BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 28 April, 2008, 14:37 GMT 19:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران پاکستان تعلقات اتار چڑھاؤ

احمدی نژاد اور مشرف
کیا۔ایوب خان کے زمانے میں سوویت یونین کے خلاف امریکی اتحادی یعنی ایران، ترکی اور پاکستان کی علاقائی دوستی کی مثالیں دی جاتی تھیں
ایران اور پاکستان کی نئی نسل شاید اس بات سے کم ہی واقف ہے کہ جب دونوں ممالک امریکی بلاک کا حصہ تھے تو ان میں کیسی گاڑھی چھنتی تھی۔

ایران پہلا ملک تھا جس نے پاکستان کی نئی مملکت کو تسلیم کیا۔ رضا شاہ پہلوی پہلے سربراہِ مملکت تھے جنہوں نے پاکستان کا دورہ کیا۔ایوب خان کے زمانے میں سوویت یونین کے خلاف امریکی اتحادی یعنی ایران، ترکی اور پاکستان کی علاقائی دوستی کی مثالیں دی جاتی تھیں۔ رضا شاہ پہلوی اکثر شکار کھیلنے کے لیے پاکستان آتے رہتے تھے۔ وہ پاکستانی فوج کی ایک رجمنٹ کے اعزازی کرنل کمانڈنٹ بھی تھے۔انکی ہمشیرہ اشرف پہلوی سال میں کئی مرتبہ پاکستان کا چکر لگاتی تھیں۔

ایران اور پاکستان کے مابین اقتصادی اور فوجی اشتراک ایک معمول کا لازمہ تصور ہوتا تھا۔اور انیس سو پینسٹھ کی پاکستان بھارت جنگ میں ایران نے پاکستان سے جتنا دفاعی تعاون کیا اس کا تذکرہ ایک عرصے تک پاکستان کی درسی کتابوں میں جاری رہا۔

لیکن ایران میں انیس سو انہتر کا انقلاب آتے ہی دو عظیم ہمسایہ اور برادر ممالک کے تعلقات کی بھی کایا پلٹ گئی۔ نئے ایران نے امریکہ کو شیطانِ بزرگ کا درجہ دیا تو امریکہ نے پاکستان کو آزاد دنیا کا محافظ قرار دیا۔

ایرانی انقلابی قیادت نے اس زمانے میں کئی مرتبہ کھل کر کہا کہ پاکستانی عوام امریکہ نواز حکومت سے نجات حاصل کر لیں۔ لیکن افغانستان میں روسی فوجوں کی آمد کے سبب پاکستان اور ایران کا علاقائی تعاون امریکہ کے کھلم کھلا ملوث ہونے کے باوجود ایک باہمی مجبوری تھی۔

ضیاء حکومت نے ایران عراق جنگ میں اگر ایران کا ساتھ نہیں دیا تو عراق کی بھی حمایت نہیں کی۔ بلکہ اسلامی کانفرنس کی امن کوششوں کے تناظر میں جنرل ضیاء الحق نے کئی مرتبہ تہران اور بغداد کا دورہ بھی کیا۔

انقلاب کے سات برس بعد صدر علی خامنہ ای پہلے اعلٰی ترین ایرانی تھے جنہوں نے فروری انیس سو چھیاسی میں پاکستان کا سرکاری دورہ کیا۔ اسکے ساتھ ساتھ ترکی، ایران اور پاکستان نے علاقائی تعاون کی متروک تنظیم آر سی ڈی کے ملبے پر نئی تنظیم ای سی او کی بنیاد رکھی جس میں سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد سات نوآزاد وسطی ایشائی ریاستیں بھی شامل ہوگئیں۔

تاہم مسلسل تبدیل شدہ علاقائی اور عالمی مفادات کے نتیجے میں ای سی او تئیس برس کے دوران بھی ایک مؤثر فورم نہ بن سکا۔ البتہ اس دور میں چین، ایران اور پاکستان کے مابین جوہری شعبے میں تعاون کا سراغ ملتا ہے۔

جب انیس سو اٹھاسی میں سوویت فوجوں نے افغانستان سے اپنا انخلاء مکمل کیا تو ایران پاکستان تعلقات میں بہتری کے بجائے کشیدگی پیدا ہوگئی۔ دونوں ممالک کے مابین افغانستان میں اپنا اپنا حلقہ اثر بڑھانے کی دوڑ شروع ہوگئی اور متحارب افغان گروہوں کی پشت پناہی کی دوڑ میں سعودی عرب کے کود جانے کے سبب اس کشیدگی نے فرقہ وارانہ اور علاقائی رنگ اختیار کرلیا جس کا نتیجہ پاکستان میں شیعہ سنی تشدد اور ایران قونصل جنرل صادق گنجی سمیت متعدد ایرانی شہریوں کی ہلاکت کی شکل میں ظاہر ہوا۔

اور جب انیس سو چھیانوے میں پاکستان اور سعودی عرب کے حمایت یافتہ طالبان نے کابل پر قبضہ کرلیا تو علاقائی صف بندی واضح ہوگئی جس میں ایک جانب بھارت، روس اور ایران تھے جو احمد شاہ مسعود کے شمالی اتحاد کی حمایت کررہے تھے تو دوسری جانب پاکستان اور سعودی عرب تھے جو امریکی رضامندی کے ساتھ کھل کر طالبان کا ساتھ دے رہے تھے۔

احمد شاہ مسعود
پاکستان اور سعودی عرب کے حمایت یافتہ طالبان نے کابل پر قبضہ کرلیا تو علاقائی صف بندی واضح ہوگئی

ان حالات میں صدر جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالنے کے دو ماہ بعد دسمبر انیس سو ننانوے میں تہران کا دورہ کیا جس میں پہلی مرتبہ افغانستان کے علاوہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن کے تصور پر بھی بات ہوئی۔

نائن الیون کے بعد جب افغانستان میں طالبان حکومت کا خاتمہ ہوگیا تو نومبر دو ہزار ایک میں صدر مشرف نے تہران کا دو گھنٹے کا اچانک دورہ کیا اور افغانستان کے حوالے سے ایران پاکستان کشیدگی کا گراف گرنے کا آغاز ہوا۔

ایک برس بعد ایرانی صدر محمد خاتمی نے پاکستان کا تین روزہ سرکاری دورہ کیا۔ لیکن اس دورے کے ایک ماہ بعد ہی صدر محمد خاتمی نے بھارت کا پانچ روزہ سرکاری دورہ بھی کیا اور واجپئی حکومت سے دفاعی اور اقتصادی شعبوں میں اشتراک کے سمجھوتے پر دستخط کئے۔

اس سمجھوتے سے پاکستانی پالیسی سازوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ایران پاکستان تعلقات میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد اگرچہ کشیدگی ضرور کم ہوئی ہے لیکن ایران سے تعلقات میں پہلے جیسی گرمجوشی نئی عالمی صف بندی کے سبب شاید دوبارہ نہ آسکےاور دونوں ممالک کے مابین اگر تعاون کی کوئی شکل نکلی تو وہ زیادہ تر اقتصادی نوعیت کی ہی ہوگی۔

دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب فروری دو ہزار چار میں پاکستان کے جوھری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر نے ٹیلی ویژن پر اعتراف کیا کہ پاکستان سے جوھری ٹیکنالوجی شمالی کوریا، لیبیا اور ایران کو منتقل کی گئی ہے۔

ایران نے اگرچہ فوری طور پر تو اس انکشاف کو الزام قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا لیکن کچھ عرصے بعد بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے دباؤ پر تسلیم کرلیا کہ پاکستان کے ساتھ اس کا جوہری تعاون تھا۔

اس کے بعد جب پاکستان پر امریکی دباؤ میں اضافہ ہوا تو صدر پرویز مشرف نے ایک جرمن جریدے دیر شپیگل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کا خاصا خواہش مند ہے۔ ایران نے صدر مشرف کے اس تبصرے کا خاصا برا منایا۔

ڈاکٹر قدیر خان
ایران نے فوری طور پر ڈاکٹر قدیر خان کے انکشاف کو الزام قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا

دونوں ممالک کے تعلقات گذشتہ برس فروری اور مارچ کے مہینے بہت خراب رہے۔

عراق اور ایٹمی پروگرام کے حوالے سے ایران پر امریکہ نے اپنا دباؤ دوگنا کردیا۔ صدر بش نے ایران میں حکومت میں تبدیلی کے لیے سو ملین ڈالر کے بجٹ کی منظوری دے دی۔ حکومتِ پاکستان نے ایران کو مشورہ دیا کہ وہ جوہری پروگرام کے سلسلے میں عالمی برادری کے تحفظات کو سنجیدگی سے لے اور مسئلے کا کوئی قابلِ قبول حل تلاش کرے۔ غالباً اسی پیغام کے ساتھ صدر پرویز مشرف نے فروری دوہزار سات کے پہلے ہفتے میں تہران کا دورہ کیا۔

پھر پاکستان نے اچانک مشرقِ وسطی کی صورتحال پر کوئی مشرکہ لائحہ عمل تیار کرنے کے لیے اسلام آباد میں سات ممالک کے وزراءخارجہ کی کانفرنس طلب کرلی۔ ساتوں ممالک امریکہ نواز تھے۔ایران کو اس کانفرنس میں مدعو نہیں کیا گیا۔ اور ایران کو یوں لگا جیسے امریکہ کی تائید سے اسکا گھیراؤ کرنے کی تیاری ہورہی ہے۔

چنانچہ جب پاکستانی حکومت نے وزرائے خارجہ کانفرنس کے فیصلوں کی بریفنگ کے لیے مسلمان ممالک کے سفیروں کو مدعو کیا تو ایرانی سفیر نے شرکت نہیں کی۔ صدر محمود احمدی نژاد نےسعودی عرب کے دورے میں کانفرنس کے اچانک انعقاد پر برملا ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔

اس کانفرنس کے کچھ روز بعد ایرانی بلوچستان کے صدر مقام زاہدان میں ایک چھاپہ مار کاروائی کے دوران تیرہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب مارے گئے۔ اور اس واردات کے چند دن بعد ایرانی سیستان کے علاقے نیگور میں چار پولیس والے ہلاک ہوگئے۔

ایرانی حکام نے بتایا کہ دونوں وارداتوں کے ذمہ دار جن کا تعلق جنداللہ نامی گروہ سے ہے سرحد پار پاکستانی بلوچستان کی طرف فرار ہوگئے۔ اس واردات کے بعد حکومتِ ایران نے مشترکہ سرحد پر حفاظتی دیوار کی تعمیر کا فیصلہ کیا اور آیت اللہ خمینی کے صاحبزادے احمد خمینی نے تہران میں نمازِ جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک دہشت گرد ریاست بنتا جارھا ہے۔ اگرچہ وہ ہمسایہ ہے لیکن رفتہ رفتہ آدابِ ہمسائیگی سے عاری ہوتا جارہا ہے۔

 ایران کو بین الاقوامی تنہائی کے دور میں بہرحال دوستوں کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو توانائی کا بحران درپیش ہے۔ لہٰذا تعلقات میں اتار چڑھاؤ کے باوجود ایران، پاکستان، بھارت گیس پائپ لائن کا منصوبہ اب بھی ان ممالک کی دلچسپی کا ایک بڑا موضوع ہے۔

یہ لمحہ دونوں ممالک کے تاریخی دور میں غالباً سب سے تلخ لمحہ تھا۔ تاہم دونوں ممالک کی قیادت اس طرح کی کشیدگی کے باوجود مجبور ہے کہ باہمی تعلقات کو ایک حد سے زیادہ بگڑنے نہ دے۔

ایران کو بین الاقوامی تنہائی کے دور میں بہرحال دوستوں کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو توانائی کا بحران درپیش ہے۔ لہٰذا تعلقات میں اتار چڑھاؤ کے باوجود ایران، پاکستان، بھارت گیس پائپ لائن کا منصوبہ اب بھی ان ممالک کی دلچسپی کا ایک بڑا موضوع ہے۔

اگرچہ بھارت نے امریکی دباؤ کے سبب اس منصوبے میں جوش و خروش کا مظاہرہ پہلے سے کم کردیا ہے تاہم صدر پرویز مشرف نے بھارت کے متبادل کے طور پر چین کو اس منصوبے میں شامل ہونے کا مشورہ دیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ پاکستان نے امریکی دباؤ کے پیشِ نظر ترکمانستان، افغانستان، پاکستان پائپ لائن کے متروک منصوبے میں بھی بادلِ نخواستہ دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

لیکن چین، پاکستان اور ایران یہ بات بھی سمجھتے ہیں کہ افغانستان کی شکل میں اس علاقے میں امریکہ کی مستقل فوجی موجودگی تینوں میں سے کسی بھی ملک کے طویل المیعاد مفاد میں نہیں ہوگی۔

سفارتی مبصرین کے نزدیک ایرانی صدر کا دورہ پاکستان اگرچہ نہائیت مختصر تھا تاہم موجودہ دگرگوں، پیچیدہ اور غیر یقینی علاقائی صورتحال میں اسکی ایک علامتی حیثیت یقیناً ہے۔

تفتان سرحد، فائل فوٹو پاک ایران سرحد بند
پاکستان ایران سرحد کھوانے کی یقین دہانی
متاثرین سیلاب’بلوچستان سیلاب‘
متاثرین کیلیے ایران سے ایک لاکھ خیموں کا عطیہ
تفتان دیوارخمینی کی برسی
پاکستان اور ایران سرحد چار دن کے لیے بند
ٹیلی فون پر بات
پاک اور ایران نے لبنان پر حملے کو افسوسناک کہا
گوادر میں ایرانی اشیاءایران زیادہ قریب ہے
گوادر میں ایرانی اشیاء پاکستانی چیزوں سے ارزاں
جڑواں صوبے
ایرانی اور پاکستانی بلوچستان میں معاہدہ
امام خمینی کا مزارمشرق کا جنیوا
صفدر ھمدانی: ایران کا سفر نامہ
اسی بارے میں
ایرانی مغویوں کی وطن واپسی
22 August, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد