BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کرد خواتین کا دردناک احتجاج
 کُرد خواتین
خواتین کا خود کو جلانا صدام دور کی پالیسیوں کا انجام ہے: ایک مبصر
عراق کے شہر اربل کے ہنگامی مرکز میں ڈاکٹر اور نرسیں مسلسل اسی انہماک کے ساتھ کام کر رہے ہيں جیسے پورے عراق میں ان کے ساتھی کر رہے ہیں۔

یہ ہسپتال جنگی سرجری اور جلے ہوئے زخموں کے علاج کا ایک مرکز ہے۔ چونکہ نزدیکی موصل اور دیالہ کے علاقوں ميں تشدد کا سلسلہ جاری ہے اس لیے جنگی سرجری اور جلے ہوئے زخموں کے مریض بڑی تعداد میں اس ہسپتال میں آ رہے ہیں۔

نرسوں کی سربراہ احمد محمد کئی مرتبہ خواتین کے انتہائی نگہداشت والے یونٹ یعنی ’ آئی سی یو‘ کے کئی چکر لگا چکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ’ابھی ہمارے پاس چار مریض ہیں۔‘ ایک کونے میں پڑی مریضہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ’ اس کے جسم کا اوپر کا حصہ جلا ہوا ہے، اس کے علاوہ اس کے سر اور ہاتھ بھی جلے ہوئے ہیں، یہاں تک کہ ان کی ایک ران بھی جلی ہوئی ہے۔‘

اٹھارہ سالہ ثناء گزشتہ نو ہفتے سے ہسپتال میں ہیں لیکن اس وقت اس کی انگلیوں کی پوریں اور اس کے چہرے کا چھوٹا سا حصہ نظر آ رہا ہے۔

ثناء نے بتایا کہ ’میں نے خودکشی کرنے کی کوشش کی۔ میں بیمار تھی۔ مجھے کچھ ذہنی پریشانی بھی تھی اور اسی لیے میں نے خود کو جلانے کا فیصلہ کیا۔‘

ثناء کی ذہنی حالت اور اس کی کہانی کافی پیچیدہ نظر آئی لیکن تھوڑی دیر بعد یہ پتہ چل گیا کہ اس کے سکول میں ہونے والے امتحان اس کے لیے سب سے زيادہ پریشانی کا سبب ہیں۔

روزانہ خود کشی
 طبی ذرائع اور خواتین کے لیے کام کرنے والی کارکنان کے مطابق کرد خطے میں اوسطاً ہر روز ایک خاتون خود کو مارنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان میں سے بیشتر خاندانی مشکلات کو ہی ان سب کا ذمہ دار قرار دیتی ہیں

ایک لمحہ میں وہ اپنی حالت کا ذمہ دار خود کوٹھہراتی ہے اور دوسرے ہی لمحے وہ کہتی ہے کہ اس کے خاندان والوں نے اس کی مدد نہيں کی۔

عراق کے شمال میں واقع کُرد علاقہ پورے ملک کے لیے ایک رول ماڈل ہے۔

یہ نصف خودمختار علاقہ عام طور پر محفوظ تسلیم کیا جاتا ہے۔ معاشی طور پر بھی بہتر اس علاقے کو مغربی ممالک میں اعتدال پسند مانا جاتا ہے۔

لیکن صدام حسین کے اقتدار کے بعد اس علاقے کی ہزاروں خواتین کی خود کشی کے واقے دیکھنے کو ملے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر خواتین خود کو جلا لیتی ہیں۔

طبی ذرائع اور خواتین کے لیے کام کرنے والی کارکنان کے مطابق کرد خطے میں اوسطاً ہر روز ایک خاتون خود کو مارنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان میں سے بیشتر خاندانی مشکلات کو ہی ان سب کا ذمہ دار قرار دیتی ہیں۔

خواتین کے ریڈیو سٹیشن میں کام کرنے والے اہلکاروں نے ثناء جیسی کئی کہانیاں سنی ہیں۔

