BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 12 December, 2008, 12:53 GMT 17:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کار صنعت، امدادی پیکیج کی نامنظوری
امریکی کار کمپنیاں
امریکی کار کمپنیوں کو مشکل حالات کا سامنا ہے
امریکہ میں کار بنانے والی کمپنیوں کو بچانے لئے چودہ ارب ڈالر کے ایک حکومتی پیکیج کو امریکی سینیٹ نے نامنظور کردیا ہے جس کے بعد اس طرح کے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں کہ کار صنعت میں کرنے والے لوگوں کو بےروزگاری کا سامنا ہے۔

کار کی صعنت کو بچانے کے اس پیکیج پر وائٹ ہاؤس اور سینیٹ کے اراکین کے درمیان معاملہ طے ہوگیا تھا۔ لیکن اب سینیٹ سے نامنظوری کے بعد دنیا کے حصص بازاروں میں شیئر کی قیمتیں فوری طور پر گرگئی ہیں۔

اس خبر پر جاپان کا نِکی انڈیکس چار سو چوراسی اعشاریہ اڑسٹھ پوائنٹ نیچے گرگیا جبکہ کار بنانے والی جاپانی کمپنیوں ٹویوٹا، ہونڈا اور نِسان کے حصص کی قیمتوں پر میں کم سے کم دس فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی۔

جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے حصص بازاروں میں بھی اس خبر کا برا اثر پڑا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ چودہ کروڑ ڈالر کا امدادی پیکیج امریکہ میں کار کی صنعت کو دیوالیہ پن سے بچانے کا سب سے اچھا موقع تھا۔

اس امدادی پیکیج کی ناکامی اس بات پر ہوئی کہ ریپبلِکن پارٹی نے مطالبہ کیا تھا کہ کار صنعت میں کام کرنے والوں کی یونین یونائٹیڈ آٹو ورکرز ملازمین کی تنخواہ میں کمی پر رضامند ہو۔ لیکن اس تجویز کی یونین کی جانب سے مخالفت کے بعد ریپلِکن رہنما اس بارے میں ہونے والے مذاکرات سے چلے گئے۔

دوسری جانب ڈیموکریٹِک پارٹی کے رہنماؤں نے صدر جارج بش سے کہا ہے کہ وہ کار کی صنعت کو بچانے کے لیے اس پہلے سے طے پانے والے سات سو بلین ڈالر کے اس پیکیج سے امداد فراہم کریں جو مجموعی طور پر امریکی معیشت کو بچانے کی لیے منظور کیا گیا ہے۔

اس سے قبل سرکاری عہدیداران نے بتایا تھا کہ اہم نکات پر اصولاً اتفاق ہوگیا ہے۔ مجوزہ منصوبے کے تحت کرائسلر اور جنرل موٹرز کو پندرہ ارب ڈالر کی ہنگامی امداد حاصل ہوسکتی ہے لیکن فورڈ کا کہنا ہے کہ اسے اس کم مدت کے قرض کی ضرورت نہیں ہے۔

فورڈ کا دعویٰ ہے کہ حکومت سے قرض نہ لینے سے صارفین کی نظروں میں اس کی شبیہہ بہتر ہوگی۔

حکومت کے منصوبے کے تحت ایک نیا عہدہ قائم کیا جانے والا ہے جس کی بنیادی طور پر دو ذمہ داریاں ہوں گی: ایک یہ کہ قرض کے طور پر دی جانے والی رقم کس طرح خرچ کی جا رہی ہے اور دوسری یہ کہ کار صنعت میں ساختیاتی اصلاحات کو کیسے یقینی بنایا جائے۔

سینیٹ سے مجوزہ پیکیج کی نامنظوری کے بعد ’ڈیٹروئٹ تھری‘ کہلانے والی کاریں بنانے والی کمپنیوں کے دیوالیہ ہو جانے کا خطرہ ابھی برقرار ہے ۔کار کمپنیوں کو جو تبدلیاں کرنی ہوں گی ان میں خرچے اور قرضے کم کرنے اور ایسی ٹیکنالوجی پر، جو ماحولیات کے لیے مضر نہ ہو، سرمایہ کاری کرنا شامل ہے۔

فورڈ اور جی ایم کے چیف ایگزیکیوٹیوز نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اگر کانگریس ہنگامی امداد منظور کر لیتی ہے تو وہ پورے ایک سال صرف ایک ڈالر پر بھی کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

فورڈ نے اس سال نومبر میں گزشتہ سال اسی ماہ کے مقابلے میں 31 فیصد کم ہلکی گاڑیاں بیچی ہیں۔ جنرل موٹرز نے اس ماہ 41 فیصد کم گاڑیاں بیچی جبکہ کرائسلر کو سب سے زیادہ نقصان ہوا اور اس نے 47 فیصد کم گاڑیاں فروخت کی ہیں۔

 ماہرین کے مطابق آئندہ برسوں میں امریکی ڈالر کا اثر و رسوخ کم ہی ہوگاڈالر کی موت؟
ڈالر – دنیا کی کرنسی، امریکہ کا مسئلہ
امریکہ ریکارڈ خسارہ
دو ہزار نو کیلیے چار سو اڑتیس ارب کے تخمینے
غیر یقینی صورتحال
ایشیائی، یورپی شیئر بازار میں ملا جلا رجحان
ایوان نمائندگانبحران ٹل جائےگا
امریکہ: سات سو ارب کا بیل آؤٹ بل منظور
بچہچین بھی بے چین
شرحِ سود میں ستمبر سے اب تک چوتھی بار کمی
امریکی مالی بحران
امریکی پیکج، اعتراضات اور مستقبل
یہ امریکہ ہے
ٹیکسوں میں اور کمی، اخراجات میں اور زیادتی
اسی بارے میں
سٹی گروپ مشکلات سے دوچار
22 November, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد