BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 03 February, 2009, 04:57 GMT 09:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات: نو دنوں میں اسی ہلاکتیں

سوات
’چارباغ کے علاقے سے لوگوں نے نقل مکانی شروع کردی ہے‘

صوبہ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز اور مسلح طالبان کے مابین شدید جھڑپوں میں مقامی لوگوں کے مطابق گزشتہ نو دنوں کے دوران 80 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔


سوات میڈیا سینٹر کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں عسکریت پسند بھی شامل ہیں۔ تاہم مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ جھڑپوں میں اکثریت عام شہری مارے گئے ہیں جو سکیورٹی فورسز کی گولہ باری کا نشانہ بنے ہیں۔

جان بحق ہونے والوں میں عورتوں اور بچوں کی ایک بڑی تعداد بتائی جاتی ہے۔ سوات میں گزشتہ چودہ مہینوں سے جاری آپریشن میں پہلی مرتبہ چارباغ اور منگلاور کے مقامات پر مشتبہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر شدید گولہ باری کی گئی ہے۔

تاہم عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ زیادہ تر مارٹر گولے گھروں پر لگے ہیں جس سے صرف گزشتہ دو دنوں کے دوران چالیس افراد مارے گئے ہیں۔

 سکیورٹی فورسز کا دعوی ہے کہ گزشتہ دو دنوں کے دوران چارباغ ، علی گرامہ اور منگلہ ور کے علاقوں میں کاروائیوں کے دوران پینتس عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔ تاہم مقامی طورپر ان دعوؤں کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

ایک عینی شاہد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے چارباغ میں آپریشن سے پہلے لوگوں کو علاقہ چھوڑنے کی مہلت نہیں دی تھی جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر عام شہری نشانہ بنے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کسی علاقے میں آپریشن سے پہلے لوگوں کو بذریعہ لاوڈسپیکروں یا ہیلی کاپٹروں سے پمفلٹ پھینک کر خبردار کرتی تھیں لیکن اس دفعہ ایسا کچھ نہیں کیا گیا اور اچانک کرفیو نافذ کرکے کارروائیاں شروع کی دی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ اب بھی کچھ علاقوں میں لاشیں گھروں میں پڑے ہوئے ہیں اور انہیں اٹھانے والا کوئی نہیں کیونکہ آپریشن کی وجہ سے چارباغ ، منگلہ ور اور علی گرامہ جانے والے تمام راستے کرفیو کی وجہ سے بند ہیں اور ہرطرف گولہ باری ہورہی ہے۔

مقامی صحافیوں کے مطابق بالائی سوات کے زیادہ تر علاقے کرفیو کی زد میں ہے جس کی وجہ سے لوگوں کا جینا حرام ہوگیا ہے جبکہ تمام سڑکیں بھی بند کردی گئی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مسلسل کرفیو اور آپریشن کی وجہ سے زیادہ تر علاقوں میں کھانے پینے کی اشیاء قلت پیدا ہوگئی ہے جبکہ مال مویشی بھی خوراک نہ ہونے کی وجہ سے ہلاک ہورہے ہیں۔

ایک صحافی نے انتہائی مایوسی کے لہجے میں کہا کہ ’سوات پر قیامت ٹوٹ رہی ہے، ایک طرف فوجی کاروائیاں ہورہی ہیں تو دوسری طرف حکومت کی طرف سے متاثرین کی بحالی کا کوئی انتظام موجود نہیں ، اس شدید سردی کے موسم میں نقل مکانی کرنے والے لوگ کھلے آسمان تلے رہ رہے ہیں ۔‘

انہوں نے کہا کہ بے گھر ہونے والے اکثریت غریب اور لاچار لوگ ہیں جن کے پاس شہر سے نکلنے کا کرایہ تک نہیں۔ ’ فضا میں ہیلی کاپٹر اور مارٹر گولے ہیں جبکہ زمین پر سکیورٹی فورسز اور مسلح طالبان کا خوف ہے ، ان حالات عام شہری کدھر جائے، کیا کریں، کس کو اپنا رونا روئے اور کس سے گلہ کرے۔’

دوسری طرف سکیورٹی فورسز کا دعوی ہے کہ گزشتہ دو دنوں کے دوران چارباغ ، علی گرامہ اور منگلہ ور کے علاقوں میں کاروائیوں کے دوران پینتس عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔ تاہم مقامی طورپر ان دعوؤں کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ اکثر اوقات جب عام شہری گولہ باری کا نشانہ بنتے ہیں تو سکیورٹی فورسز کی طرف سے انہیں بھی عسکریت پسند قرار دیا جاتا ہے یا ان ہلاکتوں کی تصدیق یا تردید کرنے سے گریز کیا جاتا ہے۔

تین دن قبل وزارت داخلہ کے مشیر رحمان ملک نے کہا تھا کہ سوات میں گزشتہ ایک سال تین ماہ سے جاری فوجی آپریشن کے دوران تقریباً بارہ سو شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔

تشدد کی دلدل میں
سوات:حکومتی عملداری کمزور کیوں پڑ رہی ہے
قانون نیا نہیں ہے
ماہرین متفق نہیں کہ ترامیم بہتری لائیں گی
فوج اپنی ساکھ بچائیں
سوات میں فوج ایک فریق ہے: افضل خان
’آپریشن نرم گرم‘
سوات میں فوج کا آپریشن راہ حق
اسی بارے میں
سوات:آپریشن میں درجنوں ہلاک
01 February, 2009 | پاکستان
سوات: مارٹرگولے سے چار ہلاک
27 January, 2009 | پاکستان
بہشتِ مرحوم کی یاد میں
27 January, 2009 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد