BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 08 December, 2008, 08:51 GMT 13:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نیٹورسدپر پھرحملہ، 50 ٹرک راکھ

درجنوں مسلح افراد رات کے تاریکی میں بلال ٹرمینل میں کھڑی ٹرکوں پر تیل چھڑک کر اسے آگ لگائی: سرکاری اہلکار

پشاور میں حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کو سامان لے جانے والے ٹرکوں کے ایک اور اڈے کو نامعلوم مسلح افراد نے آگ لگائی گئی ہے جس سے پچاس سے زائد ٹرک تباہ ہوگئے ہیں۔

پشاور میں اڑتالیس گھنٹے میں نیٹو اور امریکی سپلائی پر دوسرا حملہ ہے۔

گزشتہ روز بھی دو ٹرمینلز پر حملوں میں نیٹو افواج کے سازوسامان سمیت دو سو سے زائد گاڑیاں تباہ کی گئیں تھیں۔

تازہ واقعہ پشاور کے علاقے رنگ روڈ پر پندو چوک کے قریب گزشتہ رات تین بجے کے قریب پیش آیا۔ تھانہ یکہ توت کے ایک اہلکار فدا محمد بی بی سی کو بتایا کہ درجنوں مسلح افراد رات کے تاریکی میں اچانک بلال ٹرمینل میں داخل ہوئے اور وہاں کھڑی ٹرکوں پر تیل چھڑک کر اسے آگ لگائی۔

انہوں نے کہا کہ مسلح افراد نے ٹرمینل پر راکٹ فائر نہیں کئے بلکہ کوئی جلتی ہوئی چیز پھینکی گئی جس سے وہاں آگ بھڑک اٹھی۔

ٹرمینل کے ایک ہلکار نے بتایا کہ علاقے میں ان کے محافظ بھی موجود تھے تاہم انہیں بالکل معلوم نہیں ہوسکا کہ مسلح افراد کیسے اچانک ٹرمینل کے اندر داخل ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ اس نے چند ہی منٹوں میں سارے علاقے کو گرے میں لے لیا۔

اہلکار نے بتایا کہ آگ سے پچاس سے زائد ٹرک مکمل طورپر تباہ تبدیل ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا ٹرکوں پر فوجی سازوسامان نہیں لدھا ہوا تھا بلکہ ساری گاڑیاں خالی تھی۔

پشاور میں نیٹو افواج کو سامان رسد لے جانے والی گاڑیوں پر گزشتہ دو دن میں یہ دوسرا مسلسل حملہ ہے۔

سنیچر کی رات بھی رنگ روڈ پر تقریباً تین سو کے قریب مسلح افراد نے اتحادی افواج کو فوجی اور دیگر سازوسامان لے جانے والے گاڑیوں پر راکٹ لانچروں اور دیگر خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا تھا جس میں دو سے زائد کنٹنیرز تباہ ہوگئے تھے۔ ان گاڑیوں میں بکتر بند اور دیگر گاڑیاں شامل تھیں۔

دوسری طرف پشاور میں ان مسلسل حملوں سے شہر کے لوگوں میں سخت تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مسلح افراد جس دیدہ دلیری سے پشاور کے اندر حملے کر رہے ہیں اس سے بظاہر لگتا ہے کہ صوبائی حکومت ان حملوں کو روکنے میں بے بس نظر اتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد