BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 12 July, 2007, 03:50 GMT 08:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہلاک شدگان، اسلام آباد میں امانتاً تدفین

 تدفین
حکام نے تدفین کا کام فجر سے پہلے اندھیرے میں ہی شروع کر دیا تھا
اسلام آباد میں حکام نے بتایا ہے کہ لال مسجد اور مدرسہ حفصہ میں ہلاک ہونے والے افراد کی لاشوں کی تدفین اسلام آباد کے ایچ الیون قبرستان میں کی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان افراد کی امانتاً تدفین کی جائے گی۔

حکام کے مطابق تدفین سے قبل ان لاشوں کی شناخت اور پوسٹ مارٹم کا عمل مکمل کرنا ضروری ہے۔ اطلاعات کے مطابق ہلاکشدگان کے انگلیوں کے نشانات کا ریکارڈ بھی بنایا گیا ہے۔

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ لال مسجد پر فوجی کارروائی میں مارے جانے والے مولانا عبد الرشید غازی کی لاش کو ان کے آبائی گاؤں میں جمعرات کی صبح سپرد خاک کیا جائے گا۔


سپریم کورٹ نے مولانا عبدالرشید غازی کی تدفین کو اس وقت تک روکنے کا حکم جاری کر دیا تھا جب تک ان کی بہنیں ان کی میت کو نہ دیکھ لیں۔

سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے مولانا غازی کی تین بہنوں، عائشہ، جمیلہ اور نبیلہ کی درخواست پر وزارت داخلہ کے ترجمان بریگیڈئر (ریٹائرڈ) جاوید اقبال چیمہ کو عدالت میں طلب کیا تھا۔

درخواست گزاروں کا مطالبہ تھا کہ عبد الرشید غازی، ان کی والدہ اور مولانا عبدالعزیز کے بیٹے حسان کو اسلام آباد کے سیکٹر ای سیون میں واقع جامعہ فریدہ میں دفنایا جائے۔

جاوید اقبال چیمہ نے عدالت کو بتایا کہ عبد الرشید غازی کی میت راجن پور میں ان کے آبائی گاؤں پہنچ چکی ہے اور ان کے بھائی مولانا عبد العزیز بھی پیرول پر رہائی کے بعد وہاں موجود ہیں۔

جسٹس محمد نواز عباسی اور جسٹس فقیر محمد کھوکھر پر مشتمل بینچ نے حکومت کو حکم جاری کیا کہ وہ عبد الرشید غازی کی بہنوں کو راجن پور پہنچانے کے انتظامات کریں اور تدفین کو اس وقت مؤخر رکھا جائے جب تک بہنیں اپنے بھائی کی میت کو دیکھ نہ لیں۔

بدھ کی صبح کو حکام نے اعلان کیا تھا کہ فوجی آپریشن کے نتیجے میں لال مسجد اور اس سے ملحقہ جامعہ حفصہ کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے اور مسجد اور مدرسے حفصہ سے دو روز کی کارروائی کے بعد تہتر لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

اسلام آباد سے ہارون رشید کی رپورٹ کے مطابق فوجی حکام کا کہنا ہے کہ فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے بتایا کہ کئی لاشیں جل کر راکھ ہوچکی ہیں اور ان کی شناخت شاید ممکن نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ عمارتوں کے ملبے سے شاید ایک یا دو لاش مزید ملیں تاہم اس کا بھی اتنا امکان نہیں۔


ان کا کہنا ہے کہ ان میں عورتوں کی کوئی لاش نہیں ہے۔ یہ لاشیں مزید کارروائی کے لیےمقامی انتظامیہ کے حوالے کر دی گئی ہیں۔

سرکاری ذرائع کے مطابق تقریباً دو روز تک جاری رہنے والے آپریشن میں نو فوجی اور ساٹھ سے زائد شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

