BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 04 February, 2009, 10:19 GMT 15:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رہائی کے لیے نوکری چھوڑنے کی شرط

سوات اہلکار
طالبان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ جلد رہا کردیں گے مگر اب ’طالبان کے امیر‘ کا انتظار ہے جو رہائی کے احکامات جاری کریں گے

ضلع سوات میں طالبان نے یرغمال بنائے جانے والے تیس حکومتی اہلکاروں کو نوکریوں سے مستعفی ہونے کی شرط پر رہا کر دیا ہے۔ ان افراد کو یرغمال بنانے کے بعد طالبان نے ان اہلکاروں کی بی بی سی سے بات کروائی۔

ضلع مانسہرہ سے تعلق رکھنے والے ایف سی اہلکار شاہنواز نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے طالبان کے ساتھ ایک تحریری معاہدہ کر لیا ہے کہ رہائی کے بعد وہ اپنی نوکریوں سے مستعفی ہو جائیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ معاہدے کے بعد طالبان نے ان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ انہیں جلد رہا کر دیں گے مگر اب انہیں ’طالبان کے امیر‘ کا انتظار ہے جو رہائی کے احکامات جاری کریں گے۔

یرغمال بنائے جانے کی کہانی بیان کرتے ہوئے شاہنواز کا کہنا تھا کہ پیر کی رات وہ شمشوزئی چوکی پر ڈیوٹی دے رہے تھے کہ اس دوران طالبان نے ان پر حملہ کردیا جس کے بعد دو طرفہ فائرنگ شروع ہوگئی۔

 دو تین مرتبہ بات کرنے کی کوشش کی تاکہ مذاکرات کے ذریعے مسئلے کو حل کیا جائے مگر کامیاب نہیں ہوسکے۔ چوبیس گھنٹے تک طالبان کے ساتھ جھڑپ ہوئی اور آخر میں طالبان کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوگئے
یرغمال اہلکار شاہنواز

ان کے بقول انہوں نے اس دوران طالبان سے دو تین مرتبہ بات کرنے کی کوشش کی تاکہ مذاکرات کے ذریعے مسئلے کو حل کیا جائے مگر کامیاب نہیں ہوسکے۔ ان کے مطابق ان کی چوبیس گھنٹے تک طالبان کے ساتھ جھڑپ ہوئی اور آخر میں وہ طالبان کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوگئے۔

شاہنواز نے شکایت کی کہ حکومت کی جانب سے ان کو کوئی خاص کمک نہیں پہنچائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ رہائی کے بعد وہ مزید حکومت کی غلامی نہیں کریں گے اور اپنا کوئی کاروبار شروع کریں گے۔

چوکی کے انچارج محمد حنیف نے جو سوات کے سنگوٹہ کے رہنے والے ہیں، بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے فوج سے مدد طلب کی مگر وہ بجلی کے نہ ہونے کی وجہ سے مواصلاتی نظام کے مفلوج ہونے کی وجہ سے مستقل رابطہ نہیں رکھ سکے۔

چوکی پر حملے کی کمانڈ کرنے والے طالب کمانڈر نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ کارروائی چوبیس طالبان کی جانب سے کی گئی جس میں بھاری اسلحہ کا خوب استعمال ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کارروائی کے دوران ان کا ایک ساتھی ہلاک جبکہ سکیورٹی فورسز کا کوئی اہلکار ہلاک نہیں ہوا۔

کارروائی چوبیس طالبان کی جانب سے کی گئی جس میں بھاری اسلحہ کا خوب استعمال ہوا: طالب کمانڈر

کمانڈر نے مزید بتایا کہ چوکی میں موجود اہلکاروں کی مدد کے لیے فوج آئی مگر انہوں نے اس کے ساتھ سخت مقابلہ کیا جس کے بعد وہ واپس چلے گئے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے نو فوجی گاڑیوں کو جزوی نقصان پہنچایا جبکہ ایک گاڑی قبضے میں لے لی۔

طالب کمانڈر کا مزید کہنا تھا کہ یرغمال بنائے جانے والے سکیورٹی اہلکاروں نے ان کے ساتھ تحریری وعدہ کیا ہے کہ رہائی کے بعد وہ نوکری نہیں کریں گے لہٰذا وہ انہیں جلد رہا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

پاکستان کے نجی ٹیلی ویژن چینلوں نے خبر دی ہے کہ سکیورٹی فورسز نے اہلکاروں کی بازیابی کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے۔

تاہم مبصرین کا خیال ہے کہ حکام کو یرغمال اہلکاروں اور طالبان کے درمیان معاہدہ کا پتہ چل چکا ہے اور اگر وہ رہا ہوتے ہیں تو سکیورٹی فورسز یہ تاثر دینے کی کوشش کرے گی کہ یرغمال اہلکاروں کی رہائی ان کے آپریشن کے نتیجے میں ممکن ہوسکی ہے۔

اسی بارے میں
سوات: تیس ہزار افراد بے گھر
02 February, 2009 | پاکستان
سوات: 1200 شہری، 189 فوجی ہلاک
29 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد