BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 July, 2007, 18:36 GMT 23:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عدالتی حکم، تدفین میں تاخیر
مولانا عبدالرشید غازی
مولانا عبدالرشید غازی ان مبینہ شدت پسندوں میں شامل تھے جو فوجی آپریشن میں ہلاک ہوئے
اسلام آباد کی لال مسجد میں فوجی کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والے مولانا عبدالرشید غازی کی تحصیل روجھان مزاری میں واقع اپنے آبائی گاؤں میں تدفین تاخیر کا شکار ہوتے نظر آ رہی ہے۔

لال مسجد کے نائب خطیب مولانا غازی ان مبینہ شدت پسندوں میں شامل تھے جو منگل کو فوجی آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں مولانا غازی کی والدہ اور بھتیجے حسان کا نام بھی آ رہا ہے۔ حسان لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کے بیٹے تھے۔

روجھان مزاری میں موجود صحافی جمشید بلوچ کے مطابق مولانا غازی اور دو دیگر افراد کی میتیں راجن پور کے فرید ایئربیس پر پہنچ چکی ہیں جبکہ گاؤں عبداللہ غازی میں تدفین کے انتظامات مکمل ہیں۔ تاہم بعض نامعلوم وجوہات کی بناء پر میتوں کو ائیربیس سے لانے میں تاخیر ہو رہی ہے۔

غازی کی تدفین
ان کے آبائی گاؤں میں بھی سوگواران کافی بڑی تعداد میں اکھٹے ہیں اور انتظامیہ بھی غالباً نہیں چاہتی کہ اتنے بڑے مجمع میں ان کی تدفین کی جائے۔

غازی خاندان کے ذرائع کا کہنا ہے کہ تاخیر کی وجہ سپریم کورٹ کا حکم ہو سکتا ہے، جس کے تحت مولانا عبدالرشید غازی کی تدفین اس وقت تک نہ کی جائے جب تک ان کی بہنیں عائشہ، جمیلہ اور نبیلہ ان کی میت نہیں دیکھ لیتیں۔

مولانا غازی کی تینوں بہنوں نے سپریم کورٹ سے ایک درخواست کے ذریعے استدعا کی تھی کہ ان کے بھائی، والدہ اور بھتیجے کو اسلام آباد کے ای سیون سیکٹر میں واقع مدرسہ فریدیہ میں ان کے مرحوم والد مولانا عبداللہ غازی کے پہلو میں دفن کیا جائے۔

تاہم حکومتی ترجمان نے عدالت کو بتایا تھا کہ مولانا غازی کی میت تدفین کے لیے راجن پور روانہ کر دی گئی ہے۔ اس پر عدالت نے حکم جاری کیا تھا کہ مولانا غازی کی بہنوں کو اپنے بھائی کی میت دیکھنے کے لیے راجن پور پہنچانے کے انتظامات کیے جائیں اور تب تک تدفین مؤخر کر دی جائے۔

اسلام آباد سے روجھان بذریعہ سڑک سفر بارہ سے پندرہ گھنٹے کا ہے جبکہ رات ہو جانے کی وجہ سے ہوائی سفر بذریعہ ہیلی کاپٹر بھی ممکن نہیں ہے۔ اس لیے خیال کیا جا رہا کہ مولانا غازی کی تدفین جمعرات صبح تک ملتوی کرنا پڑے گی۔

ادھر ان کے آبائی گاؤں میں بھی سوگواران کافی بڑی تعداد میں اکھٹے ہیں اور انتظامیہ بھی غالباً نہیں چاہتی کہ اتنے بڑے مجمع میں ان کی تدفین کی جائے۔

عبدالرشید غازی’فرمانبردار بھائی‘
غازی برادران کا اتفاق جو برقرار نہ رہ سکا
فائل فوٹو’اوغازی آگیا‘
لال مسجد اور میڈیا: شہید کون؟
عبدالرشید غازی (فائل فوٹو)عبدالرشید سے مولانا
وہ حافظ کے لفظ سے احتراز کرتے رہے
عبدالرشید بڑے بھائی کاانکار
’ہماری لڑائی فرد سے نہیں نظام سے ہے‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد