سندھ: رخ بدلتے سیاسی مقدمات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ کے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کےآبائی علاقے خیرپور کےضلعی ناظم نے شکایت کی ہے کہ پولیس نے ان کے خلاف بھنگ کی کاشت اورفروخت کےمقدمات درج کیے ہیں۔ ضلعی ناظم نیاز حسین شاہ نےگزشتہ دنوں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نارو کے علاقے میں ان کی زرعی زمین ہے اور نہ وہ کسی قسم کی کاشت کاری کرتے ہیں۔انہوں نے پیپلزپارٹی کی مقامی قیادت اور پولیس پر سیاسی انتقام کا الزام لگایا ہے۔ نیاز حسین شاہ کا تعلق پیر پگاڑا کی مسلم لیگ فنکشنل سے ہے ۔وہ پیپلزپارٹی کے رہنماء سید قائم علی شاہ کی بیٹی نفیسہ شاہ کے بعد متنازعہ بلدیاتی انتخابات میں خیرپور کےضلعی ناظم بنے تھے۔ دوسری جانب پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی نواب وسان نے سیاسی انتقام کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کے پاس اگر شکایات ہونگی تو ضلعی ناظم ہو یا عام آدمی قانونی چارہ جوئی ضرور ہوگی۔انہوں نےکہا کہ مسلم لیگ فنکشنل نے اپنے دور اقتدار میں خصوصی طور پر خیرپور میں پیپلزپارٹی کےکارکنان کو انتقامی کاروائیوں کا نشانہ بنایا۔ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد خیرپورمیں پیپلزپارٹی کے حامیوں پر دہشتگردی کےسینکڑوں مقدمات درج کیےگئے تھے۔ پیپلزپارٹی کےمقامی رہنماؤں کےمطابق پولیس نےنابینا اورضعیف العمرافراد کےخلاف بھی بینکوں کو نذرآتش کرنےاور مرحومین کے خلاف بھی مقدمات درج کیے۔ تاہم اب خیرپور میں سیاسی مقدمات کاموسم بہت تیز رفتاری سے تبدیل ہورہا ہے ایک طرف پیپلزپارٹی کےکارکنان اور حامیوں کےخلاف قائم مقدمات ختم کیے جا رہے ہیں تو دوسری جانب ضلعی ناظم کے خلاف مقدمات درج کردیےگئے ہیں۔ سندھ میں سیاستدانوں اور بھنگ کا آپس میں قریبی تعلق تو رہا ہے مگر کسی ضلعی ناظم کےخلاف بھنگ کی کاشت اور فروخت کا یہ پہلا مقدمہ ہے۔ جنرل ضیاء کےمارشل لاء کےدوران پیپلزپارٹی کےروپوش رہنماؤں پر بھنگ استعمال کرنے کے مقدمات درج کرنے کی تیاریاں کی گئی تھیں مگر اس وقت وہ کامیاب نہ ہوسکیں۔ خیرپور میں بھنگ کی کاشت عام ہے مگر جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کےدوران پابندی کے بعد بھنگ کا ملنا موالیوں کے لیےکسی معـجزے سے کم نہیں تھا۔ خیرپور کے ایک بھنگ موالی شیر محمد کا کہنا تھا کہ کرونڈی کے علاقے میں گھروں کی چھتوں پر محدود مقدار میں ذاتی استعمال کے لیے بھنگ کاشت کی جاتی رہی۔ شیر محمد کےمطابق پولیس افسران نے جب کرونڈی کےہیسبانی فقیروں کو چھتوں پر بھنگ کاشت کرنے سے منع کیا تو انہوں نے پولیس کو یہ کہہ کر لاجواب کردیا کہ بھنگ کی کاشت پرکھیتوں میں پابندی ہے مگرگھروں کی چھتوں پر تو نہیں۔ سندھ میں سیاسی بنیادوں پر معمولی جرم کے انوکھے قسم کےمقدمات کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ شاہ عبدالطیف یونیورسٹی خیرپور میں پولیٹیکل سائنس کے پروفیسرامیر چانڈیو کا کہنا ہے کہ سندھ میں سیاسی مخالفین کےخلاف مختلف ادوار میں پانی چوری، بھینس چوری، کفن چوری اور سپاہی کی ٹوپی چوری کرنے جیسے مقدمات درج ہوئے ہیں۔جن کی وقت گزرنے کےبعد اہمیت ہوتی ہےاورنہ ہی سنجیدگی سےکوئی قانونی چارہ جوئی کی جاتی ہے۔ | اسی بارے میں خیرپورمیں فائرنگ، رینجرز طلب21 March, 2008 | پاکستان سندھ ہنگامے: مرحوم، نابینا اور معذور ملزم23 January, 2008 | پاکستان سندھ: ہزاروں کے خلاف مقدمات درج31 December, 2007 | پاکستان سندھ: ہنگامے، فوج الرٹ28 December, 2007 | پاکستان سندھ: ہنگامے، املاک نذر آتش 27 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||