میڈیکل سینٹر جنگی زخمیوں اور جلی ہوئی خواتین کے علاج میں مصروف ہے

خواتین کے لیے ایک ریڈیو سٹیشن اور سنٹر چلانے والی چلورا ہرڈی کا کہنا تھا کہ ’جس طرح یہ خود کو مارتی ہیں وہ اصل المیہ ہے۔ کیا کوئی خود پر تیل ڈالنے اور پھر آگ لگانے کے بارے میں سوچ سکتا ہے۔ بعض خواتین خود کو ایک کمرے میں بند کر لیتی ہیں تا کہ انہیں بچانے کے لیے کوئی نہ آ سکے۔‘

سینٹر میں کام کرنے والی کارکنوں میں سے بعض کا کہنا ہے کہ مہذب خواتین بھی یہ قدم اٹھانے کے لیے مجبور ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اگر کوئي خاتون غلط کام کرتی ہے تو جہنم میں اس کا چہرہ جلا دیا جائے گا۔

جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ ریاستی اور مردوں کے سماج ميں ایک عورت کے درد کو سمجھانے کے لیے اس قسم کا بڑا قدم ہی واحد راستہ رہ جاتا ہے۔

چلورا ہارڈی کا کہنا ہے ’ جب صدام حسین تھے تو انہوں نے خواتین کو ہر لحاظ سسے دبانے کی کوششں کی۔‘

کردوں کے خلاف انفال نامی مہم کے دوران صدام نے تمام مردوں کو مار دیا اور عورتوں اور بچوں کو خراب حالات میں زندگی گزارنے کو چھوڑ دیا۔ تیس سال تک ایسا تھا، اب حالات بدلنے میں کافی وقت لگے گا۔ یہ ایک سست اور دردناک عمل ہے۔

کرد علاقے کے انسانی حقوق کے وزیر اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ خواتین کا خود کو جلانا ایک بڑی پریشانی ہے اور حکومت کچھ کرنے میں ناکام ہے۔

خواتین کی تعلیم عام کرنے کوششیں جاری ہیں لیکن ایک عرصے سے جن روایات کو روک کر رکھا گیا ہے انہیں بدلنے میں کافی وقت لگے گا۔

انسانی حقوق کے وزیر ڈاکٹر یوسف شوان عزیز کا کہنا ہے کہ ’ہماری برادری میں ہر قسم کے لوگ ہیں۔ خوش قسمتی سے زیادہ تر اعتدال پسند ہیں۔ وہ عورتوں اور مردوں دونوں کی ترقی میں یقین رکھتے ہیں۔‘

لیکن کرد خواتین وزیر کی اس دلیل سے اتفاق نہیں رکھتی ہیں۔ چیمن کا، جن کی بہن جل کر ہلاک ہو گئی تھیں، کا کہنا ہے تھا: ’مجھے نہیں لگتا ہے کہ یہاں عورتوں کو کوئی اختیارات حاصل ہیں۔ ہمارے سماج کی سچائی بالکل مختلف ہے۔یہ ایک حقیقت ہے، حکومت کا نظام جاگیردارانہ ہے اور ان کے پاس کسی پریشانی کا کوئی حل نہیں ہے۔‘

عراقی کرفیوسکیورٹی پر تشویش
عراق: دن کے کرفیو کے وقت میں مزید اضافہ
عراقخوف کےسائے
بصرہ کے لوگ خوف کے سائے تلے زندہ ہیں
پارلیمان کا اجلاس
کیا نئی قیادت سیاسی استحکام قائم کرسکے گی؟
عراق میں خانہ جنگی
کیا عراق میں خانہ جنگی شروع ہو چکی ہے ؟
برطانوی فوجیعراق میں تشدد
بارہ شیعہ مسلمانوں کو قتل کر دیا گیا
عراقی انتخابات ٹرننگ پوائنٹ؟
عراقی انتخابات کیا واقعی ٹرننگ پوائنٹ ہوں گے
اسی بارے میں
عراق کا قومی پرچم تبدیل
23 January, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد