لبنان: پاکستان،ایران کا اظہارِ افسوس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے وزیرِخارجہ منوچہر متقی نے پیر کو اپنے پاکستانی ہم منصب خورشید محمود قصوری سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے لبنان میں بگڑتی ہوئی صورت حال پر بات چیت کی۔ دفترِ خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ خورشید محمود قصوری نے منوچہر متقی سے بات چیت کے دوران لبنان میں معصوم لوگوں کی ہلاکتوں اور اسرائیلی بمباری سے ہونے والی تباہ کاریوں پر دلی صدمے کا اظہار کیا۔ خورشید محمود قصوری نے کہا کہ تمام بین الاقوامی برداری اور خاص طور پر اسلامی ملکوں کی تنظیم او آئی سی پر یہ لازم ہے کہ وہ اس انسانی سانحے کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ دونوں وزراء خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اسلامی تنظیم کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ ستائیس سے انتیس جولائی کو کوالالمپور میں ہونے والے آسیان تنظیم کے علاقائی فورم کے اجلاس کے موقع پر ملاقات کریں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے پاکستانی ہم منصب کو آگاہ کیا کہ وہ اس سلسلے میں ملائیشیا کے وزیر خارجہ سید حامد البار سے رابطے میں ہیں اور انہوں نے آسیان کے ریجنل فورم کے اجلاس کے دوران انہیں کولالمپور آنے کی دعوت دی ہے۔ خورشید قصوری نے منوچہر متقی کو بتایا کہ صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم کی موجودگی میں ہونے والے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ پاکستان اس بحران کو ختم کرانے کے لیئے ہر ممکن سفارتی کوششیں کرے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان لبنان کے لوگوں کے لیئے امدادی اشیاء اور دوائیاں بھجوا رہا ہے۔ | اسی بارے میں لبنان کے مواصلاتی نظام پر حملے22 July, 2006 | آس پاس ’بیروت کی تباہی ہیبت ناک ہے‘23 July, 2006 | آس پاس ’ فوری فائر بندی کی ضرورت ہے‘ 23 July, 2006 | آس پاس لبنان: رائس کا دورۂ مشرقِ وسطٰی 24 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||