امریکی کار صنعت، امداد کا مطالبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں کار بنانے والی تین سب سے بڑ کمپنیوں نے ملک کی پارلیمان سے پچیس ارب ڈالر کے امدادی پیکج کا مطالبہ کیا ہے۔ فورڈ، جنرل موٹرز اور کرائسلر کے سربراہوں نے امریکی سینیٹ کی بنکاری کمیٹی کے سامنے پیش ہوتے ہوئے کہا کہ اگر یہ پیکج منظور نہ کیا گیا تو ان کی کمپنیاں دیوالیہ ہوسکتی ہیں اور اس سے ملک کی معیشت کو مزید خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ جنرل موٹرز کے سربراہ رک ویگونر نے کہا کہ ان کی کمپنی اس قرض کے بغیر موجودہ مالی دشواریوں سے نہیں نمٹ سکتی۔ لیکن حکمراں ریپبلیکن پارٹی اس حق میں نہیں ہے کہ کانگریس نے بینکوں کو بچانے کےلیے جو سات سو ملین ڈالر کا پیکج منظور کیا تھا، اس میں سے کار صنعت کی بھی حصہ دیا جائے۔ مسٹر ویگونر نے کمیٹی سے کہا کہ کار بنانے والی کمپنیوں کو جن مسائل کا سامنا ہے وہ بدانتظامی کی وجہ سے نہیں بلکہ عالمی مالی بحران کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔
لیکن امریکی کانگریس میں ان کمپنیوں کے لیے زیادہ ہمدردی نہیں ہے۔ کمیٹی کے سربراہ کرسٹوفر ڈاڈ نے، جن کا تعلق ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے، کہا کہ آٹو صنعت ایسے زخموں کے لیے مرحم مانگ رہی ہے جن کے لیے وہ خود ذمہ دار ہے۔ لیکن انہوں نے اس بات سےاتفاق کیا کہ اگر یہ کمپنیاں دیوالیہ ہوگئیں تو ہزاروں لوگ بے روزگار ہو جائیں گے۔ لیکن ریپبلکن پارٹی کا کہنا ہے کہ ان کمپنیوں کے مسائل صرف عالمی مالی بحران کی وجہ سے ہی نہیں ہیں۔ ان کے مطابق فورڈ، جنرل موٹرز اور کرائسلر میں گاڑیاں بنانے پر دوسرے ملکوں کےمقابلے میں کہیں زیادہ لاگت آتی ہے۔ فورڈ کے صدر ایلن مولالی نےکہا کہ اگر ایک بھی کمپنی دیوالیہ ہوگئی تو اس کے سنگین مضمرات ہوں گے۔ نو منتخب صدر باراک اوباما آٹو صنعت کو امداد فراہم کرنے کے حق میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کمپنیاں امریکی صنعت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ ایک تخمینے کے مطابق اس صنعت میں تقریباً تیس لاکھ لوگ کام کرتے ہیں اور امریکہ کی قومی مجموعی پیداوار میں آٹو صنعت کا دس فیصد حصہ ہے۔ جنرل موٹرز کا کہنا ہے کہ وہ باراک اوباما کے حلف اٹھانے سے پہلے ہی دیوالیہ ہوسکتی ہے۔ سماعت بدھ کے روز بھی جاری رہے گی۔ |
اسی بارے میں ’معیشتیں تحفظ کےرجحان سےبچیں‘15 November, 2008 | آس پاس عالمی اقتصادی بحران پر اہم اجلاس15 November, 2008 | آس پاس کساد بازاری کا خوف اور اجلاس14 November, 2008 | آس پاس عالمی بازارِ حصص پھر مندی کا شکار12 November, 2008 | آس پاس چینی امدادی پیکج، بازار پر مثبت اثر10 November, 2008 | آس پاس جی 20 ممالک کا برازیل میں اجتماع 09 November, 2008 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||