پاک ایران انڈیا گیس لائن معاہدہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران، پاکستان اور انڈیا کے درمیان گیس پائپ لائن منصوبے کے سلسلے میں پاکستان اور بھارت کے حکام اس منصوبے کے ٹرانسپورٹیشین ٹیرف اور ٹرانزٹ فیس جیسے معاملوں پر متفق ہوگئے ہیں اور اس سلسلے میں معاہدے پر دستخط بہت جلد ہو جائیں گے۔ اس بات کا اعلان پاکستان کے پیٹرولیم کے وزیر خواجہ محمد آصف اور ان کے بھارتی ہم منصب مرلی ڈیورہ نے جمعہ کو دونوں ملکوں کے وفود کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ اس ضمن میں دونوں ملکوں کے وفود اپنی اپنی حکومتوں سے بات کریں گے جس کے بعد اس معاہدے پر دستخط ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ دو ہزار چھ سو ستائیس کلومیٹر طویل پائپ لائن کے اس منصوبے پر سات ارب پچاس کروڑ ڈالر لاگت آئے گی اور اس منصوبے پر کام آئندہ برس سے شروع ہو جائےگا اور اس کی تکمیل سنہ دوہزار بارہ میں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس پائپ لائن منصوبے سے ایران روزانہ دو اعشاریہ چھ ارب کیوبک فٹ گیس فراہم کرےگا جس میں آدھا حصہ پاکستان جب کہ آدھا حصہ بھارت کو ملےگا۔ انہوں نے کہا کہ گیس کی قیمت کا تعین ابھی نہیں ہوسکا۔ پاکستان کے پیٹرولیم کے وزیر نے کہا کہ یہ گیس پائپ لائن ایران سے بلوچستان اور نوابشاہ کے راستے بھارت جائے گی۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے علاقے میں خوشحالی آئے گی اور پاکستان اور بھارت کے درمیان نہ صرف اقتصادی تعلقات میں بہتری آئے گی بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد میں بھی اضافہ ہوگا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ دونوں ملکوں میں توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے یہ منصوبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ پائپ لائن کی سیکیورٹی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر بھی غور کیا گیا۔ پیٹرولیم کے پاکستانی وزیر نے کہا کہ جو کمپنی یہ گیس پائپ لائن بچھائے گی اس کی یہ ذمہ داری ہوگی کہ وہ بین الاقوامی معیار کے تمام اقدامات کرے جس میں سیکیورٹی کا معاملہ بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں گیس پائپ لائن کی سیکیورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ پہلے ہی پاکستان ملک میں بچھائی گئی گیس پائپ لائن کی حفاظت کر رہا ہے۔ بھارتی وزیر مرلی ڈیورہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ان کی حکومت پر امریکہ کی طرف سے کوئی دباؤ نہیں ہے کہ وہ ایران، پاکستان اور بھارت پائپ لائن منصوبے سے علیحدہ ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ عام تاثر یہی دیا جا رہا ہے کہ امریکہ اور بھارت کے درمیان ہونے والے جوہری توانائی کے معاہدے کی وجہ سے امریکہ بھارت پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ اس منصوبے میں شامل نہ ہو۔
خواجہ محمد آصف نے بی بی سی سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے صدر محمود احمدی نژاد اگلے ہفتے پاکستان کے مختصر دورے پر آ رہے ہیں اور اس بات کا امکان ہے کہ ان سے اس گیس پائپ لائن منصوبے پر بھی بات ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں چین کو شامل کرنے کے بات ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔ پاکستانی وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ ایران بہت حد تک اس منصوبے پر کام مکمل کر چکا ہے اور یہ منصوبہ ایران کی مقامی ضروریات پوری کرنے میں مددگار ہوگا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ اس امر پر بھی توجہ دی جا رہی ہے کہ پاکستان میں توانائی کی ضروریات کوئلے سے بھی پوری کی جائیں کیونکہ ہمارے پاس کوئلے کے بہت سے ذخائر ہیں۔ جس کی وجہ سے پاکستان میں تیل پر سے انحصار کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔ | اسی بارے میں ’گیس معاہدہ طے پانے کے قریب‘29 June, 2007 | انڈیا کثیر الملکی پائپ لائن 2015 میں 24 April, 2008 | پاکستان پاک، ایران گیس منصوبہ پربات چیت03 December, 2006 | پاکستان ’ایران سے انڈیا گیس لائن‘ رائلٹی09 June, 2006 | پاکستان ’گیس: قیمت کاجلد تعین کیاجائے‘26 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||