BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 July, 2007, 10:39 GMT 15:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’تدفین اسلام آباد میں کی جائے‘

عبدالرشید غازی (فائل فوٹو)
عبدالرشید غازی منگل کو لال مسجد میں فوج سے جھڑپ میں ہلاک ہوگئے تھے
پنجاب کے سرحدی ضلع راجن پور کے نواحی قصبہ گڈا ناڑ کے مدرسہ عبداللہ بن غازی میں ایک سو سے زائد افراد موجود ہیں جو مولانا عبدالرشید غازی کی تدفین کی رسومات میں شرکت کرنا چاہتے ہیں۔

عبدالرشید غازی کے خالہ زاد بھائی عبدالوہاب نے ٹیلی فون پر بی بی سی کو بتایا ہے کہ انہوں نے عبدالرشید غازی، ان کی والدہ مولانا عبدالعزیز کے صاحبزادے حسان اور اسی گاؤں سے تعلق رکھنے والے دو دیگر افراد کے لیے قبروں کی جگہ مختص کرلی ہے اور پانچ کفن بھی منگوا لیے ہیں۔

ادُھر اسلام آباد میں کرائسز مینیجمنٹ سیل کے سربراہ بریگیڈئیر (ریٹائرڈ) جاوید اقبال چیمہ کا کہنا ہے کہ عبدالرشید غازی کے بڑے بھائی مولانا عبدالعزیز کو بھی بھائی کے جنازے میں شرکت کی اجازت ہوگی اور وہ لاش کے ساتھ اپنے آبائی گاؤں جائیں گے۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ تدفین کب ہوگی۔

عبدالرشید غازی منگل کو اسلام آباد کی لال مسجد میں فوج سے جھڑپ میں ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد ان کی لاش پاکستان کی فوج نے اپنے قبضے میں لے لی تھی۔

مولانا غازی کے کزن عبدالوہاب نے کہا:’ہم نہیں چاہتے کہ انہیں یہاں دفن کیا جائے۔ ہمارے اہلخانہ چاہتے ہیں کہ عبدالرشید غازی اور ان کی والدہ کو اسلام آباد میں جامعہ حفصہ میں ان کے والد عبداللہ شہید کی قبر کے ساتھ دفن کیا جائے‘۔

انہوں نے کہا کہ’ لیکن انہیں اطلاعات مل رہی ہیں کہ حکومت زبردستی میتیں یہاں بھجوانا چاہتی ہے‘۔اس لیے انہوں نے اپنے طور پر کفن دفن کا بندوبست کر رکھا ہے۔

ضلع راجن پور کی تحصیل روجھان سے بیس کلومیٹر دور ایک چھوٹی سی بستی میں عبدالرشید غازی نے کوئی چار پانچ برس قبل اپنے والد کے نام پر ایک مدرسہ قائم کیا تھا۔ اب اسی مدرسہ میں عبدالرشید غازی اور ان کے ساتھیوں کی قبروں کی جگہ مختص کی گئی ہے۔

(فائل فوٹو)
اسلام آباد میں لال مسجد کے باہر رینجرز اور طلباء کے درمیان فائرنگ کا سلسلہ تین جولائی کو شروع ہوا تھا

اس مدرسہ کے اردگرد بیس بچیس گھر ہیں اور اس بستی کو عبداللہ بن غازی کا نام دیدیا گیا ہے۔

عبدالرشید غازی کے کزن عبدالوہاب نے کہا:’انہیں کچھ علم نہیں ہے کہ ان کے ساتھ اس گاؤں کے کتنے لوگ مارے گئے ہیں‘۔

علاقے میں پولیس کی غیر معمولی نفری تعینات کی گئی ہے جبکہ رینجرز کے دستے بھی موجود ہیں۔

ضلعی پولیس افسر مقصودالحسن نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں سرکاری طور پر کوئی ایسی اطلاع نہیں ملی ہے کہ عبدالرشید غازی کی میت یہاں لائی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کی تعیناتی غیر معمولی نہیں ہے۔ گیس پائپ لائن کی حفاظت کے پیش نظر رینجرز پہلے سے ضلع میں موجود رہتی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ مذہبی رجحانات نہیں رکھتا۔ ضلعی پولیس افسر کے بقول محرم الحرام کےدنوں میں بھی یہاں خصوصی نفری لگانےکی ضرورت نہیں رہتی البتہ بلوچوں کے مختلف قبائل کا آپس میں جھگڑا رہتا ہے۔

مولانا عبدالرشید غازی کا تعلق مزاری برادری کی سڈوانی شاخ سے ہے اور مقامی لوگو ں کے مطابق ان کے والد عبداللہ بن غازی شروع سے ہی پراسرار مذہبی شخصیت کے حامل رہے ہیں۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ صدر ایوب نے سنہ انیس سو چھیاسٹھ میں عبداللہ غازی کو اس علاقے سے اسلام آباد بلایا اور انہیں مسجد کا خطیب مقرر کیا تھا جس کے بعد سے ان کی سرگرمیوں کا مرکز اسلام آباد ہی رہا البتہ یہاں ان کا کسی نہ کسی حد رابطہ رہا ہے۔

اسی گاؤں کے ایک ضعیف شخص عبداللہ کو بھی اپنے بیٹے انعام اللہ کی میت کا انتظار ہے۔ انعام اللہ اسلام آباد کی مارگلہ ٹاؤن مسجد کے خطیب تھے اور ان کے والد کو خدشہ ہے کہ وہ بھی عبدالرشید غازی کے ہمراہ ہلاک ہوچکے ہیں۔

عبدالرشید غازی (فائل فوٹو)عبدالرشید سے مولانا
وہ حافظ کے لفظ سے احتراز کرتے رہے
گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستانی فوج کو تشدد کے مختلف واقعات سے نمٹنا پڑا ہےتشدد کی فہرست
حالیہ برسوں میں پاکستان میں تشدد اور ہلاکتیں
’محصور‘ بچوں کے رشتہ دار’گولی کی آواز دل پر‘
مسجد میں’محصور‘ بچوں کے رشتہ داروں کے تاثرات
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد