’بیشتر ناظمین کو ہٹانا ضروری ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناءاللہ خان نے کہا ہےکہ بلدیاتی اداروں کے حسابات کی چھان بین دراصل اس تبدیلی کا آغاز ہے کہ جس کے تحت ان ناظمین اور نائب ناظمین کو ہٹا دیا جائے گا جو ان کے بقول بلدیاتی اداروں پر بوجھ بن چکے ہیں۔ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کے تحت مقامی حکومت کے کسی بھی عہدیدار کو بے ضابطگی کی بنیاد پر نہ صرف برطرف بلکہ گرفتار کیا جاسکتا ہے اور اس کا اختیار صوبے کے وزیر اعلیٰ کے پاس ہے۔ سندھ میں ایک اور پنجاب میں پانچ کے سوا تمام اضلاع کے ناظمین مسلم لیگ قاف یا اس کے اتحادیوں کے حمایت یافتہ ہیں۔ پنجاب کے وزیر قانون و پارلیمانی امور رانا ثناءاللہ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بیشتر ضلعی حکومتوں کے ناظم اور نائب ناظم اداروں پر بوجھ بن چکے ہیں اورانہیں ہٹانا ضروری ہے۔ عام انتخابات سے پہلے پنجاب کے سابق وزیر قانون راجہ بشارت کا یہ خیال تھا کہ شاید آنے والی حکومت ہر ضلع اور ہر تحصیل میں ایک نئی محاذ آرائی کی متحمل نہیں ہو سکے گی۔ اس لیے بلدیاتی حکومتوں کو فوری خطرہ نہیں ہے اور وہ ڈیڑھ برس کی باقی مدت پوری کریں گی لیکن سندھ اور پنجاب میں بظاہر یوں محسوس ہو رہا ہے کہ مقامی حکومتوں کی تبدیلی کا عمل شروع ہوگیا ہے۔
سندھ میں جیکب آباد کی ضلعی ناظمہ سعیدہ سومرو کے خلاف تحریک عدم اعتماد آچکی ہے اور دوتہائی ووٹوں سے انہیں تبدیل کیاجاسکے گا جبکہ ضلع تھر کے ناظم کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے البتہ یہ معاملہ عدالت میں زیر غور ہے۔ پیپلز پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی اور حیدرآباد کے سوا بیشتر اضلاع میں تحاریک عدم اعتماد پر کام کیا جا رہا ہے۔ لوکل گورنمنٹ آرڈنینس مجریہ دوہزار پانچ کے تحت ضلعی ناظم کو دوتہائی اور نائب ناظم کو سادہ اکثریت سے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ البتہ پنجاب میں یہ طریقہ کار استعمال نہیں کیا جارہا بلکہ اسی قانون کی اس شق کو استعمال میں لائے جانے پر غور ہورہا ہے جس کے تحت بے ضابطگی کے الزام میں برطرفی اور گرفتاری عمل میں لائی جاسکتی ہے۔ پنجاب کےوزیرقانون کہتے ہیں کہ بے ضابطگی تو ناظمین کا غیرجماعتی بنیادوں پر منتخب ہونے کے بعد مسلم لیگ قاف میں شامل ہونا بھی ہے کیونکہ بعض تو باقاعدہ مسلم لیگ قاف کے عہدیدار ہیں۔
اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے پینتیس اضلاع کے اسی فی صد سے زیادہ ناظمین نے اپنے بھائی، بیٹوں اور بیویوں کے لیے عام انتخابات میں مسلم لیگ قاف کے ٹکٹ لیے اور کھلم کھلا مسلم لیگ قاف کی انتخابی مہم چلائی اور جلسے کیے۔ مسلم لیگ نون سےتعلق رکھنے والے صوبائی وزیر نے کہا کہ ان کے یہ دونوں عمل ان کی برطرفی کے لیے کافی ہیں لیکن کے اس کے باوجود حسابات کی جانچ پڑتال شروع کی گئی ہے تاکہ کسی کے پاس اعتراض کی کوئی گنجائش ہی نہ رہے۔ یہ چھان بین آڈیٹر جنرل سے کروائی جارہی ہے۔ وزیراعلی پنجاب سردار دوست محمد کھوسہ نے جمعہ کولاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلدیاتی اداروں کے حسابات کی جانچ پڑتال کے عمل کو بلا امتیاز قرار دیا اور کہا کہ یہ کوئی انتقامی کارروائی نہیں ہے۔ تاہم سیاسی مبصرین کہتےہیں دیکھنا یہ ہے حسابات کے جانچ پڑتال کے بعد برطرفیوں کی ممکنہ کارروائیوں سے ہی واضح ہو گا کہ نشانہ صرف مسلم لیگ قاف کے ہی حمایت یافتہ ناظمین ہیں یا نہیں۔ |
اسی بارے میں ناظمین پر ایم ایم اے میں اختلافات 27 August, 2005 | پاکستان دوسرے مرحلے کےابتدائی نتائج 27 August, 2005 | پاکستان تشدد آمیز دوسرے مرحلے کا اختتام25 August, 2005 | پاکستان سندھ: 12 اضلاع میں سے4 حساس23 August, 2005 | پاکستان حساس ضلعوں میں فوج آگئی23 August, 2005 | پاکستان صندوق کاتقدس ایک بار پھر مجروح 20 August, 2005 | پاکستان سندھ، پنجاب: حکومتی پلڑا بھاری19 August, 2005 | پاکستان سندھ : حکمران اتحاد کا پلڑا بھاری 18 August, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||