BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Friday, 12 September, 2008, 09:30 GMT 14:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سرحد پار‘ سے حملے: ٹائم لائن

پاکستان کے قبائلی علاقوں خصوصاً شمالی اور جنوبی وزیرستان میں میزائل حملوں میں حالیہ دنوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ سرحد پار سے کیے جانے والے حملوں کے تواتر کے ساتھ ساتھ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تناؤ کی صورت حال بھی پیدا ہوئی ہے۔ جس کے بعد امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے چیئرمین ایڈمرل مائیک مولن نے سترہ ستمبر کو پاکستانی وزیراعظم اور بری فوج کے سربراہ کے ساتھ ملاقات کی اور کہا کہ ’پاکستان کی خودمختاری کا احترام کیا جائے گا‘۔۔۔ تاہم اسی شام امریکی جاسوس طیاروں نے جنوبی وزیرستان کے باغاڑ چینا علاقے میں میزائل داغے، جس سے پانچ افراد ہلاک ہوئے۔

سالِ رواں میں ہونے والے امریکی حملوں میں مقامی طالبان کے علاوہ بڑی تعداد میں عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔


انتیس جنوری: میر علی

اس برس میزائل حملے کا پہلا واقعہ انتیس جنوری کو پیش آیا جب شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی کے گاؤں خوشحالی میں ستار نامی شخص کے مکان پر ایک میزائل لگا جس کے نتیجہ میں مقامی حکام کے مطابق بارہ افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ یہ اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ اس حملے میں ہلاک ہونے والوں میں القاعدہ کے رہنما ابو الليث اللبي بھی شامل تھے۔


اٹھائیس فروری: کالوشہ

دوسرا حملہ اٹھائیس فروری کو جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا سے قریباً دس کلومیٹر مغرب کی جانب افغان سرحد کے قریب اعظم ورسک کے علاقے کالوشہ میں ہوا اور اس میں آٹھ طالبان ہلاک ہوگئے۔مقامی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ترکمان، عرب اور پنجابی طالبان شامل تھے۔


سولہ مارچ، نواز کوٹ

قریباً دو ہفتے بعد سولہ مارچ کو جنوبی وزیرستان کا گاؤں شاہ نواز کوٹ میزائل حملے کا نشانہ بنا۔ حملے میں اٹھارہ افراد ہلاک جبکہ سات زخمی ہوئے۔پاکستانی حکام کے مطابق اس کارروائی میں ہلاک ہونے والوں میں عرب نژاد غیر ملکیوں کے علاوہ کراچی کے کور کمانڈر پر حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں مطلوب ڈاکٹر وحید ارشد بھی شامل تھے۔


چودہ مئی، پوی کلی

چودہ مئی کو باجوڑ کے علاقہ ڈمہ ڈولہ کے گاؤں پوی کلی میں جاسوس طیاروں کے حملے کا تیسرا واقعہ پیش آیا۔ اس حملے میں طیاروں سے عبیداللہ نامی شخص کے گھر پر دوگائیڈ ڈ میزائل داغے گئے جن سے تین بچوں سمیت سات افراد ہلاک اور چھ زخمی ہو گئے۔ ہلاک ہونے والے چار افراد کا تعلق تحریک طالبان سے بتایا گیا۔

اس حملے کے بعد پہلی مرتبہ حکومتِ پاکستان نے سرکاری طور پر اس بات کا اعتراف کیا کہ قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں ایک گھر پر ہونے والا میزائل حملہ امریکہ نے کیا تھا۔


گیارہ جون، مہمند

گیارہ جون کو امریکہ کی جانب سے پاکستانی حدود میں کارروائی کا ایک اور واقعہ پیش آیا جب امریکی طیاروں نے پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے ایک ٹھکانے پر بمباری کر دی جس کے نتیجہ میں گیارہ اہلکاروں سمیت انیس افراد ہلاک ہوگئے۔


اٹھائیس جولائی، اعظم ورسک

جولائی کے آخر میں جنوبی وزیرستان کے علاقے اعظم ورسک میں ایک میزائل حملے میں سات افراد ہلاک ہوئے جن میں اطلاعات کے مطابق القاعدہ کے اہم رہنما اور بم بنانے کے ماہر مدحت مصری المعروف ابوخباب المصری بھی شامل تھے۔


