شلپا کےساتھ یوگااور لاپتہ تبو | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گلیمر کے ساتھ یوگا اگر یوگا کرنے کی ہدایت کوئی پرکشش حسینہ دے تو کون کافر اس سے انکار کرے گا۔ بس اب تیار ہو جائیےشلپا شیٹی سے یوگا کے گر سیکھنے کے لیے۔ اپنی پرفیوم لانچ کرنے کے بعد شلپا اب یوگا کی ڈی وی ڈی جاری کررہی ہیں لیکن یہ ڈی وی ڈی ہندستانیوں کے لیے نہیں ہے، پہلے لندن پھر دبئی اس کے بعد یورپی ممالک اور امریکہ کے بعد کہیں آپ ہندستانیوں کا نمبر آئے گا۔ شاید شلپا ہم سے بدلہ لے رہی ہیں۔ کیوں ؟ وہ اس لیے کہ جب تک وہ بالی وڈ میں تھیں آپ نے ان کی قدر کہاں کی تھی وہ تو لندن نے ان کی اداؤں کو پہچانا بس اس لیے وہ ان کے ساتھ پوری طرح سے وفا کررہی ہیں۔ وزنی لارا ہمیش کی شرم گلوکار موسیقار اور اداکار ہمیش ریشمیا پردے پر محبت کرنے سے گھبراتے ہیں شاید اسی لیے انہوں نے پوجا بھٹ کو ان کی فلم ’ کجرارے ‘ میں ایسے ہی ایک منظر کی عکس بندی سے منع کر دیا۔ پوجا کی فلم پاکستان کی لاہور کی ہیرا منڈی اور اس کے پس منظر پر فلمائی جانے والی فلم ہے۔ جس کی شوٹنگ مراکش کے ساتھ ساتھ لاہور میں بھی ہو گی۔ ہمیش کے انکار کے بعد آخر کار فلم کی سکرپٹ میں تبدیلی کرنی ہی پڑی۔۔۔پوجا کیسے مان گئیں پتہ نہیں ویسے مہیش اور پوجا کی فلموں میں تو ایسے منظر کی بھر مار رہتی ہے۔
ایک سو بیس کروڑ روپے کی فلم؟ بالی وڈ کے فلمسازوں نےاب تک چالیس سے پچاس کروڑ روپے لاگت کی فلمیں ہی بنائی تھیں لیکن ایک سو بیس کروڑ روپے کی فلم ! یقین نہیں آیا لیکن ہمارے خبرو نے جو خبر دی اس کے مطابق تو اس پر یقین کرنا ہی پڑے گا۔ کمل ہاسن نے اپنی فلم ’مرما یوگی ‘ کے لیے والٹ ڈزنی پروڈکشن ہاؤس سے ہاتھ ملایا ہے ۔سترہویں صدی کے پس منظر پر مبنی یہ فلم اب تک کی سب سے مہنگی فلم ثابت ہو گی اور شاید کمل ہاسن اپنی زندگی میں کچھ سابقہ ریکارڈ بھی توڑنے کی کوشش کریں۔ بھنسالی کا پیار سنجے لیلا بھنسالی کی فلم سانوریا چاہے فلاپ ہو گئی ہو۔(بھنسالی جی ہم آپ کے پرستار ضرور ہیں لیکن معاف کیجیے گا یہی حقیقت ہے ) بھنسالی کی ہمت نہیں ٹوٹی وہ پاکستان میں لاہور کی ہیرا منڈی پر فلم بنانے کے لیے ریسرچ ضرور کر رہے ہیں لیکن اب وہ اپنا پہلا اوپرا ڈائرکٹ کرنے کی تیاریوں میں ہیں۔ جی ہاں وہ رانی پدماوتی کے عشق کی داستان کو بیلے رقص کے ذریعہ پیش کریں گے جسے انیس سو تئیس میں البرٹ رسل نے پیش کیا تھا۔ بھنسالی کا یہ شو پیرس کے نامور اوپیرا ہاؤس تھیئٹر’دی شیلیٹ‘میں پیش ہو گا۔ پچاس سالہ ہیروئین کی تلاش ہاں بھئی امیتابھ بچن کے سامنے بطور ہیروئین ایک پچاس سالہ اداکارہ کی تلاش ہے۔آپ سوچ رہے ہوں گے کیا فلمساز اس بات سے واقف نہیں کہ ریکھا (شاید وہ اب امیتابھ جی کے ساتھ کام کرنا پسند نہ کریں ) یا پھر ہیما مالنی یا پھر زینت امان جیسی کئی اداکارائیں ہیں۔ ویسے یہ ساٹھ سالہ ہیروئین پچاس کی بھی تو نہیں لگتیں۔ فلمساز اس وقت حیرت انگیز طور پر کم عمر ہیروئین ساریکا اور شیفالی چھایا کے نام پر غور کر رہے ہیں۔
ایڈوانی کی کال ایل کے ایڈوانی نے عامر خان کو فون کیا۔ نہیں۔۔۔ان کی فلم کی نمائش رکوانے کے لیے نہیں بلکہ ان کی فلم تارے زمین پر دیکھنے کے لیے۔۔بہت لوگوں کو شاید پتہ نہیں کہ ایڈوانی عامر کے بڑے پرستار ہیں۔عامر فورا دہلی پہنچے اور انہوں نے ایڈوانی اور ان کی فیملی کے لیے خصوصی شو کیا۔ ایڈوانی کو فلم بہت پسند آئی۔ایڈوانی نے اس سے پہلے اسی طرح عامر کی فلم لگان بھی دیکھی تھی۔۔۔۔وہ سب تو ٹھیک ہے ایڈوانی جی لیکن پھر یہ کیا کہ آپ کی ہی پارٹی کے لوگ عامر کے دُشمن بنے ہیں اور ان کی فلمیں گجرات میں دکھائی ہی نہیں جاتی۔اپنے ہیرو کے ساتھ یہ سلوک کیا آپ بند نہیں کروا سکتے۔۔۔۔۔ ممو کی تقدیر ہالی وڈ بالی وڈ میں
لاپتہ تبو شلپا پر فلم شلپا شیٹی پر فلم بنے گی۔ اب اگر اس وقت بھی شلپا کے نام کو کیش نہیں کیا گیا تو کب کریں گے؟ بگ برادر کے واقعہ کے بعد ہی سنی دیول نے شلپا پر فلم بنانے کی تیاری کر لی تھی۔ فلم کا نام ’ دی مین‘ ہے لیکن شلپا اتنی مصروف تھیں کہ خود انہیں وقت ہی نہیں ملا۔ اب بہت جلد یہ فلم شروع ہو گی اور اس فلم کی خاصیت یہ ہو گی کہ اس میں بگ برادر کے وہ شاٹس بھی شامل کیے جائیں گے جس کی وجہ سے وہ مشہور ہوئیں۔دیکھیں اس فلم سے سنی کو کتنی شہرت ملتی ہے۔ |
اسی بارے میں نئے سال کا جشن اور شلپا کا نیا ساتھی 31 December, 2007 | فن فنکار بالی وڈ: فلاپ اور بے معنی کامیڈی فلموں کا سال30 December, 2007 | فن فنکار سنجے کی کمائی، مادھوری کا دیوانہ03 December, 2007 | فن فنکار خان کا جادو اور عرفان کی چھلانگ12 November, 2007 | فن فنکار کرینہ کی بکنی اور زید کی فراخدلی29 October, 2007 | فن فنکار بالی وڈ سٹارز میں فلمسازی کا رحجان24 October, 2007 | فن فنکار بالی وڈ ڈائری 22 October, 2007 | فن فنکار فلم’ایکلویہ‘ آسکر کے لیے نامزد 25 September, 2007 | فن فنکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||