’امریکی سینیٹ کے الزامات جھوٹے ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی رکن پارلیمنٹ جارج گیلووے نے امریکی سینیٹ کی ایک کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کو لغو قرار دیا۔ تیل کی تجارت میں شامل ہونے کے الزامات کو رد کرتے ہوئے جارج گیلووے نے کہا کہ امریکی سینیٹ نے بلا سوچے سھمجے ان پر الزامات لگائے ہیں۔ امریکی سینٹ کی ایک کمیٹی نے جارج گیلووے پر الزام عائد کیا ہے کہ صدام حسین نے انہیں اپنی حمایت کرنے کے بدلے عراقی تیل خریدنے کی سہولت مہیا کی تھی۔ جارج گیلووے نے کہا کہ امریکی سینٹ نے جعلی دستاویزات کی بنا پر ان کے خلاف الزامات لگائے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ امریکی سینیٹ کی رپورٹ کسی اسکول کے طالب علم نے تیار کی ہے جس میں بے شمار غلطیاں ہیں۔ جارج گیلوے نے کہا کہ یہ بات ٹھیک ہے کہ وہ صدام حسین سے دو بار ملے تھے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمز فیلڈ بھی دو دفعہ عراقی صدر سے ملے تھے۔ گیلوے نے کہا ان کی ڈونلڈ رمزفیلڈ کی صدام حسین سے ملاقات میں فرق صرف اتنا تھا کہ رمز فیلڈ بندوقیں اور نقشے بھیچنے گئے تھے جبکہ وہ عراق پر لگی پابندیوں کو ختم کرانے کے سلسلے میں ان سے ملے تھے۔ جارج گیلوے نے کہا عراق پر لگی پابندیوں کی سب سے زیادہ خلاف ورزی امریکی کمپنیوں نے کی اور ایسا انہوں نے امریکی حکومت کی مرضی سے کیا۔ جارج گیلوے نے کہا کہ صدام حسین کی مخالفت میں وہ برطانوی اور امریکی حکومت سے زیادہ آگے تھے جو صدام حسین کو اسلحہ اور زیریلی گیس فراہم کر رہے تھے۔ امریکی سینیٹ کی اس کمیٹی نے جارج گیلووے اور ایک فرانسیسی سیاست دان چارلس پاسکؤا پر سابق عراق حکومت سے تیل خریدنے کے حقوق حاصل کرنے کا الزام لگایا تھا۔ جارج گیلوے امریکی سینٹ کمیٹی کے سامنے جارحانہ رویہ اختیار کیے رکھا اور کہا کہ امریکہ عراق پر حملہ کرنے کی وجہ سے دنیا کی نظروں میں ولن ہیں۔ پیر کو روسی سیاست دان ولادمیر زرینوسکی نے امریکی کمیٹی کی طرف سے عائد الزامات کی تردید کی تھی کہ انہوں نےعراق تیل کی فروخت سے کروڑوں ڈالر کمائے تھے۔ گزشتہ سال دسمبر میں جارج گیلووے نے برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف سے صدام حسین سے رشوت قبول کرنے کے الزامات میں دائر کیے گئے ایک مقدمے میں ڈیڑھ لاکھ پاونڈ کا حارجانہ وصول کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||