BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق، فوجی انخلاء پر بحث منظور
امریکی سینٹ لوگو (فائل فوٹو)
وائٹ ہاؤس نے ڈیموکریٹس کی تحریک کو ویٹو کرنے کی دھمکی دی ہے
امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے پیش کردہ عراق سے امریکی فوج کے انخلاء کی تحریک بحث کے لیے منظور کر لی گئی ہے۔

اس سے قبل بھی سینٹ میں دو مرتبہ ریپبلیکن پارٹی عراق جنگ پر بحث کے لیے ڈیموکریٹ پارٹی کی کوششوں کو ناکام بنا چکی ہے۔ تاہم اس مرتبہ ریپبلیکن پارٹی کے اراکین نے ڈیموکریٹس کی جانب سے پیش کردہ تحریک پر کی جانے والی رائے شماری میں حصہ لیا اور 89 افراد نے اس تحریک پر بحث شروع کرنے کے حق میں جبکہ نو افراد نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیا۔

تاہم اس قرار داد کی کامیابی کے امکانات معدوم ہیں کیونکہ برسر اقتدار جماعت ریپبلیکن پارٹی نے اس قرار داد کو ناکام بنانے کا اعادہ کیا ہے اور وائٹ ہاؤس نےاسے ویٹو کرنے کی دھمکی دی ہے۔

ریپبلیکن ارکان کا اس بار ووٹ دینے کے حوالے سے یہ موقف تھا کہ انہوں نے ایسا اس لیے کیا تاکہ اس بات کو واضح کیا جا سکے کہ عراق سے امریکی فوج کی واپسی ایک غلط اقدام ہوگا۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے مارچ 2008 تک امریکی فوج کی عراق سے واپسی کے مطالبے کے بارے میں سینٹ میں ریپبلیکن پارٹی کے اقلیتی رہنما میچ میکونل کا کہنا تھا: ’اس قرار داد کے لیے ہمارے مخالف کافی عرصے سے منتظر تھے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے پیش کی جانی والی سابقہ تحریکوں میں صدر بش کی عراق میں فوج کی تعداد میں اضافے کی مخالفت کا اظہار کیا جاتا تھا۔ تاہم اس مرتبہ پیش کی جانے والی تحریک میں فوج کے انخلاء کے اوقات کار کے علاوہ مخالف جماعت کی جانب سے اس موضوع پر پسپائی کا واضح اشارہ بھی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تحریک کی کامیابی عراق میں ہمارے منصوبوں کے لیے مکمل تباہ کن ثابت ہوگی۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے ایک رکن سینیٹر جوزف بیڈن کا کہنا تھا کہ ریپبلیکن پارٹی محض صدر بش اور ان کی بدترین پالیسیوں کا دفاع کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے اور اسی پالیسی نے تین ہزار دو سو امریکی فوجیوں کی جانیں لی ہیں۔

ڈیموکریٹس اس سے قبل بھی عراق جنگ پر سینیٹ میں دو قراردادیں پیش کر چکے ہیں

ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ صدر بش سے یہ کہا جائے کہ آپ نے نہ صرف ہمیں ایک خطرناک راستے پر لا کھڑا کیا ہے بلکہ آپ نے ہمیں ہی خطرے سے دوچار کردیا ہے۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ حالیہ تحریک پر بحث کب تک چلے گی۔ کسی قرارداد کو ایک خاص اکثریت سے منظور یا ناکام بنانے سے متعلق سینیٹ کے قوانین کے تحت ڈیموکریٹس کی حالیہ تحریک کی کامیابی کے امکانات خاصے معدوم نظر آتے ہیں۔

اس مرتبہ بھی ریپبلیکن پارٹی کے اراکین ڈیموکریٹک پارٹی کے حالیہ اقدام کو ناکام بنانے کے لیے سرگرم ہوں گے۔ اس کے ساتھ سینیٹ میں 49/51 اکثریت کی حامل ڈیموکریٹک پارٹی اپنی پیش کردہ تحریک کی کامیابی کے بارے میں
پراعتماد نہیں ہے۔

تاہم سینٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ایک رکن ہیری ریڈ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ریپبلیکنز خطرناک کھیل رہے ہیں کیونکہ جس اعتماد سے انہوں نے تحریک پر بحث شروع کرنے سے متعلق کی جانے والی رائے شماری میں حصہ لیا ہے اس سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ آگے جا کر وہ اسے ناکام بنانے کی صحیح پوزیشن میں ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس تحریک کو اچانک ختم بھی کر سکتے ہیں اور اس وقت ریپبلیکنز کی اکثریت کا یہی خیال ہوگا کہ اس کو اچانک ختم کرنا ہی بہتر ہے۔

عراق کی صورت حال پر بش انتظامیہ کو خاصی مخالفت کا سامنا ہے

اگر ڈیموکریٹک پارٹی کی تحریک کامیاب ہو جاتی ہے تو عراق میں موجود ایک لاکھ چالیس ہزار فوجیوں کو چار ماہ کے دورن عراق سے مکمل انخلاء کرنا پڑے گا۔ تاہم فوجیوں کی ایک غیر واضح تعداد عراق کی فوج کو تربیت دینے، ملک میں دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز اور وہاں موجود امریکی حکام کے تحفظ کے لیے عراق میں رہے گی۔

اس نئی تحریک کی کامیابی کی صورت میں 31 مارچ 2008 تک عراق سے امریکی فوج کے مکمل انخلاء کو ممکن بنایا جائے گا۔ ایوانِ نمائندگان میں بھی ڈیموکریٹک پارٹی نے اسی قسم کا ایک اور بل پیش کیا ہے جسے وہ اخراجات سے متعلق بل سے مشروط کرنے کی خواہش مند ہے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ بش انتظامیہ ڈیموکریٹس کی اس حالیہ تحریک کی سختی سے مخالفت کرتی ہے اور فوج کا انخلاء کمانڈر ان چیف کی حیثیت سے صدر بش کے آئینی اختیارات میں مداخلت کے مترادف ہوگا۔

بش انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق امریکی سلامتی کے لیے عراق میں کامیابی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فتح بڑی اہمیت کی حامل ہے۔

امریکی فوجیتین سال میں 3000
عراق میں اب تک 3000 امریکی فوجی ہلاک
صدر جارج بشسب سے بڑا دردِ سر
عراق میں کامیابی کے لیے بش کا نیا نسخہ
عراقی تعمیر نو
عراقی تعمیرنو کےفنڈز ضائع ہو رہے ہیں
بساطامریکہ، صدام، عراق
بساطِ سیاست: خبروں، تجزیوں کا مجموعہ
بش، عزیز ملاقات’مسئلہِ عراق‘
بش اور سرکردہ عراقی شیعہ رہنماء کی ملاقات
جنگ یا خانہ جنگی
عراقی صورتِ حال کو جنگ کہیں یا خانہ جنگی
اسی بارے میں
عراق میں چھ میرین ہلاک
07 October, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد