نتائج ناظمین کے لیے’خطرے کی گھنٹی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں جوں جوں مرکز اور صوبوں میں حکومت سازی کے مراحل طے ہو رہے ہیں مسلم لیگ قاف اور اس کی اتحادی جماعتوں کے حمایت یافتہ بیشتر بلدیاتی نمائندوں میں اپنے اقتدار کے خاتمے کے خطرے کا احساس بڑھتا جا رہا ہے۔ خطرے کی یہ گھنٹی اسی وقت بج اٹھی تھی جب عام انتخابات میں صدر مشرف مخالف سیاسی جماعتوں نے واضح برتری حاصل کر لی تھی۔ عام خیال یہی ہے کہ مرکز اور صوبوں میں نئی حکومتوں کے قیام کے بعد نئے حکمرانوں کے ذہن میں پہلا بڑا سوال یہ ضرور آئے گا کہ ان ناظمین کا کیا کیا جائے جنہوں نے مبینہ طور ہر عام انتخابات میں انہیں ہرانے کی حتی المقدور کوشش کی۔ صوبہ سندھ کے ضلع جیکب آباد سے پیپلز پارٹی کے نومنتخب رکن قومی اسمبلی میر اعجاز جاکھرانی کا کہنا ہے کہ وہ سندھ میں حکومت کی تشکیل کے فوراً بعد ضلعی ناظمہ سعیدہ سومرو کے خلاف تحریِک عدم اعتماد لائیں گے۔ انہوں نے بی بی سی سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’حکومت بن جانے دیں صرف پندرہ دن کے اندر تحریک عدم اعتماد آئے گی‘۔ ان کا دعوٰی تھا کہ اس بلدیاتی دور میں ان کے رشتہ داروں پر مقدمات بنائے گئے،ان کے کزن سجاد جکھرانی کو گرفتار کیا گیا اور’ابھی تک وہ زیرِ حراست ہیں‘۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سنہ دو ہزار پانچ کے بلدیاتی آرڈیننس میں ایسی ترامیم متعارف کروائی گئی ہیں جن کے بعد کسی بھی ضلعی ناظم کے خلاف دو تہائی اکثریت اور نائب ناظم کے خلاف سادہ اکثریت سے تحریک عدم اعتماد منظور کرائی جا سکتی ہے۔ سندھ میں ایک اور پنجاب میں پانچ کے سوا تمام اضلاع کے ناظمین مسلم لیگ قاف یا اس کے اتحادیوں کے حمایت یافتہ ہیں۔ سابق وزیر قانون راجہ بشارت کہتے ہیں کہ’آنے والی حکومت ہر ضلع اور ہر تحصیل میں ایک نئی محاذ آرائی کی متحمل نہیں ہو سکے گی۔ اس لیے بلدیاتی حکومتوں کو فوری خطرہ نہیں ہے اور وہ باقی ماندہ ڈیڑھ برس پورا کریں گی‘۔ فیصل آباد کے ضلعی ناظم رانا زاہد توصیف کا بھی یہی خیال ہے۔انہوں نے کہا کہ’جب ملک میں ایک طرف قومی مفاہمت کی بات کی جا رہی ہے تودوسری طرف بلدیاتی اداروں سے چھیڑ چھاڑ کوئی دانشمندانہ اقدام نہیں ہوگا۔ البتہ مسلم لیگ نون کے رہنما رانا ثناء اللہ کہتے ہیں کہ متوقع وزیر اعلی شہباز شریف حلف اٹھانے کے بعد جن ضروری امور پر فوری توجہ دیں گے ان میں بلدیاتی اداروں کامعاملہ بھی شامل ہوگا۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ناظمین کوہٹانے کے لیے عدم اعتماد کی تحریک کے علاوہ لوکل باڈی آرڈنینس میں ترمیم بھی کی جا سکتی ہے۔
سابق وزیر قانون راجہ بشارت نے آرڈنینس میں کسی نئی ترمیم کا امکان کو رد کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے لیے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت کے علاوہ بل پر صدر کے دستخط بھی چاہیے ہیں جو ایک مشکل کام دکھائی دیتا ہے۔ تاہم پنجاب کی ممکنہ حکمران جماعت مسلم لیگ نون کے رہنما رانا ثناءاللہ کا کہنا ہے کہ موجودہ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس میں ہی ناظمین سے چھٹکارے کا نظام موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ قانون کے تحت کسی بھی ناظم کو بے ضابطگی کے الزام میں معطل کیا جاسکتا ہے اور انکوائری کے بعد اسے برطرف،واپس یا جیل بھجوایا جا سکتاہے۔ انہوں نے کہا کہ بیشتر ناظمین نے دو بڑی خلاف ورزیاں کی ہیں۔اول تو یہ کہ وہ غیر جماعتی بنیادوں پر منتخب ہونے کے بعد مسلم لیگ قاف میں چلے گئے اور دوئم یہ کہ عام انتخابات میں اپنے بھائی بیٹوں،بیٹیوں اور دیگر رشتہ داروں کے لے مسلم لیگ قاف کا ٹکٹ حاصل کر کے ان کی انتخابی مہم چلاتے رہے۔ | اسی بارے میں ’مشرف کو بتا دو ایک دن بھی انتظار نہیں کریں گے‘27 February, 2008 | الیکشن 2008 اقتدار کی منتقلی میں دیر کیوں؟26 February, 2008 | الیکشن 2008 نئی حکومت: امید کی ایک کرن23 February, 2008 | الیکشن 2008 حکومت سازی،ملاقاتیں شروع21 February, 2008 | الیکشن 2008 دھاندلی کی تحقیقات کا مطالبہ21 February, 2008 | الیکشن 2008 ’آزاد ارکان سیاسی وابستگی ظاہرکریں‘21 February, 2008 | الیکشن 2008 متحدہ کو نظرانداز کرنا آسان نہیں20 February, 2008 | الیکشن 2008 ممکنہ حکمران اتحاد اور دو تہائی اکثریت 20 February, 2008 | الیکشن 2008 | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||