اغواء شدہ امیدوار، کوئی سراغ نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں گزشتہ شام مسلح افراد کی طرف سے اغواء کئے جانے والے حلقہ 36 سے قومی اسمبلی کے امیدوار اور سابق ایم این اے مولانا غلام محمد صادق بدستور لاپتہ ہیں جبکہ کسی گروپ نے تاحال اس اغواء کی ذمہ دار قبول نہیں کی ہے۔ دوسری طرف مغوی کے صاحبزادے سینیٹر حافظ رشید احمد کا کہنا ہے کہ ان کے والد کے اغواء میں مذہبی عناصر نہیں بلکہ جرائم پیشہ افراد ملوث ہوسکتے ہیں۔ بدھ کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سینیٹر حافظ رشید احمد نے انہوں نے کہا کہ مولانا غلام صادق کی گاڑی میں ان کے ساتھ سکیورٹی گارڈز اور کچھ اور لوگ بھی تھے لیکن اغواء کاروں نے انہیں کچھ نہیں کہا، صرف مولانا صاحب کو گاڑی میں بٹھاکر نامعلوم مقام کی طرف چلے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والد کے اغواء کے بعد ان سے کسی نے رابط نہیں کیا ہے اور نہ یہ معلوم ہورہا کہ یہ کام کس نے کیا ہے اور کس مقصد کےلئے کیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سینیٹر حافظ رشید کا کہنا تھا کہ یہ کام مقامی طالبان یا مذہبی عناصر کا نہیں ہوسکتا بلکہ اس میں جرائم پیشہ لوگ ملوث ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’مہمند ایجنسی میں طالبان تحریک میں شامل نوے فیصد افراد مولانا صاحب کے شاگرد رہے ہیں پھر وہ اپنے استاد کو کیسے اغواء کرسکتے ہیں، اس لئے یہ طالبان کا کام نہیں ہوسکتا۔‘ ادھر یہ بھی اطلاعات ہیں کہ مہمند ایجنسی کے مقامی طالبان نے اس اغواء سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ مولانا غلام محمد صادق کا تعلق جمیعت علماء اسلام (ف) سے بتایا جاتا ہے۔ وہ سن دو ہزار دو کے الیکشن میں بھی مہمند ایجنسی سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے جبکہ ان کے صاحبزادے حافظ رشید احمد ایوان بالا کے رکن ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ کچھ عرصہ سے مہمند ایجنسی میں امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب رہی ہے اور مذہبی عناصر کے اثر رسوخ میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ | اسی بارے میں جماعت کا بائیکاٹ، کس کو کیا ملے گا17 December, 2007 | پاکستان دو فوجی کپتانوں سمیت چار لاپتہ18 December, 2007 | پاکستان کوہاٹ خودکش حملہ 12 فوجی ہلاک17 December, 2007 | پاکستان راشد رؤف کے رشتے دار گرفتار17 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||