پاک، ایران گیس منصوبہ پربات چیت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف اور ایران کے صدر احمدی نژاد ایران پاکستان گیس پائپ کے منصوبے کو شروع کے امکانات پر بات چیت کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان کے صدر جنرل مشرف اور ایرانی صدر احمدی نژاد کی ٹیلی فون پر بات چیت کے دوران گیس پائپ لائن منصوبے کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا۔ پاکستان اور ایران گیس پائپ لائن کا منصوبہ مکمل کرنے کے لیے سات ارب ڈالر کی لاگت کا اندازہ لگایا گیا۔ ایران سے براستہ پاکستان گیس کو انڈیا لے جانے کے لیے منصوبے پر بات چیت کا آغاز کئی برس پہلے شروع ہوا تھا۔ امریکہ گیس پائپ لائن کے منصوبے کا مخالف ہے۔ انڈیا اور امریکہ کے درمیان جوہری توانائی کے منصوبوں کی منظوری کے بعد انڈیا کی پائپ لائن کے منصوبے میں دلچسپی کم ہو گئی ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ انڈیا کی دلچسپی کم ہونے کے باوجود وہ گیس پائپ لائن کے منصوبے کی تکمیل چاہتا ہے۔ ایرانی صدر سے بات چیت کے دوران پاکستان صدر نے کہا کہ گیس پائپ لائن کا منصوبہ دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے اور اس سے پاکستان اور ایران کے تعلقات کو بھی بڑھاوا ملے گا۔ | اسی بارے میں ’پائپ لائن میں سب کا فائدہ ہے‘07 June, 2005 | پاکستان گیس پائپ لائن پر مذاکرات08 September, 2005 | پاکستان گیس پائپ لائن پر پاک بھارت اتفاق06 June, 2005 | پاکستان امریکی تحفظات: بھارتی ضروریات04 June, 2005 | پاکستان ’گیس: قیمت کاجلد تعین کیاجائے‘26 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||