BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 27 February, 2007, 12:39 GMT 17:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
احمدی نژاد کی مشکلات میں اضافہ

احمدی نژاد
احمدی نژاد پر تمام سیاسی حلقوں کی طرف سے تنقید ہورہی ہے
ایران میں اٹھارہ ماہ قبل ہونے والے انتخابات میں متاثر کن کامیابی کے بعد کسی کو یہ امید نہیں تھی کہ احمدی نژاد کو ملک کے اندر اس قدر تنقید کا سامنا کرنا پڑےگا۔

گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ان پر تمام سیاسی حلقوں کی طرف سے تنقید ہورہی ہے اور بائیں بازو، اصلاح پسند جماعتوں، سابق صدر ہاشمی رفسنجانی، بااثر قدامت پسند رہنماوں اور خود احمدی نژاد کے چند سخت گیر اتحادیوں نے ان پر تنقید کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔

جولائی دوہزار پانچ میں انتخابی کامیابی کے بعد سےاحمدی نژاد نے مسلسل جارحانہ رویہ اختیار کر رکھا ہے۔

بین الاقوامی جوہری توانائی کے ادارے اور یورپ کے ساتھ جوہری توانائی کے مسئلے پر ایران کے مذاکرات کاروں کو سخت تنقید کا سامنا ہے۔ان پر الزام ہے کہ ’انہوں نے کمزوری دکھائی ہے اور زوال پذیر مغربی طاقتوں کی خواہشات کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں۔‘

آیت اللہ خمینی کی تقلید کر تے ہوئے انہوں نے امریکی عوام کو پیغام جبکہ صدر بش کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں۔

احمدی نژاد نے کہا تھا کہ تقریبا ایک صدی سے جاری عرب اسرائیل تنازعے کا واحد حل یہی ہے کہ یہودیوں اور فلسطینیوں کے درمیان ریفرنڈم کرایا جائے تاکہ وہ اسرائیل کے مستقبل کا فیصلہ خود کرسکیں۔


انہوں نے یہودیوں کی نسل کشی یعنی ہولو کاسٹ کی تاریخی حقیقت پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا جبکہ انکے اہلکاروں نے اس موضوع پر ایک متنازعہ بین الاقوامی کانفرنس کا اہتمام بھی کیا۔

ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای نے بارہا صدر احمدی نژاد کے موقف کی حمایت کی ہے۔

گزشتہ سال اکتوبر میں رمضان کے مہینے کے دوران ان کے ناقدین کو خبردار کیا گیا تھا کہ وہ اپنے خیالات کے اظہار کے وقت ایمانداری اور غیرجانبداری سے کام لیں کیونکہ صدر غریبوں کی فلاح وبہبود کے لیے انتھک محنت کررہے ہیں۔

نومبر کے آخر تک احمدی نژاد کی شہرت کا ستارہ بام عروج کی جانب گامزن تھا لیکن دوسری طرف معاشی سطح پر کوئی پیش رفت نہیں ہورہی تھی۔

اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد احمدی نژاد نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ملک میں موجود بڑی تعداد میں غریب ایرانیوں کے معیار زندگی کو بہتر بنائیں گے۔

سترہ ملین ایرانیوں نے اس امید پر ووٹ دیا کہ وہ غربت میں کمی ، مہنگائی کا خاتمہ اور نئی ملازمتوں کے مواقع فراہم کریں گے۔ اسکے برعکس مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے جبکہ ہاؤسنگ سیکٹر میں قیمتیں بے تحاشا بڑہ گئی ہیں اور غریب اور امیر کے درمیان خلیج مزید گہری ہوگئی ہے۔ صدر کی کارکردگی پرشکوک وشبہات کا آغاز خود ان کے ساتھیوں کی طرف ہوا۔

ایرانی پارلیمنٹ کے تحقیقی ادارے جسکا کا کام اہم معاملات پر صدر کومشورے دینا ہوتا ہے۔ اس ادارے کے سربراہ نے احمدی نژاد کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ملک کی تیل کی محصولات پر مبنی خصوصی فنڈ سے بغیر سوچے سمجھے رقومات نکلوائی ہیں ۔

ایران کے سخت گیر رہنما اور ماہر اقتصادیات احمد توکلی نے تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کوتقریباً ختم کردیا ہے۔

احمدی نژاد نے اس بیان پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا بلکہ انہوں نے اپنا کام جاری رکھا ۔ان کی انتخابی کامیابی کے بعد دسمبر کے اوائل میں ہونے والے مقامی حکومتوں کے پہلے انتخابات نے صورتحال کو فیصلہ کن موڑ پر لا کھڑا کیا۔

انتخابی مہم کے آغاز میں سب کا خیال تھا کہ اصل مقابلہ صدر کے سخت گیر ساتھیوں اور اصلاح پسندوں کے درمیان ہوگا۔

اکثر لوگوں کا خیال تھا کہ قدامت پسند یا تو کامیابی حاصل کر لیں گے یا پھر زیادہ تر نشتیں ان کے حصہ میں آئیں گی ۔انتخابی مہم کے ختم ہوتے ہی یہ بات واضح ہوتی چلی گئی کہ قدامت پسندوں کے درمیان شدید اختلافات موجود ہیں۔

اختلافات کی وجہ واضح تھی۔ ضرورت سے زیادہ پر اعتماد صدر نے دیگر قدامت پسند رہنماؤں کے ساتھ امیدواروں پر اتفاق کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

ان اختلافات کے نتیجے میں قدامت پسندوں کی طرف سےکئی حلقوں پر دو مختلف امیدواروں کی فہرستیں سامنے آئیں جس نے زیادہ تر ایرانیوں کو حیران کر دیاتھا۔

انتخابی نتائج صدر احمدی نژاد کے لئے تباہ کن ثابت ہوئے خصوصی طور پر تہران اور دیگر بڑے شہروں میں انکو سخت انتخابی دھچکا لگا۔

شکست کے فوراً بعد دسمبر دوہزار چھ میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران پر پابندیاں عائد کیں جس کی وجہ سے صدر پر تنقید میں اضافہ ہوا۔ ان کی اقتصادی اور خارجہ پالیسی تنقید کا محور ٹھہرا۔

ایران کے بڑے رہنما نےگزشتہ تین ماہ سے صدر کے ساتھ ملاقات نہیں کی ہے جسکی وجہ شاید ان پر ہونے والی تنقید ہو۔

دوسری طرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے دی گئی دو ماہ کی مہلت کے خاتمے تک احمدی نژاد اپنے ناقدین کوکوئی جواب نہیں دے سکے۔

ایران کے صوبہ گیلان کے شہر رشت میں ایک بڑے اجتماع سے خطاب کے دوران احمدی نژاد نے ملک کے جوہری پروگرام پر اپنے سخت گیر موقف کا ایک بار پھر اعادہ کیا۔

بعض لوگوں کا خیال تھا کہ شاید جوہری معاملے پر صدر کے موقف میں نرمی آجائے گی لیکن انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ امریکہ کا دباؤ قبول نہیں کیا جائےگا۔

انہوں نے کہا جب تک جوہری ہتھیاروں کے مسئلے پر ایرانی عوام ان کے ساتھ کھڑے ہیں تب تک ان کی حکومت ایٹمی پروگرام کو جاری رکھے گی۔

یہ معلوم نہیں ہےکہ جوہری پروگرام کا مسئلہ مستقبل میں کمزور صدر کی حیثیت کومستحکم کرتاہے یا نہیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ جوہری معاملے میں احمدی نژاد اپنےموقف پر قائم رہنے کے لیے پر عزم ہیں۔

احمدی نژادمحمود احمدی نژاد
’سخت گیر مگر دیانت دار اور انسان دوست‘
ڈیڈلائن ختم
ایران دباؤ میں آ کر پیچھے نہیں ہٹے گا
ایرانی وزیر خارجہہولوکاسٹ کیا؟
ایران میں کانفرنس، ہولوکاسٹ کا جائزہ
آیت اللہ العلظمی حسین علی ’ایٹمی پالیسی‘
آیت اللہ منتظری کی احمدی نژاد پر تنقید
امریکی صدر جارج بشایران سے مذاکرات
بش انتظامیہ پر اندروونی اور بیرونی دباؤ؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد