BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 09 June, 2006, 17:14 GMT 22:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایران سے انڈیا گیس لائن‘ رائلٹی

پائپ لائن
اس پائپ لائن کے ذریعے ایران انڈیا کو قدرتی گیس فراہم کرے گا
بلوچستان اسمبلی نے وفاقی حکومت سے ایران - انڈیا پائپ لائن کی رائلٹی دینے کے لیے کہا ہے۔

اسمبلی نے اس سلسلے میں متفقہ طور پر ایک قرار داد منظور کی ہے جس میں وفاقی حکومت سے کہا گیا ہے کہ ایران پاکستان اور بھارت کے مابین گیس پائپ لائن کے معاہدے کے حوالے سے جو گیس پائپ لائن بلوچستان میں بچھائی جائے گی اس کی رائلٹی یا کرایہ بلوچستان کو دیا جائے۔

قائد حزب اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ نے جمعہ کو بحث کے لیے منظور کی جانے والی تحریک ِ التوا پر دلائل دیے اور کہا کہ اسے قرار داد کے طور پر منظور کیا جائے۔

ایوان میں موجود اراکین نے اس کی حمایت کی ہے اور یوں تحریک التوا ایک قرار داد کے طور پر متفقہ طور پر منظور کر لی گئی ہے۔

بی بی سی اردو ڈاٹ کام نے کچکول علی ایڈووکیٹ سے جب یہ پوچھا کہ بلوچستان اسمبلی نے تو پہلے بھی کئی قراردادیں متفقہ طور پر منظور کی ہیں جیسا کہ چھاونیوں کے قیام کے حوالے سے لیکن ان پر عمل درآمد نہیں ہوا تو وہ اس قرار دادا سے کیا توقع رکھتے ہیں؟

ان کا کہنا تھا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کی وردی کے حوالے سے منظور کی گئی قرار دادوں کو تو تسلیم بھی کر لیا جاتا ہے اور ان پر عملدرآمد بھی ہوتا ہے لیکن جب صوبے اپنے اختیارات یا حقوق کے لیے قرار داد منظور کرتے ہیں تو انہیں کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔

انہوں نے کہا کہ مرکز کے اس رویے کی وجہ سے یہاں مزاحمتی تحریکیں زور پکڑ رہی ہیں جس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے اور اس کی ذمہ دار مرکزی حکومت ہو گی۔

صوبے کے اختیارات و حقوق کو اہمیت نہیں
 صدر جنرل پرویز مشرف کی وردی کے حوالے سے منظور کی گئی قرار دادوں کو تو تسلیم بھی کر لیا جاتا ہے اور ان پر عملدرآمد بھی ہوتا ہے لیکن جب صوبے اپنے اختیارات یا حقوق کے لیے قرار داد منظور کرتے ہیں تو انہیں کوئی توجہ نہیں دی جاتی

حکمران مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے قائم مقام سپیکر اسلم بھوتانی نے کہا کہ یہ سب اراکین کا حق تھا کہ اس کی حمایت کر تے۔

پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ صوبہ بلوچستان مالی بحران کا شکار ہےاور وفاقی حکومت اس غریب صوبے کی مقروض ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اگر گیس سرچارج اور ویل ہیڈ کے علاوہ پنجاب اور سندھ میں کھاد فیکٹریوں کو دی جانے والی سبسڈی جو کوئی پینتالیس ارب روپے بنتی ہے اور قومی مالیاتی کمیشن کے انتیس ارب روپے مل جائیں تو صوبائی حکومت خود اپنے مالی معاملات طے کر کے باعزت طریقے سے کام کر سکتی ہے۔

یاد رہے بلوچستان میں متحدہ مجلس عمل کے اراکین صوبے کی گرتی ہوئی مالی حالت اور لیویز کو پولیس میں ضم کرنے کے خلاف منتخب اسمبلی کی قرار داد پر عمل درآمد نہ ہونے پر اسمبلی کے اس سیشن کا مکمل بائیکاٹ کیے ہوئے ہیں۔

اس سلسلے میں جمعیت علماء اسلام کے قائدین اسلام آباد میں حکمران مسلم لیگ اور صدر پرویز مشرف سے مذاکرات کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں
لوٹی گیس پلانٹ پر حملہ
09 March, 2006 | پاکستان
پنجاب سےگیس کی ترسیل بند
26 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد