BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 05 February, 2008, 14:33 GMT 19:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاک ایران سرحد کھلوانے کی کوشش

تفتان سرحد، فائل فوٹو
پاکستان کے سوبہ بلوچستان سے ملحق تفتان کے علاقے کا سرحدی حصہ جس پر ایران کی جانب دروازی بنائے گئے ہیں جنہیں بند کر دیا جاتا ہے
پاک ایران سرحد کوئی ایک ماہ سے بند ہے جس سے مقامی لوگوں اور خصوصاً تاجروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے لیکن اب مقامی سطح پر ایران کے سرحدی حکام سے مذاکرات کیے گئے ہیں جن میں سرحد کھولنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

ایران کی سرحد کے پاس واقع بلوچستان کے علاقوں میں تجارت اور روزمرہ استعمال کی بیشتر چیزوں کے لیے ایرانی اشیاء پر انحصار کیا جاتا ہے۔

بلوچستان کے سرحدی تحصیل تفتان کے نائب ناظم جلیل محمدانی نے بتایا ہے کہ سرحد کی بندش سے بے روز گاری میں اضافہ ہوا ہے اور مقامی لوگوں کو روزمرہ استعمال کی اشیا دستیاب نہیں ہیں جن میں آٹا بھی شامل ہے۔

اس بارے میں ضلع چاغی کے ضلعی رابطہ افسر قمر مسعود نے بتایا ہے کہ منگل کو ایران کی سرحد پر تعینات حکام سے مذاکرات کیے گئے ہیں اور انہیں سرحدی علاقوں میں آباد لوگوں کی مشکلات سے آگاہ کیا گیا ہے جس کے بعد ایرانی حکام نے اپنی مرکزی حکومت سے رابطے اور سرحد کو کھولنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

افغانستان جانے والے راستے بھی بند
 افغانستان کی سرحد کے ساتھ واقع علاقوں میں شدید بارشوں اور برفباری سے افغانستان جانے والے راستے چار روز سے بند ہیں اور بڑی تعداد میں کچے مکانات گر گئے ہیں

ادھر افغانستان کی سرحد کے ساتھ واقع علاقوں میں شدید بارشوں اور برفباری سے افغانستان جانے والے راستے چار روز سے بند ہیں اور بڑی تعداد میں کچے مکانات گر گئے ہیں۔ تحصیل دو بندی میں مکان کی چھت گرنے سے ایک خاتون اور دو بچے ہلاک ہو گئے ہیں۔

تحصیل دو بندی کے ناظم ڈاکٹر داد محمد نے کہا ہے کہ علاقے میں خوراک کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔

تحصیل لوئی بند کو پشین اور ادھر مسلم باغ کا راستہ بند ہے جس سے علاقے میں لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

اس کے علاوہ ادھر ضلع کوہلو کے علاقے کاہان سے کشیدگی کی اطلاعات ہیں جہاں مقامی لوگوں کے مطابق سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے نتیجے میں دو روز میں چار افراد ہلاک اور آٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

مری اتحاد کے ترجمان نے بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ مقامی لوگوں کی مدد کریں۔

اسی بارے میں
بلوچ قوم پرستوں کو وارننگ
20 January, 2006 | پاکستان
بلوچ قوم پرست تحریک کیوں ؟
14 February, 2005 | پاکستان
بلوچ قوم پرستی کا ارتقاء
12 February, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد