جیکب آباد کی ناظمہ پر عدم اعتماد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جیکب آباد کی ضلعی اسمبلی میں پیپلز پارٹی سے وابستہ اراکین نے ضلعی ناظمہ بیگم سعیدہ سومرو کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کرانے کی قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کر لی ہے۔ ضلعی اسمبلی نے الیکشن کمیشن سے سفارش کی ہے کہ عدم اعتماد کی ووٹنگ کے لیے تاریخ مقرر کی جائے۔ سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس دو ہزار ایک کی دفعات ساٹھ و اکسٹھ کے مطابق کسی بھی ضلعی ناظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد الیکشن کمیشن کی جانب سے مقرر کردہ ریٹرننگ افسر کی زیرِ نگرانی خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہوگی اور اس کی کامیابی کےلیے دو تہائی اراکین کی حمایت ضروری ہے۔ جیکب آباد کی ضلعی ناظمہ بیگم سعیدہ سومرو سینیٹ چیئرمین محمد میاں سومرو کی والدہ ہیں اور انہوں نے سترہ اکتوبر دو ہزار پانچ کے بلدیاتی انتخابات میں پیپلزپارٹی کی مقامی قیادت کی مدد سے کامیابی حاصل کی تھی۔ پیپلزپارٹی نے بیگم سعیدہ سومرو کے مقابلےمیں اپنے کسی امیدوار کو میدان میں نہیں اتارا تھا۔ سینیٹ چیئرمین محمد میاں سومرو اپنی والدہ کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام بنانے کے لیےگزشتہ ہفتے دو دن جیکب آباد کے دورے پر بھی آئے تھے مگر انہیں ماضی کےاتحادیوں نے مایوس کن جواب دیا۔ جیکب آباد کی ضلعی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیپلزپارٹی کےضلعی جنرل سیکرٹری اور رکن ضلع اسمبلی عبدالستار بروہی نے پیش کی ۔ انہوں نے اپنی تقریر میں بیگم سعیدہ سومرو کی ماضی میں حمایت کرنے پر جیکب آباد کے عوام سےمعافی مانگی اور ضلعی ناظمہ کے خلاف اقرباء پروری اور عوامی بہبود کے کام نہ کرانے کے الزامات لگائے۔ جبکہ ضلعی ناظمہ سعیدہ سومرو نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور ایوان کو آگاہ کیا کہ انہوں نے چھیاسٹھ کروڑ کے ترقیاتی منصوبے دیےاور جیکب آباد میں نرسنگ کالج اور انجینئرنگ کالج کا سنگ بنیاد رکھا۔ جیکب آباد کی ضلعی اسمبلی چون اراکین پر مشتمل ہے جس میں پیپلز پارٹی کے عوام دوست گروپ کے بتیس اراکین ہیں۔ پیپلزپارٹی کو تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے چھ مزید اراکین کی حمایت درکار ہوگی اور پیپلزپارٹی کے ضلعی صدر اور رکن قومی اسمبلی اعجاز جاکھرانی کا کہنا ہے کہ مزید اراکین کی حمایت کا بندوبست کر لیا گیا ہے۔ بلدیاتی انتخابات کے دوران سندھ میں صدر مشرف کے حامی امیدواروں کو مبینہ طور پر خفیہ ایجنسیوں کی مدد سے کامیاب کرایا گیا تھا جس کےنتیجےمیں سندھ کی اکیس ضلعی حکومتوں میں سے پیپلزپارٹی صرف نوابشاہ کی ایک ضلعی حکومت حاصل کر سکی تھی اور اب جیکب آباد میں مسلم قاف کی ضلعی ناظمہ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کی صورت میں پیپلزپارٹی سندھ کے دیگر اضلاع میں بھی اسی عمل کو دہرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ | اسی بارے میں نتائج ناظمین کے لیے’خطرے کی گھنٹی‘28 February, 2008 | پاکستان سندھ سے تیس خواتین امیدوار ہیں27 December, 2007 | پاکستان قومی انتخابات کے ’بلدیاتی‘ امیدوار08 December, 2007 | پاکستان آئندہ حکومتوں سے مشرف کا وعدہ07 March, 2008 | پاکستان الیکشن، انتخابی حریف اور رشتہ دار28 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||