BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 February, 2007, 15:46 GMT 20:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق: پولیس پر زنا بالجبر کاا لزام
متاثرہ خاتون
خاتون نے میڈیا سے بھی بات چیت کی ہے لیکن اپنی شناخت نہیں ظاہر کی ہے
عراق میں ایک سنی خاتون نے عراقی پولیس پر عصمت دری کا الزام عائد کیا ہے جس سے عراقی حکومت میں اختلافات پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

خاتون کا کہنا ہے کہ مزاحمت کاروں کی حمایت کرنے کے ایک جھوٹے الزام میں انہیں ایک پولیس چوکی لے جایا گیا جہاں پولیس نے ان کے ساتھ نا صرف دست درازی کی بلکہ جنسی زیادتی بھی کی۔

عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے جو شعیہ ہیں، ان الزامات کو مسترد کردیا ہے جبکہ سینئر سنی اہلکاروں کا اصرار ہے کہ خاتون کا دعوی سچا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اس تنازع سے وہ نیا سکیورٹی منصوبہ پوری طرح ناکام ہوسکتا ہے جس کے تحت سنی علاقوں میں شیعہ پولیس کو تعینات کیا گیا ہے۔

نوری المالکی کا الزام ہے کہ اس طرح کے غلط بیانات سنی سیاسی جماعتوں کے لیے ہوتے ہیں تاکہ سکیورٹی افواج کو بدنام کیا جاسکے۔

یہ واقعہ اتوار کا ہے اور پیرکی رات کو وزیراعظم نوری المالکی نے اس کی تفتیش کے احکامات دیۓ تھے لیکن چند گھنٹے بعد ہی ان تینوں ملزموں کو الزامات سے بری کردیا گیا۔

وزیواعظم کے دفتر سے جاری ایک بیان کے مطابق ’طبی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ خاتون کے ساتھ کسی طرح کی جنسی زیادتی نہیں ہوئی ہے۔‘ اس کے ساتھ ان پولیس اہلکاروں کو اعزاز سے نوازنے کی بات بھی کہی گئی ہے۔

تاہم نائب صدر طارق ہاشمی جو سنّی ہیں ان کے ایک قریبی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے دفتر نے اس معاملے میں جلد بازی سے کام لیا ہے جبکہ ڈاکٹروں نے اس بات کی تصدیق کردی تھی کہ خاتون کے ساتھ زنا بالجبر ہوا ہے۔

مذکورہ خاتون کی شناخت کو ظاہر نہیں کیا گیا ہے لیکن ایک عربی ٹیلی ویژن چینل الجزیرہ پر انہوں نے اپنے ساتھ ہوئی زیادتی کی تفصیل بتائی ہے۔ انہیں بغداد کے پڑوس عامل کے علاقے سے حراست میں لیاگیا تھا اور بقول ان کے انہیں ایک پولیس چوکی لے جایا گیا جہاں تین پولیس افسرں نے ان کے ساتھ زیادتی کی۔
امریکی فوج کے طبی عملے نے خاتون کا معائنہ کیا تھا لیکن فوج کے ترجمان نے اس بارے میں کچھ بھی کہنے سے انکار کر دیا۔

عراق کے سنی سیاسی رہنما پولیس پر اکثر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزام عائد کرتے ر ہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سنیوں پر شیعوں کے حملوں کو بھی پوری طرح نظر انداز کیا جارہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد