صلاح الدین بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی |  |
 | | | بھارت کے وزیر پٹرولیم مرلی دیورا پاکستانی اور ایرانی اہلکاروں کے ساتھ |
نئی دلی میں پاکستان، بھارت اور ایران کے درمیان تین ملکی گیس پائپ لائن کے معاملے پر ہونے والی دو روزہ بات چیت کے اختتام پر جمعہ کو جاری کیے گیے ایک بیان میں کہا گیا ہے بیشتر نکات پر مفاہمت ہوگئی۔ ایران کے وزیر پٹرولیم ایچ غنیمی فرد نے بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ اور پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف کو ممکنہ معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے ایران آنے کی دعوت بھی دی ہے۔ معلوم ہوا کہ تینوں ممالک کے نمائندے گیس پائپ لائن کے ٹرانزٹ (راہداری) اور ٹرانسپورٹیشن کی فیس جیسے معاملات پر بات چیت کرتے رہے جبکہ گیس کی قیمت اور ہر تین برس بعد اس پر نظر ثانی جیسے امور پر معاملات طے پا گئے ہیں۔ تینوں ممالک کے تیل کے وزیر تقریباً ساڑھے سات سو ارب ڈالر کی مجوزہ گیس پائپ لائن کے معاہدے کے مسودے پر دستخط کرنے کے لیے جولائی میں پھر  | گیس پائپ لائن اور امریکہ  پائپ لائن کے لیےگزشتہ تیرہ برسوں سے بات چیت ہورہی ہے، لیکن کبھی تکنیکی تو کبھی تجارتی اور کبھی سلامتی کی پیچدگیوں کے سبب ابھی تک کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں ہو پایا ہے۔ امریکہ بھی نہیں چاہتا کہ یہ معاہدہ طے پائے  |
ملاقات کریں گے۔ اطلاعات ہیں کہ پہلے بھارت اور پاکستان کے وزراء کی ملاقات اسلام آباد میں ہوگی اس کے بعد دونوں وزراء تہران جائیں گے۔کہا جا رہا ہے کہ ایران میں ساؤتھ پارس گیس فیلڈ سے منسلک اس گیس پائپ لائن پر ایران نے اٹھارہ فیصد کام مکمل کر لیا ہے اور اگر معاہدہ عمل میں آگیا تو دو ہزار گیارہ تک گیس کی فراہمی شروع ہوجائےگی۔ دو ہزار چھ سو کلو میٹر طویل یہ گیس پائپ لائن پاکستان سے ہوتے ہوئے بھارت پہنچےگی اور ابتداء میں یومیہ چھ کروڑ کیوبک میٹر گیس فراہم کی جائےگی۔ اس پائپ لائن کے لیےگزشتہ تیرہ برسوں سے بات چیت ہورہی ہے، لیکن کبھی تکنیکی تو کبھی تجارتی اور کبھی سلامتی کی پیچدگیوں کے سبب ابھی تک کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں ہو پایا ہے۔ امریکہ بھی نہیں چاہتا کہ یہ معاہدہ طے پائے۔ |