عبدالرشید غازی کو دفن کر دیا گیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے لال مسجد کے نائب مہتمم عبدالرشید غازی کو ان کے آبائی گاؤں روجھان مزاری میں دفن کر دیا گیا ہے۔ ان کی تدفین میں تین گھنٹے کی تاخیر ہوئی کیونکہ چند افراد کا انتظار کیا جا رہا تھا۔ ان افراد میں صوبہ سرحد سے تعلق رکھنے والے رکنِ اسمبلی شاہ عبدالعزیز اور دوسرے مذہبی رہنما شامل تھے۔ دوسری طرف لال مسجد اور مدرسہ حفصہ میں ہلاک ہونے والے افراد کی لاشوں کی تدفین اسلام آباد کے ایچ الیون قبرستان میں کی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان افراد کی تدفین امانتاً کی جا رہی ہے۔ نائب مہتمم عبدالرشدید غازی کی نماز جنازہ ان کے آبائی گاؤں میں ادا کر دی گئی ہے جو ان کے بھائی مولانا عبد العزیز نے پڑھائی ہے۔ حکام کے مطابق تدفین سے قبل ان لاشوں کی شناخت اور پوسٹ مارٹم کا عمل مکمل کرنا ضروری ہے۔ اطلاعات کے مطابق ہلاک شدگان کے انگلیوں کے نشانات کا ریکارڈ بھی بنایا گیا ہے۔
اطلاعات کا مطابق سہالہ کی پرانی پولیس اکیڈمی میں لاشوں کو غسل دینے کے بعد نماز جنازہ ادا کی گئی۔ سپریم کورٹ نے مولانا عبدالرشید غازی کی تدفین کو اس وقت تک روکنے کا حکم جاری کر دیا تھا جب تک ان کی بہنیں ان کی میت کو نہ دیکھ لیں۔ سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے مولانا غازی کی تین بہنوں، عائشہ، جمیلہ اور نبیلہ کی درخواست پر وزارت داخلہ کے ترجمان بریگیڈئر (ریٹائرڈ) جاوید اقبال چیمہ کو عدالت میں طلب کیا تھا۔ درخواست گزاروں کا مطالبہ تھا کہ عبد الرشید غازی، ان کی والدہ اور مولانا عبدالعزیز کے بیٹے حسان کو اسلام آباد کے سیکٹر ای سیون میں واقع جامعہ فریدہ میں دفنایا جائے۔ جسٹس محمد نواز عباسی اور جسٹس فقیر محمد کھوکھر پر مشتمل بینچ نے حکومت کو حکم جاری کیا کہ وہ عبد الرشید غازی کی بہنوں کو راجن پور پہنچانے کے انتظامات کریں اور تدفین کو اس وقت مؤخر رکھا جائے جب تک بہنیں اپنے بھائی کی میت کو دیکھ نہ لیں۔ بدھ کی صبح کو حکام نے اعلان کیا تھا کہ فوجی آپریشن کے نتیجے میں لال مسجد اور اس سے ملحقہ جامعہ حفصہ کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے اور مسجد اور مدرسے حفصہ سے دو روز کی کارروائی کے بعد تہتر لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ اسلام آباد سے ہارون رشید کی رپورٹ کے مطابق فوجی حکام کا کہنا ہے کہ فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے بتایا کہ کئی لاشیں جل کر راکھ ہوچکی ہیں اور ان کی شناخت شاید ممکن نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ عمارتوں کے ملبے سے شاید ایک یا دو لاش مزید ملیں تاہم اس کا بھی اتنا امکان نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان میں عورتوں کی کوئی لاش نہیں ہے۔ یہ لاشیں مزید کارروائی کے لیےمقامی انتظامیہ کے حوالے کر دی گئی ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق تقریباً دو روز تک جاری رہنے والے آپریشن میں نو فوجی اور ساٹھ سے زائد شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم خدشہ ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ فوجی آپریشن میں ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں رات بھر لال مسجد سے آئی ایٹ میں قائم ایک مردہ خانے میں منقتل کی جاتی رہیں۔ |
اسی بارے میں غازی کی تدفین روجھان میں متوقع11 July, 2007 | پاکستان 8 فوجی ہلاک، 29 زخمی ہوئے10 July, 2007 | پاکستان علما اور وزراء کا عبدالرشید سے رابطہ09 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: فائرنگ جاری، اکیس ہلاکتیں06 July, 2007 | پاکستان ’مشرف کے طیارے پر ناکام حملہ‘06 July, 2007 | پاکستان فائرنگ کا تبادلہ پھر شروع06 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: فائرنگ سے دیواریں چھلنی06 July, 2007 | پاکستان لال مسجد سے نکلنے کے لیے طلبا کو مہلت05 July, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||