انجینیئر کا قتل، خطرے کی گھنٹی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
طالبان کی جانب سے پولِش انجینیئر کی ہلاکت کی خبر نے شاید پاکستان میں قائم ان چار ممالک کے سفارت خانوں میں بھی خطرے کی گھنٹی بجائی ہوگی جن کے شہری اس وقت اغواء کاروں کے قبضے میں ہیں۔ اس وقت کینیڈا، چین، ایران اور افغانستان کے تقریباً چھ ایسےشہری ہیں جنہیں کئی مہینے گزرنے کے باوجود بازیاب نہیں کرایا جاسکا ہے۔ان میں پولِش انجینیئر کے اغواء سے تقریباً پانچ دن قبل اغواء ہونے والے افغان قونصلیٹ عبدالخالق فراہی بھی شامل ہیں جنہیں پشاور کے پوش علاقے حیات آباد سے اغواء کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ جن دیگر افغان شہریوں کو پاکستان کے مختلف علاقوں سے اغواء کیا گیا ہے ان میں پشاور سے اغواء ہونے والےافغانستان کے افغان ملت پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیرخزانہ انوالحق احدی کے بھائی ضیاء الحق احدی، چترال سے اغواء ہونے والے افغان وزارت برائے دیہی ترقی کے اہلکار اختر جان کوہستانی بھی شامل ہیں۔ ان میں سے اختر جان کوہستانی اس وقت ضلع اپر دیر کے ڈوگ درہ میں ایک گروہ جو خود کو طالبان کہتے ہیں تحویل میں ہیں۔ وہ ایک بار فرار بھی ہوئے تھے مگر انہیں دوبارہ پکڑ لیا گیا تھا اس سلسلے میں جرگے کی کوششیں تاحال ناکام ہوئی ہیں۔ مغویان میں کینیڈا کی ایک نو مسلم خاتون بھی شامل ہیں جو اپنا نام خدیجہ عبدالقہار بتا رہی ہیں اور پیشے کے لحاظ سے صحافی ہیں۔ انہیں پھچلے سال نومبر میں شمالی وزیرستان سے متصل ایف آر بنوں کے جانی خیل کے علاقے سے اپنے ایک پاکستانی ساتھی کے ہمراہ اغواء کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ سوات کے طالبان نے دیر سے جن دو چینی انجینیئروں کو اغواء کیا تھا ان میں سے ایک فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے مگر ایک ابھی تک ان کی تحویل میں ہے۔ جن ممالک کے شہری اغواء ہوئے ہیں ان کے پاکستان میں قائم سفارت خانے میں تعینات عہدیدار کو اکثر اوقات حکومت کے اعلی عہدیداروں سے ملاقات کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے مگر جب ان سے آف دی ریکارڈ بات ہوتی ہے تو وہ اس سلسلے میں حکومتی کوششوں سے نالاں ہی نظر آتے ہیں۔ ان ممالک کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ حکومت سے ہٹ کر اپنے طریقے سے اغواء کاروں سے ڈیل کرکے اپنے شہریوں کو بازیاب کرائیں لیکن ذرائع کے مطابق بعد میں ان پر یہ پابندی لگادی جاتی ہے کہ وہ اپنے طور پر اس مسئلے کو حل نہ کریں بلکہ حکومتِ پاکستان اپنی کوششوں سے انہیں بازیاب کرائے گی۔ مثال کے طور پر بااعتماد ذرائع کے مطابق پولینڈ کے سفارتکاروں نے اپنےشہری کو بازیاب کرانے کے لیے ابتداء میں اپنے طور پر دوڑ دھوپ شروع کردی تھی اور اس سلسلے میں انہیں طالبان کے ساتھ گفت و شنید کے لیے مقامی مذاکرات کار بھی مل گئے تھے۔ بات چیت شروع بھی ہوئی جس میں پولینڈ کی حکومت اپنے شہری کے بدلے فوری طور دو لاکھ ڈالر ادا کرنے پر بھی رضا مند ہوگئی تھی تاہم طالبان نے پیسوں کی بجائے اپنے ساتھیوں کی رہائی کا تقاضہ کیا۔ مگر حکومت نے پولینڈ کے سفارتکاروں سے کہا کہ وہ اپنے طور پر اس مسئلے کو حل نہ کریں بلکہ وہ خود اس مسئلے کو حل کرے گی۔ صوبہ سرحد میں غیرملکیوں کے اغواء اور قتل کی ان بڑھتی ہوئی وارداتوں نے زیادہ تر ممالک بالخصوص یورپی ممالک کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی پشاور آمد پر پابندی لگا دیں۔ غیرملکی عالمی امدادی اداروں میں کام کرنے والے مقامی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ان کے زیادہ تر غیرملکی اہلکار سکیورٹی کے خدشے کے پیش نظراسلام آباد منتقل ہوچکے ہیں۔ |
اسی بارے میں پولش انجینئر اغواء، تین مقامی ہلاک28 September, 2008 | پاکستان انجینیئر، بازیابی کے لیے ٹیمیں روانہ29 September, 2008 | پاکستان پولش انجینئر طالبان کی تحویل میں30 September, 2008 | پاکستان طالبان حملہ، نیٹو قافلے کو تاخیر 19 January, 2009 | پاکستان سوات: ملا فضل اللہ کی عام معافی15 January, 2009 | پاکستان ’طالبان نے ذبح نہیں جرمانہ کیا‘14 January, 2009 | پاکستان نوکری چھوڑنے کی شرط پر رہائی04 February, 2009 | پاکستان مہمند، طالبان امیر ہلاکت کی تردید22 January, 2009 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||