تیرہ اگست، باغڑ

اٹھائیس جولائی کا حملہ مبینہ طور پر امریکہ کی جانب سے سرحد پار پاکستانی علاقے میں کارروائیوں میں آنے والی حالیہ تیزی کا نقطۂ آغاز ثابت ہوا اور تیرہ اگست کو وانا سے تیس کلومیٹر دور افغان سرحد کے قریب علاقہ باغڑ میں ایک مکان پر چار میزائل گرے جس سے ایک درجن سے زیادہ لوگ ہلاک ہوگئے۔مقامی انتظامیہ کے مطابق اس مکان میں ملا نذیر گروپ کے مقامی طالبان جنگجو رہائش پذیر تھے جو حملے کا نشانہ بنے۔


بیس اگست، زیڑی نور

سات دن کے بعد بیس اگست کو جنوبی وزیرستان میں ہی افغانستان سے داغے گئے دو میزائل زیڑی نور میں یعقوب مغل خیل وزیر نامی قبائلی کے مکان پر گرے جس سے کم از کم چھ لوگ ہلاک ہو گئے۔ مقامی لوگوں کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں پنجابی طالبان اور غیر ملکی عرب شامل تھے۔


اکتیس اگست، تپئی

ماہِ اگست کے آخری دن شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ سے قریباً پندرہ کلومیٹر مشرق کی جانب علاقہ تپئی میں داوڑ قبیلے کے ایک رکن سوار خان داوڑ کے مکان پر میزائل حملہ ہوا جس کے نتیجہ میں چار افراد ہلاک جبکہ دو زخمی ہوگئے۔


تین ستمبر، موسٰی نیکہ

تین ستمبر کو امریکی فوج نے جنوبی وزیرستان میں موسی نیکہ کے علاقے میں زمینی کارروائی کی جس میں قریباً بیس مقامی افراد مارے گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔


چار ستمبر، چار خیل

اس کارروائی سے اگلے ہی دن چار ستمبر کو شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ کے علاقہ چارخیل میں رحمن والی خان اور فرمان نامی افراد کے مکان پر تین میزائل گرے، جس کے نتیجہ میں پانچ افراد ہلاک اور چار زخمی ہوگئے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مقامی طالبان نے لاشوں کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا اس لیے یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ ہلاک ہونے والے مقامی ہیں یا ان میں غیر ملکی بھی شامل ہیں۔


آٹھ ستمبر، ڈانڈے درپہ خیل

آٹھ ستمبر کو جاسوس طیاروں نے شمالی وزیرستان میں ڈانڈے درپہ خیل میں واقع طالبان کمانڈر جلال الدین حقانی کے گھر اور مدرسے کو سات میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ اس حملے میں کم از کم بیس افراد ہلاک ہوئے۔


اسی دوران امریکہ کے چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی مائیک مولن نے امریکی کانگریس کی ایک کمیٹی کے سامنے بیان دیا کہ امریکہ طالبان سے متعلق اپنی حکمتِ عملی تبدیل کر رہا ہے جس کے تحت اب سرحد پار کر کے پاکستان کے اندر طالبان پر بھی حملے ہو سکتے ہیں اور پھر امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی یہ رپورٹ بھی منظرِ عام پر آئی جس میں کہا گیا کہ امریکی صدر بش نے جولائی میں پاکستانی حکومت کو مطلع کیے بغیر پاکستان کی حدود میں کارروائی کی خفیہ اجازت دی تھی۔


بارہ ستمبر، ٹول خیل

تاہم ان رپورٹوں کی اشاعت اور پاکستانی حکام کی جانب سے ان پر سخت ردعمل کے باوجود میزائل حملوں کا سلسلہ تھما نہیں اور جمعہ بارہ ستمبر کو پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں افغان سرحد کے قریب امریکی جاسوس طیاروں نے ایک مکان اور پرائمری سکول کو میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں بارہ افراد ہلاک ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر مقامی طالبان بتائے جاتے ہیں۔


: سترہ ستمبر: باغاڑہ چینا پر حملہ

جنوبی وزیرستان کی مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بدھ کی شام امریکی جاسوس طیارے نے چار میزائل داغے جس سے پانچ افراد ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔ حکام نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی وزیرستان کے تیس کلومیٹر دور باغاڑ چینا میں امریکی جاسوس طیارے نے چار میزائل داغے جن میں سے دو ایک گھر پر گرے اور دو میزائل پہاڑیوں پر لگے۔


نو اکتوبر: غونڈئی پر حملہ

پاکستان کے علاقے شمالی وزیرستان میں ایک مکان پر امریکی جاسوس طیارے سے داغے گئے دو میزائل گرنے سے کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔ بی بی سی کے نمائندے نے مقامی لوگوں کے حوالے سے بتایا کہ جمعرات کی رات دس بجے کے قریب میران شاہ سے قریباً بارہ کلومیٹر دور مشرق کی جانب تپئی کے علاقے غونڈئی میں امریکی جاسوس طیارے سے دو میزائل فائر کیے گئے۔ تپئی کا علاقہ طالبان کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔



گیارہ اکتوبر: میران شاہ ماچس پر حملہ

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں سنیچر کی شب امریکی جاسوس طیاروں کے میزائل حملے میں کم از کم چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ شمالی وزیرستان کی مقامی انتظامیہ کے مطابق یہ حملہ میران شاہ سے دو کلومیٹر دور واقع ماچس نامی گاؤں میں کیا گیا جہاں امریکی طیاروں نے مقامی ایجنسی کونسلر عمر دراز عرف پاتس خان داوڑ کے مکان پر دو میزائل داغے۔



سولہ اکتوبر: سام تپڑ غئی پر حملہ

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں پہلی مرتبہ طالبان کمانڈر بیت اللہ محسود کے زیر کنٹرول علاقے میں افغانستان سے مبینہ طور پر امریکی میزائل حملہ ہوا، جس میں پانچ افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ جمعرات کی صبح ساڑھے گیارہ بجے جنوبی وزیرستان کی تحصیل لدھا کے علاقے سام ٹپرغئی میں افغانستان سے مبینہ طور پر دو میزائل داغے گئے جو مقامی افراد ڈاکٹر بشار اور غازی مرجان کے مکانات پر گرے۔ان کے بقول حملے کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔



تئیس اکتوبر: ڈنڈہ درپہ خیل پر حملہ

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ایک مدرسے پر مبینہ امریکی میزائل حملے کی اطلاعات ہیں جس میں کم سے کم آٹھ افراد ہلاک جبکہ چھ زخمی بتائے گئے۔ مقامی لوگوں کے بقول میزائل میرانشاہ سے تقریباً کئی کلومیٹر دو ڈنڈہ درپہ خیل میں واقع ایک دینی مدرسے ’سراج العلوم’ پر گرے ہیں جس سے ان کے مطابق کم سے کم سات طالبعلم ہلاک جبکہ چھ زخمی ہوگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ کہ مرنے والے تمام افراد مقامی تھے۔ عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ مدرسے کا آدھا حصہ تباہ ہوگیا ہے۔



چھبیس اکتوبر: شکائی، مندتہ پر حملہ

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں امریکی جاسوس طیارے کے ایک مبینہ میزائل حملے میں مقامی طالبان کمانڈ محمد عمر سمیت بیس افراد ہلاک ہوگئے۔ حملے میں ایک مکان مکمل طور پر تباہ جب کہ دو مکانوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ محمد عمر طالبان کے ہلاک شدہ کمانڈر نیک محمد کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے تھے اور انہوں نے افغانستان میں شمالی اتحاد کے خلاف طالبان کی لڑائی میں بھی حصہ لیا تھا۔ مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اتوار کو رات گیارہ بجے کے قریب جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا سے تقریباً پچیس کلومیٹر دور شمال کی جانب تحصیل شکائی کے علاقہ مندتہ میں محمد عمر کے مکان پر جاسوس طیارے سے ایک میزائل داغا گیا۔

وزیرستان صورتحال
علاقے میں غیرملکیوں کی موجودگی حقیقت ہے۔
وزیرستان ’نقصان کا ازالہ‘
وزیرستان میں نقصان کے اندازے کے لیے کمیٹی
گھروں کو واپسی
وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی
بیت اللہ محسودبیت اللہ محسود
’بے نظیر قتل میں ملوث نہیں ہوں‘
وزیرستان آپریشن
’قبائلی علاقوں میں 400 ہلاک ہزاروں بےگھر‘
شدت پسندحامی یا مخالف
کیا ملا نذیر حکومت کے خلاف تیاری کر رہے ہیں
طالبان کا وزیرستان
ہارون کے کیمرے سے خصوصی تصاویر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد