کثیر الملکی پائپ لائن 2015 میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ترکمانستان، افعانستان، پاکستان اور بھارت پائپ لائن منصوبے پر سنہ دو ہزار دس میں کام شروع ہوجائے گا جبکہ اس مجوزہ منصوبے سے گیس کی سپلائی سنہ دوہزار پندرہ سے شروع ہوجائے گی۔ اس بات کا اعلان چاروں ممالک کے پیٹرولیم کے وزراء نے جمعرات کو اس منصوبے کے بارے میں سٹیئرنگ کمیٹی کے دو روزہ اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے میں شامل رکن ممالک نے فریم ورک ایگریمنٹ پر دستخط کیے ہیں اور بھارت کو جو پہلے اس کمیٹی کے اجلاس میں بطور مبصر شریک ہوتا تھا منصوبے میں باقائدہ طور پر شامل کرلیا گیا ہے۔ پاکستان کے وزیر برائے پیٹرولیم خواجہ آصف نے کہا کہ ترکمانستان اس منصوبے میں شامل رکن ملکوں کو اپنے گیس کے ذخائر کے متعلق ایک بین الاقوامی آڈٹ رپورٹ اس کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں پیش کرے گا جو اس سال ستمبر یا اکتوبر میں بھارت کے دارالحکومت نئی دلی میں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں ترکمانستان کی طرف سے گیس کی مجوزہ قیمت اور خریدنے والے ممالک کی طرف سے تجویز کی گئی قیمت پر غور کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ترکمانستان کے وفد نے اجلاس کے شرکاء کو بتایا تھا کہ اُن کے پاس ایک سو انسٹھ ٹریلین کیوبک فٹ گیس کے ذخائر موجود ہیں اور وہ پاکستان اور بھارت کو روزانہ تیس ملین کیوبک میٹر گیس فراہم کرسکتا ہے جبکہ افغانستان کو پانچ ملین کیوبک میٹر گیس روزانہ فراہم کی جاسکتی ہے۔ پائپ لائن تاجکستان کے علاقے دولت آباد سے ہرات اور قندھار سے ملتان کے راستے بھارت تک جائے گی۔ وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ اجلاس میں ایشیائی ترقیاتی بینک کی تکنیکی کمیٹی کی طرف سے سنہ دو ہزار چار میں تیار ہونے والی ٹیکنیکل ورکنگ گروپ کی رپورٹ کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس وقت ایک ہزار چھ سو اسی کلومیٹر طویل گیس پائپ لائن کے اس منصوبے پر گیس کی قیمتیں شامل کر کے تین ارب تیس کروڑ ڈالر لاگت آنی تھی جو اب بڑھ کر سات ارب ساٹھ کروڑ ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکمانستان کے وفد نے یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ گیس کے ذخائر کے بارے میں آڈٹ رپورٹ تیس ستمبر تک جمع کروا دیں گے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ اس قمیت پر بھی پاکستان اس گیس پائپ لائن کے منصوبے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تیل درآمد کرنے پر بہت اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں اور اگر یہ منصوبہ مکمل ہوگیا تو تیل پر اُٹھنے والے اخراجات تعلیم اور دوسرے ترقیاتی کاموں میں لگائے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے ایران، پاکستان اور بھارت گیس پائپ لائن منصوبے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے پر پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے پیٹرولیم کے بھارتی وزیر مرلی ڈیورہ سے جمعہ کے روز مذاکرات ہوں گے۔ اس سوال پر کہ کیا افغانستان میں سکیورٹی کی صورتحال پر کیا افغان حکومت سے بھی اس بات کی گارنٹی مانگی جائے گی کہ اس منصوبے کی تکمیل میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئے گی؟ خواجہ آصف نے کہا کہ جب ان ملکوں کے درمیان کنسورشیم بنےگا تو اُس میں تمام باتیں طے کر جائیں گی۔ ادھر اس منصوبے میں شامل ممالک کے وزراء نے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی۔ ملاقات میں وزیر اعظم نےاس بات پر زور دیا کہ اس منصوبے پر جلد سے جلد کام شروع کیا جائے کیونکہ اس سے خطے میں خوشحالی آئے گی اور اس منصوبے میں شامل ممالک کے درمیان تعلقات مزید بہتر ہوں گے۔ | اسی بارے میں چین 50 کروڑ ڈالر نقد دے گا: قریشی 17 April, 2008 | پاکستان گلف، چین پائپ لائن ممکن: مشرف15 April, 2008 | پاکستان آئل ٹینکرز کی تباہی، سات گرفتار24 March, 2008 | پاکستان تیل کی قیمتوں میں اضافہ01 March, 2008 | پاکستان پاکستان اور ایران کا گیس سمجھوتہ30 April, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||