نوکری چھوڑنے کی شرط پر رہائی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں طالبان نے یرغمال بنائے جانے والے تیس سکیورٹی اہلکاروں کو نوکریوں سے استعفے کا تحریری وعدہ لینے کے بعد رہا کر دیا ہے۔ طالبان کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ رہا کیے جانے والے اہلکاروں سے اس بات کا تحریری وعدہ لیا گیا ہے کہ وہ سرکاری نوکری سے مستعفی ہو جائیں گے۔ اس سے قبل طالبان نے یرغمال بنائے جانے والے ان اہلکاروں کی بی بی سی سے بات کرائی تھی۔ ضلع مانسہرہ سے تعلق رکھنے والے ایف سی اہلکار شاہنواز نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ انہوں نے طالبان کے ساتھ ایک تحریری معاہدہ کر لیا ہے کہ رہائی کے بعد وہ اپنی نوکریوں سے مستعفی ہو جائیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ معاہدے کے بعد طالبان نے ان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ انہیں جلد رہا کردیں گے مگر اب انہیں ’طالبان کے امیر‘ کا انتظار ہے جو رہائی کے احکامات جاری کریں گے۔ تفصیلات کے مطابق طالبان نے پیر کی رات تحصیل بری کوٹ میں واقع شموزئی تھانے کا محاصرہ کیا تھا اور ان کے بقول چوبیس گھنٹے کی دو طرفہ فائرنگ کے بعد طالبان نے منگل کی رات چوکی پر قبضہ کر لیا اور وہاں پر موجود تیس اہلکاروں کو یرغمال بناکر انہیں اپنے ساتھ لےگئے۔ترجمان مسلم خان کے مطابق ان اہلکاروں میں سات پولیس جبکہ تیئس ایف سی کے اہلکار تھے۔ انہوں نے پولیس چوکی کو بارود سے اڑانے کا بھی دعوٰی کیا ہے۔ مقامی آبادی نے بھی فریقین کے درمیان جھگڑے اور بعد میں چوکی کی تباہی کی تصدیق کی ہے۔ اس سلسلے میں سوات میڈیا سنٹر اور ضلعی رابطہ آفسر شوکت یوسف زئی سے بارہا رابطے کی کوشش کی گئی لیکن انہوں نےاس بارے میں بات کرنے سے گریز کیا۔ سوات میں منگل کی رات سکیورٹی فورسز نے مختلف مقامات پر گولہ باری جاری رکھی ہے تاہم اس میں کسی قسم کی ہلاکت کی اطلاع نہیں ہے۔ علاقے سے لوگوں کی نقل مکانی کا سلسلہ بدستور جاری ہے جبکہ حکام نے پانچ عارضی کیمپ بھی قائم کر دیے ہیں جن میں پناہ لینے والے لوگوں کو سہولیات کی عدم دستیابی کی شکایت ہے۔ سوات میں گزشتہ آٹھ دنوں سے سکیورٹی فورسز نے طالبان کے خلاف فوجی کاروائی تیز کر دی ہے۔ |
اسی بارے میں سوات: تیس ہزار افراد بے گھر02 February, 2009 | پاکستان سوات:آپریشن میں درجنوں ہلاک 01 February, 2009 | پاکستان سوات: مارٹرگولے سے چار ہلاک27 January, 2009 | پاکستان ’نظامِ عدل آرڈیننس میں ترامیم‘26 January, 2009 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||