طالبان حملہ، نیٹو قافلے کو تاخیر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ مقامی طالبان نے ایک فوجی کیمپ پر راکٹوں سے حملہ کیا ہے جس کے نتیجہ میں ایک اہلکار ہلاک جبکہ دو زخمی ہوگئے۔ اس کے بعد نیٹو کے لیے رسد لے جانے والا قافلہ کچھ دیر کے لیے معطل ہوگیا تھا۔ پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ رات خیبر ایجنسی کی تحصیل لنڈی کوتل میں ایک فوجی کیمپ پر شدت پسندوں نے راکٹوں اور خودکار ہھتیاروں سے حملہ کیا۔ اس حملے میں چار راکٹ کیمپ کے اندر گرے جس کے نتیجے میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ دو زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی بھی کی ہے جس میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فائرنگ کا تبادلہ پیر کی صبح چار بجے تک جاری رہا۔ انہوں نے کہا کہ پیر کی صبح لنڈی کوتل بازار میں چند گھنٹوں کے لیے سکیورٹی فورسز نے کرفیوں لگادیا تھا جس کی وجہ سے نیٹو کے لیے رسد لے جانے والا قافلہ روک دیاگیاتھا۔ انہوں نے کہا کہ چند گھنٹوں کے بعد کرفیوں ہٹا دیاگیا ہے اور نیٹو کے لیے رسد لے جانے والے قافلے کو بھی روانہ کردیا ہے۔ یادرہے کہ خیبر ایجنسی کے راستے سے نیٹو افواج کے لیے لے جانے والا رسد اس سے پہلے بھی کئی بار کشیدہ حالات کی وجہ سے بند کیا جا چکا ہے اور پشاور میں بھی چار سو کے قریب گاڑیوں کو راکٹ کے حملوں میں تباہ کیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں نیٹورسدپر پھرحملہ، 50 ٹرک راکھ08 December, 2008 | پاکستان پشاور میں نیٹورسد پر پھرحملہ11 December, 2008 | پاکستان نیٹو کی گاڑیوں پر ایک اور حملہ12 December, 2008 | پاکستان پشاور کےقریب نیٹو ٹرکوں پرمزید حملے13 December, 2008 | پاکستان نٹیو رسد پر حملہ، ذمہ داری قبول14 December, 2008 | پاکستان نیٹو قافلہ روانہ، سکیورٹی سخت15 December, 2008 | پاکستان ’امریکی حملوں کی اجازت نہیں دی‘18 December, 2008 | پاکستان نیٹو گاڑیوں پر حملے: چار ہلاک20 December, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||