تاہم خدشہ ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ فوجی آپریشن میں ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں رات بھر لال مسجد سے آئی ایٹ میں قائم ایک مردہ خانے میں منقتل کی جاتی رہیں۔

روجھان میں موجود صحافی جمشید بلوچ کے مطابق مولانا غازی کے عزیز و اقارب نے اگرچہ ان کی تدفین کے انتظامات مکمل کر رکھے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ انہیں یہاں امانتاً دفن کیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ حالات سازگار ہوتے ہی ان کی وصیت کے مطابق انہیں اسلام آباد میں جامعہ فریدیہ میں ان کے والد کے پہلو میں دفن کیا جائے گا۔

ادھر آب پارہ تھانے میں دہشت گردی، قتل اور اغواء کی دفعات کے مولانا غازی اور ان کے کئی ساتھیوں کے خلاف متعدد مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔

زخمیوں کی راولپنڈی منتقلی
لال مسجد کے خلاف آپریشن میں زخمی ہونے والے تمام افراد کو اب اسلام آباد سے راولپنڈی کے فوجی ہسپتالوں منتقل کر دیا گیا ہے۔

عبدالعزیز کی بیٹی
روالپنڈی میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے بدھ کے روز جامعہ حفصہ کی پرنسپل اُم حسان، اُن کی بیٹیوں طیبہ عزیز اور اسماء عزیز کا سات روزہ جسمانی ریمانڈ دے کر انہیں پولیس کی تحویل میں دے دیا۔

ڈی ایس پی سٹی سرکل اسلام آْباد ملک ممتاز کے مطابق ملزمان کا ریمانڈ تین جولائی کو رینجرز کے ایک اہلکار سمیت اُنیس افراد کی ہلاکت کے مقدمے میں دیا گیا ہے۔

طیبہ عزیز اسلام آباد سے چینی باشندوں کے اغواء میں پہلے ہی جوڈیشل ریمانڈ پر تھیں۔ ایس پی انوسٹی گیشن اسلام آباد اشفاق احمد خان کے مطابق طیبہ عزیز کے خلاف پانچ مقدمات درج ہیں۔

چینی باشندوں کے اغواء کے کیس میں لال مسجد کے تین وکلاء وجیہ اللہ، جمیل شاہد اور محمد فاروق کو بھی تین دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا گیا۔

ان کو ہتھکٹریاں لگا کر عدالت میں پیش کرنے پر وکلاء نے شدید احتجاج کیا، جس پر فاضل جج نے ان کی ہتھکٹریاں کھلواد یں۔

خود کش بمبار
انٹیلیجنس اداروں کی طرف سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اسلام آباد میں مختلف علاقوں سے تیس کے قریب خودکش بمباروں داخل ہو چکے ہیں۔

یہ اطلاع فوجی حکام کی جانب سے سول انتظامیہ کو بھیجے گئے ایک خط کے ذریعے سامنے آئی ہے۔

’محصور‘ بچوں کے رشتہ دار’گولی کی آواز دل پر‘
مسجد میں’محصور‘ بچوں کے رشتہ داروں کے تاثرات
چودھری شجاعتآخری بات
گزشتہ رات مذاکرات ختم ہو گئے تھے
لال مسجد’ کمپلیٹ ٹیرارِزم ہے‘
آپریشن کی ٹی وی کوریج سے بچوں پر کیا اثر پڑا؟
’گولی ماردیں‘
ہسپتالوں میں صحافیوں کے داخلے پر پابندی
آپریشن سائلنس
سکیورٹی فورسز کی کارروائی لمحہ بہ لمحہ
زخمیلال مسجد آپریشن
فوجی کارروائی کئی گھنٹوں سے جاری
لال مسجد طالب(فائل فوٹو)’وہ تو صحافی تھا‘
’میرا بیٹا نہ دہشتگرد تھا نہ سپریم کمانڈر‘
اسی بارے میں
8 فوجی ہلاک، 29 زخمی ہوئے
10 July, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد