سسٹم ہم کس طریقے سے 1973ء کے آئین کے مطابق رائج کریں۔‘

حکومت کے اندر حکومت
 ’اس نظام میں بہت ساری خامیاں ہیں، اس وجہ سے ہم چاہتے ہیں کہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے اس نظام کو بھی 1973ء کے آئین کی روح کے مطابق بنائے اور اس میں مثبت تبدیلیاں لائی جائیں کیونکہ حکومتوں کے اندر حکومتیں نہیں ہوتی ہیں
ایاز سومرو
انہوں نے کہا کہ 1973ء کے آئین پر سب کا اتفاق ہے اسی لیے حکومت چاہتی ہے کہ اس آئین کی روشنی میں کمشنریٹ نظام کو بحال کرے۔ ان کے بقول اس کی ٹھوس وجوہات ہیں۔’صوبائی حکومت کا ضلعی انتظامیہ پر بہت خرچہ ہورہا ہے۔ پچھلی حکومت نے اپنے اس وقت کے ریاستی بھوتاروں کو نئے نئے ضلع بناکر دیے کہ جی یہ اے کی جاگیر ہے، یہ بی کی جاگیر ہے یہ سی کی جاگیر ہے۔ ان اضلاع پر کتنا خرچہ آرہا ہے؟ کیا سندھ حکومت اس خرچہ کو برداشت کرسکتی ہے؟‘

انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت محکمہ پولیس کے نظام میں تبدیلی لانے کے لیے بھی اسمبلی میں ایک بل پیش کرے گی جس کا مسودہ بھی تیاری کے مرحلے میں ہے۔

’پچھلی حکومت نے پولیس کے محکمے کو دو حصوں میں تقسیم کردیا تھا۔ ایک انویسٹی گیشن اور دوسرا آپریشن۔ ہم چاہتے ہیں کہ انویسٹی گیشن کے شعبے کو ختم کردیا جائے کیونکہ اس پر خرچہ بھی بہت آرہا ہے اور عام لوگوں کو ریلیف بھی کم مل رہا ہے۔‘ ایاز سومرو نے بتایا کہ یہ اقدامات پارٹی کے شریک چئرپرسن اور صدر مملکت آصف علی زرداری کی ہدایات کی روشنی میں کیے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت موجودہ بلدیاتی نظام میں بھی بعض تبدیلیاں لانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ’اس نظام میں بہت ساری خامیاں ہیں، اس وجہ سے ہم چاہتے ہیں کہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے اس نظام کو بھی 1973ء کے آئین کی روح کے مطابق بنائے اور اس میں مثبت تبدیلیاں لائی جائیں کیونکہ حکومتوں کے اندر حکومتیں نہیں ہوتی ہیں۔‘

پولیس کا محکمہ
 ’پچھلی حکومت نے پولیس کے محکمے کو دو حصوں میں تقسیم کردیا تھا۔ ایک انویسٹی گیشن اور دوسرا آپریشن۔ ہم چاہتے ہیں کہ انویسٹی گیشن کے شعبے کو ختم کردیا جائے کیونکہ اس پر خرچہ بھی بہت آرہا ہے اور عام لوگوں کو ریلیف بھی کم مل رہا ہے
ایاز سومرو
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی بلدیاتی نظام کو قائم رکھنا چاہتی ہے۔ ’یہ تو عوام کا بنیادی حق ہے لیکن مشرف حکومت کے دور میں جو آرڈیننس جاری ہوئے ان کو ہم فالو نہیں کریں گے۔ اب عوامی حکومت ہے جو عوام کے خواہشات کے مطابق اس نظام کو بہتر بنائے گی۔‘

انہوں نے بتایا کہ سندھ میں جنگلی حیات کے غیرقانونی شکار کی روک تھام اور سرکاری اور نجی زمینوں پر ناجائز قبضے ختم کرانے کے لیے متعلقہ قوانین میں ترامیم بھی زیر غور ہیں جن کے ذریعے ان جرائم کی سزاؤں میں اضافہ کیا جائے گا۔

’فرض کریں کہ اگر قانون کی کسی سیکشن میں کسی جانور کو مارنے پر جرمانہ ہے ایک ہزار روپے، تو ہم اسے بڑھاکر پچاس ہزار کررہے ہیں، اگر اس کی دو سال قید کی سزا ہے تو اسے پانچ سال کررہے ہیں اور ان جرائم کی سماعت کو سیشن کورٹوں کے دائرے میں لارہے ہیں۔‘

دوسری طرف ایم کیو ایم کے سندھ اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر فیصل سبزواری کا کہنا ہے کہ وہ کمشنریٹ نظام کی بحالی کی تجویز پر مجوزہ بل کے مسودے کا جائزہ لینے کے بعد اپنی رائے کا اظہار کریں گے۔

’ہمیں ابھی تک انہوں نے اپنا مسودہ نہیں دیا، جب مسودہ مل جائے گا تو ہم اس پر اپنی پارلیمانی پارٹی میں غور کریں گے اور اپنے اصولوں کی بنیاد پر اس پر اپنا مؤقف اختیار کریں گے۔‘

انہوں نے ضلعی حکومتوں کے نظام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’ایم کیو ایم جب صوبائی خودمختاری کی بات کرتی ہے اور ایک ایسا وفاق چاہتی ہے جس کے پاس صرف تین محکمے ہوں اور باقی تمام اختیارات صوبوں کے پاس ہوں تو وہاں یہ بھی چاہتی ہے کہ صوبے بھی تمام اختیارات خود تک محدود نہ رکھیں بلکہ جن محکموں کی ضرورت اضلاع کو ہو وہ انہیں منتقل کیے جائیں۔‘

اسی بارے میں
نام میں سب رکھا ہے
16 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد