BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 29 September, 2008, 13:24 GMT 18:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انجینیئر، بازیابی کے لیے ٹیمیں روانہ

وفاقی حکومت نے پولیس اور دیگر انٹیلیجنس اداورں کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ تمام ممکنہ وسائل استعمال میں لائیں
پنجاب کے علاقے اٹک میں اتوار کو اغوا ہونے والے پولینڈ کے انجینیئر کی بازیابی کے لیے پولیس کی ٹیمیں ملک کے مختلف علاقوں اور بلخصوص صوبہ سرحد میں تلاش کے لیے روانہ کر دی گئی ہیں۔

وفاقی حکومت نے پولیس اور دیگر انٹیلیجنس اداورں کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ پولینڈ کے شہری کی بازیابی کے لیے تمام ممکنہ وسائل استعمال میں لائیں۔

اس واقعے کی تفتیش کرنے والی ٹیم میں شامل ایس پی انوسٹیگیشن راجہ حسن اختر نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس محمد سلیم سیکورٹی گارڈ کے اُس بیان پر اس مقدے کی تفتیش کر رہی ہے جس کے اغوا کاروں نے ہاتھ پاوں باندھ دئیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سیکورٹی گارڈ رات کے وقت پولینڈ کے ان انجینیئروں کی حفاطت پر تعینات تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس سیکورٹی گارڈ نے بتایا کہ اغوا کار آپس میں پشتو میں باتیں کر رہے تھے۔ ایس پی انوسٹیگیشن کے مطابق اغوا کاروں نے یہ کارروائی اس سیکورٹی گارڈ کو باندھنے کے سات منٹ کے بعد کی۔

راجہ حسن اختر کا کہنا ہے کہ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اغوا کاروں نے پولینڈ کے انجینئر پیٹر سٹام زک کو اغوا کرنے کے بعد اُسے جھنڈ راولپنڈی روڈ کی طرف سے لیکر گئے تھے۔

پولیس ذرائع کے مطابق اٹک کے علاقے میں تیل کی تلاش کے لیے پولینڈ کی اس کمپنی میں اکیس پولینڈ کے شہری کام کر رہے ہیں اور اُن کی سیکورٹی کے لیے ایف سی کے اہلکار تعینات تھے۔

ایس پی انوسٹیگیشن کا کہنا ہے کہ مقامی پولیس نے پولینڈ کے ان انجینیئروں کے ساتھ ملاقات کی تھی جس میں اُنہیں کہا گیا تھا کہ وہ جب بھی اپنے بیس کیمپ سے نکلیں تو مقامی پولیس کو اس بارے میں آگاہ کریں تاکہ اُن کی حفاظت کے لیے مناسب سیکورٹی کے انتظامات کیے جا سکیں۔

اُدھر وزارت داخلہ میں پولینڈ اور چین کے مغوی انجینئر کی بازیابی کے لیے اب تک کیے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیا گیا اور متعلقہ محکموں ہدایت کی گئی کہ وہ ان غیر ملکیوں کی بازیابی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کریں۔

واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل سوات کے علاقے سے اغوا کاروں نے ایک موبائیل کمپنی کے دو انجینئروں کو اغوا کر لیا تھا۔

پاکستان میں پولینڈ کے سفیر نے وزیر اعطم سید یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی تھی اورپولینڈ کے انجینیر کے اغوا پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔ وزیر اعظم نے پولینڈ کے سفیر کو یقین دلایا تھا کہ حکومت مذکورہ غیر ملکی کی بازیابی کے لیے تمام ممکنہ وسائل استعمال کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ پنجاب پولیس کے کرائم انوسٹیگیشن ڈیپارٹمنٹ نے وزارت داخلہ کو چند روز قبل ایک خط لکھا تھا جس میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ شدت پسند غیر ملکیوں کو اغوا کرنے کا پروگرام بنایا ہے جس پر عملدرامد کرنے کے بعد وہ حکومت پر دباؤ ڈالیں گے اور اپنے مطالبات تسلیم کروانے کے لیے حکومت پر دباو ڈالیں گے۔

اسی بارے میں
طارق عزیز الدین کی تلاش جاری
13 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد