گیس پائپ لائن پر مذاکرات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران-پاکستان-بھارت مجوزہ گیس پائپ لائن پر پاکستان اور بھارت کے مشترکہ ورکنگ گروپ کا دو روزہ اجلاس اسلام آباد میں جمعرات سے شروع ہو رہا ہے جس میں دونوں ممالک کی وزارتِ تیل کے سیکریٹری اس گیس پائپ لائن منصوبے سے متعلقہ معاملات پر بات چیت کریں گے۔ اس بات چیت میں پاکستانی وفد کی سربراہی سیکریٹری تیل احمد وقار جبکہ بھارتی وفد کی قیادت سیکریٹری تیل سشیل تریپاٹھی کر رہے ہیں۔ پاکستانی حکام کے مطابق پائپ لائن کے قانونی پہلوؤں، تجارتی نکتہ نظر، تکنیکی و مالی مسائل اور اسکی سکیورٹی جیسے امور پر بات چیت کی جائے گی۔ یہ اس مشترکہ ورکنگ گروپ کا دوسرا اجلاس ہے۔ اس سے قبل اس گروپ نے نئی دہلی میں اس برس جولائی میں بات چیت کی تھی۔ پاکستانی حکام کے مطابق انہیں توقع ہے کہ اس دو روزہ اجلاس میں مجوزہ گیس پائپ لائن کے فریم ورک پر بھی بات چیت کی جائے گی جس کے مطابق اس گیس پائپ لائن پر کام اگلے برس کے وسط میں شروع کر دیا جائے گا۔ پاکستان،ایران اور بھارت کے حکام اس پائپ لائن کو دو ہزار دس تک بچھانے کا ارادہ رکھتے ہیں مگر یہ اسی صورت میں ممکن ہو گا جب تینوں ممالک اس پائپ لائن کے لیے ایک متفقہ فریم ورک پر رضامند ہو جائیں۔ اس گیس پائپ لائن پر اہم پیش رفت اس برس کے وسط میں اس وقت ہوئی تھی جب بھارتی وزیر تیل مانی شنکر آئر نے پاکستان کا دورہ کیا تھا اور پاکستانی حکام سے بات چیت کے بعد اعلان کیا تھا کہ اس پائپ لائن پر کام اگلے برس شروع کر دیا جائے گا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان بہتر ہوتے باہمی تعلقات نے اس پیش رفت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ پانچ ارب ڈالر سے زائد کی لاگت سے بننے والی یہ مجوزہ گیس پائپ لائن پاکستان سے ہوتے ہوئے ایران سے بھارت آئيگی۔ اس سے ہر روز تقریباً ایک سو پچاس ملین کیوبک میٹرگیس کی سپلائی ممکن ہوسکے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسکی آمد سے بھارت اور پاکستان میں ایندھن کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد ملےگی۔ پاکستان اور ایران کے وزرائے تیل نے اس برس جولائی میں اسلام آباد میں اس گیس پائپ لائن کے بارے میں مفاہمت کی ایک یاداشت پر دستخط کیے تھے جس کے مطابق اس گیس پائپ لائن پر عملی کام اگلے برس اپریل کے بعد سے شروع کرنے کا اعادہ کیا گیا ہے۔ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے بھارتی وزیر تیل کے دورے کے موقع پر کہا تھا کہ بھارت، پاکستان اور ایران کے درمیان گیس پائپ لائن ایک اہم منصوبہ ہے اور یہ تینوں ممالک کے فائدے میں ہے۔ تینوں ممالک اس گیس پائپ لائن پر امریکی اعتراضات کو پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||