سوات: نو دنوں میں اسی ہلاکتیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز اور مسلح طالبان کے مابین شدید جھڑپوں میں مقامی لوگوں کے مطابق گزشتہ نو دنوں کے دوران 80 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ سوات میڈیا سینٹر کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں عسکریت پسند بھی شامل ہیں۔ تاہم مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ جھڑپوں میں اکثریت عام شہری مارے گئے ہیں جو سکیورٹی فورسز کی گولہ باری کا نشانہ بنے ہیں۔ جان بحق ہونے والوں میں عورتوں اور بچوں کی ایک بڑی تعداد بتائی جاتی ہے۔ سوات میں گزشتہ چودہ مہینوں سے جاری آپریشن میں پہلی مرتبہ چارباغ اور منگلاور کے مقامات پر مشتبہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر شدید گولہ باری کی گئی ہے۔ تاہم عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ زیادہ تر مارٹر گولے گھروں پر لگے ہیں جس سے صرف گزشتہ دو دنوں کے دوران چالیس افراد مارے گئے ہیں۔ ایک عینی شاہد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے چارباغ میں آپریشن سے پہلے لوگوں کو علاقہ چھوڑنے کی مہلت نہیں دی تھی جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر عام شہری نشانہ بنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کسی علاقے میں آپریشن سے پہلے لوگوں کو بذریعہ لاوڈسپیکروں یا ہیلی کاپٹروں سے پمفلٹ پھینک کر خبردار کرتی تھیں لیکن اس دفعہ ایسا کچھ نہیں کیا گیا اور اچانک کرفیو نافذ کرکے کارروائیاں شروع کی دی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی کچھ علاقوں میں لاشیں گھروں میں پڑے ہوئے ہیں اور انہیں اٹھانے والا کوئی نہیں کیونکہ آپریشن کی وجہ سے چارباغ ، منگلہ ور اور علی گرامہ جانے والے تمام راستے کرفیو کی وجہ سے بند ہیں اور ہرطرف گولہ باری ہورہی ہے۔ مقامی صحافیوں کے مطابق بالائی سوات کے زیادہ تر علاقے کرفیو کی زد میں ہے جس کی وجہ سے لوگوں کا جینا حرام ہوگیا ہے جبکہ تمام سڑکیں بھی بند کردی گئی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مسلسل کرفیو اور آپریشن کی وجہ سے زیادہ تر علاقوں میں کھانے پینے کی اشیاء قلت پیدا ہوگئی ہے جبکہ مال مویشی بھی خوراک نہ ہونے کی وجہ سے ہلاک ہورہے ہیں۔ ایک صحافی نے انتہائی مایوسی کے لہجے میں کہا کہ ’سوات پر قیامت ٹوٹ رہی ہے، ایک طرف فوجی کاروائیاں ہورہی ہیں تو دوسری طرف حکومت کی طرف سے متاثرین کی بحالی کا کوئی انتظام موجود نہیں ، اس شدید سردی کے موسم میں نقل مکانی کرنے والے لوگ کھلے آسمان تلے رہ رہے ہیں ۔‘ انہوں نے کہا کہ بے گھر ہونے والے اکثریت غریب اور لاچار لوگ ہیں جن کے پاس شہر سے نکلنے کا کرایہ تک نہیں۔ ’ فضا میں ہیلی کاپٹر اور مارٹر گولے ہیں جبکہ زمین پر سکیورٹی فورسز اور مسلح طالبان کا خوف ہے ، ان حالات عام شہری کدھر جائے، کیا کریں، کس کو اپنا رونا روئے اور کس سے گلہ کرے۔’ دوسری طرف سکیورٹی فورسز کا دعوی ہے کہ گزشتہ دو دنوں کے دوران چارباغ ، علی گرامہ اور منگلہ ور کے علاقوں میں کاروائیوں کے دوران پینتس عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔ تاہم مقامی طورپر ان دعوؤں کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ اکثر اوقات جب عام شہری گولہ باری کا نشانہ بنتے ہیں تو سکیورٹی فورسز کی طرف سے انہیں بھی عسکریت پسند قرار دیا جاتا ہے یا ان ہلاکتوں کی تصدیق یا تردید کرنے سے گریز کیا جاتا ہے۔ تین دن قبل وزارت داخلہ کے مشیر رحمان ملک نے کہا تھا کہ سوات میں گزشتہ ایک سال تین ماہ سے جاری فوجی آپریشن کے دوران تقریباً بارہ سو شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ |
اسی بارے میں سوات:آپریشن میں درجنوں ہلاک 01 February, 2009 | پاکستان سوات: مارٹرگولے سے چار ہلاک27 January, 2009 | پاکستان بہشتِ مرحوم کی یاد میں27 January, 2009 | پاکستان ’نظامِ عدل آرڈیننس میں ترامیم کی کوشش‘26 January, 2009 | پاکستان طالبان کومطلوبہ افراد کی فہرست25 January, 2009 | پاکستان سوات:سکولوں پر سکیورٹی فورسز24 January, 2009 | پاکستان سکولوں پرحملوں کےخلاف مظاہرے24 January, 2009 | پاکستان ’روز وہی لاشوں کا کاروبار‘23 January, 2009 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||