’امریکی حملوں کی اجازت نہیں دی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
داخلہ امور کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر رحمان ملک نے کہا ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں غیر ملکی فوج کو حملوں کی اجازت نہیں دی۔ انہوں نے جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں نکتہ اعتراض پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ منگل کو صدر کی قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات کے دوران صدر نے ایسی کوئی بات نہیں کی جس میں کہا گیا ہو کہ انہوں نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی جاسوس طیاروں کو شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی اجازت دی ہے۔ رحمان ملک نے کہا کہ وہ خود اس ملاقات میں موجود تھے اور اس اجلاس میں قبائلی علاقوں میں امن وامان کی صورتحال اور شدت پسندوں کے خلاف جاری جنگ کے حوالے سے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق بدھ کو فاٹا کے ارکان نے صدر سے ملاقات کے دوران اس بات پر زور دیا تھا کہ وہ قبائلی علاقوں میں امریکی حملے بند کروانے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ’دہشت گردی‘ کے خلاف جنگ کے حوالے سے پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد پر عملدرآمد کے سلسلے میں مخلص ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک خودمختار ملک ہے اور کسی کو بھی اُس کی حدود میں آ کر شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
واضح رہے کہ صدر آصف علی زردای افغانستان کے ایک روزہ دورے پر جمعہ کو کابل پہنچیں گے اور وہ اس دورے کے حوالے سے قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ سے مشاورت کر رہے ہیں۔ حزب اختلاف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال نے پاکستانی حکومت کو پاکستان کے قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں امن و امان خراب کرنے پر بھارت کے خلاف بین الاقوامی مقدمہ درج کروانا چاہیے۔ قومی اسمبلی میں بھارت کے شہر ممبئی میں حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان حملوں میں پاکستان کے ملوث ہونے کے کوئی ثبوت نہیں ملے تاہم پاکستانی حکومت کے پاس بھارتی ایجنسیوں کے اس کے علاقوں میں بدامنی پھیلانے کے ثبوت موجود ہیں۔ انہوں نے قبائلی علاقوں کی صورتحال پر موجودہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ اگر حکومت مغربی سرحدوں پر نیٹو فورسز کو حملوں کی اجازت دے گی تو پھر مشرقی سرحدوں پر بھارت پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتا رہے گا۔ احسن اقبال نے کہا کہ بھارت کے جنگی طیاروں کی طرف سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی تکنیکی غلطی نہیں تھی اور یہ ایک سوچی سمجھی فوجی حکمت عملی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہتر ہوتا کہ اس واقعہ کی وضاحت بھارت کی طرف سے آتی لیکن ایسے لگتا ہے کہ موجودہ حکومت نے یہ ذمہ داری بھی اپنے سرلے لی ہے۔ آپریشن جاری رہے گا دریں اثناء صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن جاری رہے گا اور ملکی مفاد کے تحفظ اور دفاع پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔ جمعرات کوایوان صدر میں قبائلی علاقوں کے عمائدین کے ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کسی کو پاکستانی حدود میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے قبائلی علاقوں کے عمائدین اور ارکان پارلیمنٹ سے کہا کہ وہ ان علاقوں میں ایسے افراد کے ساتھ مذاکرات کریں جنہیں شدت پسندی پر آمادہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں حکومت کی عملداری قائم ہونے تک شدت پسندوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔ اس اجلاس میں شریک قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی نور الحق قادری نے بی بی سی کو بتایا کہ اس اجلاس میں قبائلی علاقوں میں امن وامان کی صورتحال کے بارے میں تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ فرنٹئر کانسٹیبلری کے سربراہ نے امن وامان کے بارے میں اجلاس کے شرکاء کو بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا سے متعلق ایوان صدر میں ایک سیل قائم کیا جائے گا جس میں قبائلی علاقوں سے متعلق مسائل کو حل کیا جائے گا اور صدر کے ملٹری سیکرٹری اس سیل کی نگرانی کریں گے۔ | اسی بارے میں وزیرستان: میزائل حملہ، سات ہلاک11 December, 2008 | پاکستان وزیرستان: میزائل حملہ، دو ہلاک15 December, 2008 | پاکستان امریکی جاسوسی کے الزام میں قتل17 December, 2008 | پاکستان پابندی پر غور کر رہے ہیں: ملک11 December, 2008 | پاکستان پشاور: غیر ملکی صحافیوں پر فائرنگ14 November, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||