کار کمپنیوں کی امداد پر اتفاق | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں شدید مشکلات کا شکار کار صنعت کو بچانے کے لیے وہائٹ ہاؤس اور سینیٹ میں ڈیموکریٹس کےدرمیان اربوں ڈالر کے مالی پیکج پر اتفاق ہو گیا ہے۔ امریکی سرکاری عہدیداران کے مطابق اہم نکات پر اصولاً اتفاق ہوگیا ہے لیکن تفصیلات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔ اس منصوبے پر بدھ کو امریکی پارلیمان میں ووٹنگ ہوسکتی ہے۔ مجوزہ منصوبے کے تحت کرائسلر اور جنرل موٹرز کو پندرہ ارب ڈالر کی ہنگامی امداد حاصل ہوسکتی ہے لیکن فورڈ کا کہنا ہے کہ اسے اس کم مدت کے قرض کی ضرورت نہیں ہے۔ فورڈ کا دعوی ہے کہ حکومت سے قرض نہ لینے سے صارفین کی نظروں میں اس کی شبیہہ بہتر ہوگی۔ حکومت کے منصوبے کے تحت ایک نیا عہدہ قائم کیا جائے گا جس کی بنیادی طور پر دو ذمہ داریاں ہوں گی۔ ایک یہ کہ قرض کے طور پر دی جانے والی رقم کس طرح خرچ کی جارہی ہے اور دوسرا کار صنعت میں ساختیاتی اصلاحات کو یقینی بنانا۔ اور اگر یہ صنعت خاطر خواہ انداز میں خود کو نہیں بدلتی، تو یہ قرض واپس لے لیا جائے گا۔ لیکن اس منصوبے میں ابھی ترامیم ممکن ہیں کیونکہ سینیٹ کے ریپبلیکن ارکان نے اس کی منظوری نہیں دی ہے۔ ’ڈیٹروئٹ تھری‘ کہلانے والی کاریں بنانے والی ان کمپنیوں کے دیوالیہ ہو جانے کا خطرہ ہے کیونکہ کیونکہ امریکیوں نے بگڑتی ہوئی اقتصادی صورتِ حال کے پیشِ نظر خرچ کرنا کم کر دیا ہے۔ کار کمپنیوں کو جو تبدلیاں کرنی ہوں گی ان میں خرچے اور قرضے کم کرنے اور ایسی ٹیکنالوجی پر، جو ماحولیات کے لیے مضر نہ ہو، سرمایہ کاری کرنا شامل ہے۔ فورڈ اور جی ایم کے چیف ایگزیکیوٹیوز نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اگر کانگرس ہنگامی امداد منظور کر لیتی ہے تو وہ پورے ایک سال صرف ایک ڈالر پر بھی کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ فورڈ نے اس سال نومبر میں گزشتہ سال اسی ماہ کے مقابلے میں 31 فیصد کم ہلکی گاڑیاں بیچی ہیں۔ جنرل موٹرز نے اس ماہ 41 فیصد کم گاڑیاں بیچی جبکہ کرائسلر کو سب سے زیادہ نقصان ہوا اور اس نے 47 فیصد کم گاڑیاں فروخت کی ہیں۔ |
اسی بارے میں امریکی بجٹ میں ریکارڈ خسارہ10 September, 2008 | آس پاس امریکہ بے روزگاری میں مسلسل اضافہ02 August, 2008 | آس پاس برطانیہ: کساد بازاری کی وارننگ22 October, 2008 | آس پاس سٹی گروپ مشکلات سے دوچار22 November, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||