کار صنعت، امدادی پیکیج کی نامنظوری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں کار بنانے والی کمپنیوں کو بچانے لئے چودہ ارب ڈالر کے ایک حکومتی پیکیج کو امریکی سینیٹ نے نامنظور کردیا ہے جس کے بعد اس طرح کے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں کہ کار صنعت میں کرنے والے لوگوں کو بےروزگاری کا سامنا ہے۔ کار کی صعنت کو بچانے کے اس پیکیج پر وائٹ ہاؤس اور سینیٹ کے اراکین کے درمیان معاملہ طے ہوگیا تھا۔ لیکن اب سینیٹ سے نامنظوری کے بعد دنیا کے حصص بازاروں میں شیئر کی قیمتیں فوری طور پر گرگئی ہیں۔ اس خبر پر جاپان کا نِکی انڈیکس چار سو چوراسی اعشاریہ اڑسٹھ پوائنٹ نیچے گرگیا جبکہ کار بنانے والی جاپانی کمپنیوں ٹویوٹا، ہونڈا اور نِسان کے حصص کی قیمتوں پر میں کم سے کم دس فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی۔ جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے حصص بازاروں میں بھی اس خبر کا برا اثر پڑا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ چودہ کروڑ ڈالر کا امدادی پیکیج امریکہ میں کار کی صنعت کو دیوالیہ پن سے بچانے کا سب سے اچھا موقع تھا۔ اس امدادی پیکیج کی ناکامی اس بات پر ہوئی کہ ریپبلِکن پارٹی نے مطالبہ کیا تھا کہ کار صنعت میں کام کرنے والوں کی یونین یونائٹیڈ آٹو ورکرز ملازمین کی تنخواہ میں کمی پر رضامند ہو۔ لیکن اس تجویز کی یونین کی جانب سے مخالفت کے بعد ریپلِکن رہنما اس بارے میں ہونے والے مذاکرات سے چلے گئے۔ دوسری جانب ڈیموکریٹِک پارٹی کے رہنماؤں نے صدر جارج بش سے کہا ہے کہ وہ کار کی صنعت کو بچانے کے لیے اس پہلے سے طے پانے والے سات سو بلین ڈالر کے اس پیکیج سے امداد فراہم کریں جو مجموعی طور پر امریکی معیشت کو بچانے کی لیے منظور کیا گیا ہے۔ اس سے قبل سرکاری عہدیداران نے بتایا تھا کہ اہم نکات پر اصولاً اتفاق ہوگیا ہے۔ مجوزہ منصوبے کے تحت کرائسلر اور جنرل موٹرز کو پندرہ ارب ڈالر کی ہنگامی امداد حاصل ہوسکتی ہے لیکن فورڈ کا کہنا ہے کہ اسے اس کم مدت کے قرض کی ضرورت نہیں ہے۔ فورڈ کا دعویٰ ہے کہ حکومت سے قرض نہ لینے سے صارفین کی نظروں میں اس کی شبیہہ بہتر ہوگی۔ حکومت کے منصوبے کے تحت ایک نیا عہدہ قائم کیا جانے والا ہے جس کی بنیادی طور پر دو ذمہ داریاں ہوں گی: ایک یہ کہ قرض کے طور پر دی جانے والی رقم کس طرح خرچ کی جا رہی ہے اور دوسری یہ کہ کار صنعت میں ساختیاتی اصلاحات کو کیسے یقینی بنایا جائے۔ سینیٹ سے مجوزہ پیکیج کی نامنظوری کے بعد ’ڈیٹروئٹ تھری‘ کہلانے والی کاریں بنانے والی کمپنیوں کے دیوالیہ ہو جانے کا خطرہ ابھی برقرار ہے ۔کار کمپنیوں کو جو تبدلیاں کرنی ہوں گی ان میں خرچے اور قرضے کم کرنے اور ایسی ٹیکنالوجی پر، جو ماحولیات کے لیے مضر نہ ہو، سرمایہ کاری کرنا شامل ہے۔ فورڈ اور جی ایم کے چیف ایگزیکیوٹیوز نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اگر کانگریس ہنگامی امداد منظور کر لیتی ہے تو وہ پورے ایک سال صرف ایک ڈالر پر بھی کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ فورڈ نے اس سال نومبر میں گزشتہ سال اسی ماہ کے مقابلے میں 31 فیصد کم ہلکی گاڑیاں بیچی ہیں۔ جنرل موٹرز نے اس ماہ 41 فیصد کم گاڑیاں بیچی جبکہ کرائسلر کو سب سے زیادہ نقصان ہوا اور اس نے 47 فیصد کم گاڑیاں فروخت کی ہیں۔ |
اسی بارے میں ایک ڈالر سالانہ بھی منظور ہے03 December, 2008 | آس پاس کار کمپنیوں کی امداد پر اتفاق10 December, 2008 | آس پاس ڈائیوو نے آدھا ملک پٹے پر لے لیا20 November, 2008 | آس پاس امریکی بجٹ میں ریکارڈ خسارہ10 September, 2008 | آس پاس امریکی کار صنعت، امداد کا مطالبہ19 November, 2008 | آس پاس امریکہ بے روزگاری میں مسلسل اضافہ02 August, 2008 | آس پاس برطانیہ: کساد بازاری کی وارننگ22 October, 2008 | آس پاس سٹی گروپ مشکلات سے دوچار22 November, 2008 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||