BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 04 February, 2009, 07:00 GMT 12:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نوکری چھوڑنے کی شرط پر رہائی

سوات
مغوی اہلکاروں میں سے سات پولیس جبکہ تیئس ایف سی کے اہلکار ہیں
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں طالبان نے یرغمال بنائے جانے والے تیس سکیورٹی اہلکاروں کو نوکریوں سے استعفے کا تحریری وعدہ لینے کے بعد رہا کر دیا ہے۔

طالبان کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ رہا کیے جانے والے اہلکاروں سے اس بات کا تحریری وعدہ لیا گیا ہے کہ وہ سرکاری نوکری سے مستعفی ہو جائیں گے۔

اس سے قبل طالبان نے یرغمال بنائے جانے والے ان اہلکاروں کی بی بی سی سے بات کرائی تھی۔ ضلع مانسہرہ سے تعلق رکھنے والے ایف سی اہلکار شاہنواز نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ انہوں نے طالبان کے ساتھ ایک تحریری معاہدہ کر لیا ہے کہ رہائی کے بعد وہ اپنی نوکریوں سے مستعفی ہو جائیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ معاہدے کے بعد طالبان نے ان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ انہیں جلد رہا کردیں گے مگر اب انہیں ’طالبان کے امیر‘ کا انتظار ہے جو رہائی کے احکامات جاری کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق طالبان نے پیر کی رات تحصیل بری کوٹ میں واقع شموزئی تھانے کا محاصرہ کیا تھا اور ان کے بقول چوبیس گھنٹے کی دو طرفہ فائرنگ کے بعد طالبان نے منگل کی رات چوکی پر قبضہ کر لیا اور وہاں پر موجود تیس اہلکاروں کو یرغمال بناکر انہیں اپنے ساتھ لےگئے۔ترجمان مسلم خان کے مطابق ان اہلکاروں میں سات پولیس جبکہ تیئس ایف سی کے اہلکار تھے۔

انہوں نے پولیس چوکی کو بارود سے اڑانے کا بھی دعوٰی کیا ہے۔ مقامی آبادی نے بھی فریقین کے درمیان جھگڑے اور بعد میں چوکی کی تباہی کی تصدیق کی ہے۔

اس سلسلے میں سوات میڈیا سنٹر اور ضلعی رابطہ آفسر شوکت یوسف زئی سے بارہا رابطے کی کوشش کی گئی لیکن انہوں نےاس بارے میں بات کرنے سے گریز کیا۔

سوات میں منگل کی رات سکیورٹی فورسز نے مختلف مقامات پر گولہ باری جاری رکھی ہے تاہم اس میں کسی قسم کی ہلاکت کی اطلاع نہیں ہے۔ علاقے سے لوگوں کی نقل مکانی کا سلسلہ بدستور جاری ہے جبکہ حکام نے پانچ عارضی کیمپ بھی قائم کر دیے ہیں جن میں پناہ لینے والے لوگوں کو سہولیات کی عدم دستیابی کی شکایت ہے۔

سوات میں گزشتہ آٹھ دنوں سے سکیورٹی فورسز نے طالبان کے خلاف فوجی کاروائی تیز کر دی ہے۔

سوات، شدید لڑائی
سوات:سخت سردی میں شدید لڑائی
مولانا فضل اللہطالبان کا ایف ایم
سوات میں مولانا فضل اللہ کی پروپیگنڈا مشین
سواتسوات: بہشتِ مرحوم
ماضی کی درس گاہ سے حال کی قتل گاہ تک
’آپریشن نرم گرم‘
سوات میں فوج کا آپریشن راہ حق
فوج اپنی ساکھ بچائیں
سوات میں فوج ایک فریق ہے: افضل خان
اسی بارے میں
سوات: تیس ہزار افراد بے گھر
02 February, 2009 | پاکستان
سوات:آپریشن میں درجنوں ہلاک
01 February, 2009 | پاکستان
سوات: مارٹرگولے سے چار ہلاک
27 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد