BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 05 August, 2006, 17:11 GMT 22:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بمباری جاری، سیدون خالی کرنے کی تنبیہ

اب تک ہلاکتوں کی تعداد 900 سے زائد بتائی گئی ہے
اسرائیلی طیاروں نے ہفتے کو جنوبی لبنان پر بمباری کا سلسلہ جاری رکھا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ یہ اب تک کی جانے والی شدید ترین بمباری ہے۔ ادھر فرانس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ اور امریکہ جنگ بندی کی قرارداد کے مسودے پر متفق ہوگئے ہیں۔

اسرائیلی طیاروں نے جنوبی لبنان کے شہر سیدون پر پرچیاں بھی گرائی ہیں جن میں شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ علاقہ چھوڑ دیں۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ ان مقامات پر حملوں کا ارادہ رکھتا ہے جہاں سے حزب اللہ والے راکٹ پھینکتے ہیں اور وہ نہیں چاہتا کہ ان حملوں میں شہری مارے جائیں۔ سیدون کی آبادی ایک لاکھ سے زائد ہے جس میں سے بیشتر لوگ پہلے ہی بمباری کی وجہ سے اپنا گھر بار چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

لبنان پر جمعہ کی ساری رات اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد دارالحکومت بیروت کے جنوبی علاقے کو ایک بار پھر ہفتے کو علی الصبح اسرائیلی طیاروں نے نشانہ بنایا۔ سنیچر کے روز اسرائیل نے سب سے بڑی کارروائی جنوبی شہر طائر میں کی جہاں اسرائیلی کے اپاچی ہیلی کاپٹروں اور جنگی طیاروں نے حملے کیئے۔

حزب اللہ نے بھی ہفتے کے دن شمالی اسرائیلی شہروں پر مزید ڈیڑھ سو کے قریب راکٹ پھینکے۔ ان حملوں سے گلیلی کے علاقے میں تین خواتین ہلاک ہوئی ہیں۔ حیفہ کے قریب بھی پانچ راکٹ گرے جس سے اطلاعات کے مطابق پانچ اسرائیلی زخمی ہوئے ہیں۔

طائر کے شمالی علاقے میں اسرائیلی کمانڈوز اترے اور ان کی حزب اللہ کے چھاپہ ماروں سے تقریباً دو گھنٹے تک جھڑپ ہوتی رہی۔اسرائیلی فوجی ذرائع کے مطابق اس حملےمیں اسرائیل کے آٹھ میرین کمانڈوز زخمی ہوئے جبکہ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ جھڑپ میں ایک اسرائیلی فوجی ہلاک بھی ہوا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اسرائیلی حملوں میں طائر کے نزدیک لبنانی فوج کی ایک بکتر بند گاڑی تباہ ہوئی ہے اور ایک فوجی سمیت پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کی تشویش
 اقوام متحدہ کے ادارے برائے پناہ گزیناں ’یو این ایچ سی آر‘ نے مسلسل لڑائی کے نتیجہ میں بےگھر اور در بدر ہونے والوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ادارے کے مطابق تقریباً دس لاکھ لوگوں میں سے سات لاکھ نے بیروت، طائر اور سیدون کے شہروں کے آس پاس پناہ لی ہے جبکہ ایک بڑی تعداد شوف اور عالیہ کے پہاڑی علاقوں میں سر چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔

اس کے علاوہ اسرائیلی طیاروں نے طائر کے جنوب میں ایک فلسطینی پناہ گزین کیمپ ’رشیدی‘ کو بھی نشانہ بنایا۔ ادھر وادی بقا پر بھی اسرائیلی حملے جاری ہیں۔ رات بھر میں اسرائیلی طیاروں نے ایک گاؤں رش الوادی پر چار مرتبہ حملہ کیا۔

اس دوران اقوام متحدہ کے ادارے برائے پناہ گزیناں ’یو این ایچ سی آر‘ نے مسلسل لڑائی کے نتیجہ میں بےگھر اور در بدر ہونے والوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ادارے کے مطابق تقریباً دس لاکھ لوگوں میں سے سات لاکھ نے بیروت، طائر اور سیدون کے شہروں کے آس پاس پناہ لی ہے جبکہ ایک بڑی تعداد شوف اور عالیہ کے پہاڑی علاقوں میں سر چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے ذرائع کے مطابق جمعہ کو آٹھ ٹرکوں پر مشتمل ایک امدادی قافلہ بیروت سے جنوبی شہر ’جزین‘ پہنچنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔گزشتہ تین روز میں یہ پہلا امدادی قافلہ ہے جو جنوبی لبنان پہنچنے میں کامیاب ہوا ہے۔

جنوبی لبنان کے سرحدی علاقوں سے جس قدر بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی ہے اس کا اندازہ اقوام متحدہ کے ان اعداد و شمار سے لگایا جا سکتا ہے کہ ’مرواھین‘ گاؤں میں صرف دو بوڑھے لوگ باقی بچے ہیں۔ البیدہ میں صرف پانچ لوگ، رامہ میں بیس سے تیس افراد اور ایت الشعب میں ڈیڑھ ہزار افراد بغیر خوراک، پانی اور بجلی کے پھنسے ہوئے ہیں۔

اسرائیلی حملوں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے
یہ وہ علاقے ہیں جہاں شدید لڑائی کے سبب کسی بھی طرح کی امداد پہنچانا مشکل ہے جبکہ زمینی اور بحری ناکہ بندی اور سڑکوں کی ابتر حالت کے سبب پٹرول کی قلت عروج پر پہنچ گئی ہے۔

بیروت میں پٹرول کی راشننگ نافذ کر دی گئی ہے اور جن پٹرول پمپوں پر پٹرول دستیاب بھی ہے وہاں سے بھی کسی گاڑی کو سات لیٹر سے زیادہ پٹرول نہیں دیا جا رہا ہے۔ جنوبی لبنان میں پٹرول گزشتہ کئی روز سے نایاب ہے جس کے سبب سیدون اور طائر کے ہسپتالوں کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان کے پاس بجلی کے جنریٹر چلانے کے لیے زیادہ سے زیادہ پانچ روز کا ایندھن باقی ہے۔ اس کے بعد شاید یہ ہسپتال بند کرنا پڑیں۔

سنیچر کو امریکہ اور فرانس نے کہا کہ وہ لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بند کرانے کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک قرارداد کے متن پر متفق ہوگئے ہیں۔

اقوام متحدہ میں بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ فرانس نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ وہ اور امریکہ قرارداد کے مسودے پر سمجھوتہ کرچکے ہیں۔ فرانس اور امریکہ کے درمیان قرارداد کے مسودے پر اختلافات کئی دنوں سے برقرار تھے۔ مسودے کی تفصیلات نہیں بتائی گئی ہیں لیکن اب یہ قرارداد سلامتی کونسل میں منظوری کے لیے بھیجی جائے گی۔

امداد میں تعطل
محفوظ رستے فراہم نہ کرنے کی ہٹ دھرمی
کب کیا ہوا؟
لبنان اسرائیل جنگ میں کب کیا ہوا؟
لبنانمکمل تباہی سر پر
’حالات ہمارے ہاتھ سے نکل چکے ہیں‘
مشرق وسطیٰ کا بحران
تباہی کے باوجود حزب اللہ کے جنگجو مضبوط
سلامتی کونسللبنان میں امن
اقوام متحدہ قرار داد کے گرداب میں
جنگ اور بچے
لبنان جنگ: متاثرین میں بچے آگے آگے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد