’طالبان نے ذبح نہیں جرمانہ کیا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی کے صدر مقام خار میں گزشتہ سنیچر کی رات مسلح طالبان نے جن چار مقامی رضاکاروں کے کان کاٹ دیئے تھے انکا کہنا ہے کہ طالبان قیادت نے ان کا گلا کاٹ کر مارنے کا حکم جاری کیا تھا مگر اغوا کاروں کے درمیان اس مسئلے پر اختلافات کے بعد ان کے کان کاٹنے کا فیصلہ کیاگیا۔ یہ چاروں افراد جن کے نام حاجی شیرین، حاجی بہرام، جہانگیر اور محمد ہیں اس وقت پشاور کے ایک سرکاری ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حاجی شیرین نے کہا کہ سنیچر کی رات وہ اندرون خار میں پہرہ دینے پر مامور تھے کہ اچانک تقریباً بیس نقاب پوشوں نے آکر ان پر کلاشنکوفیں تان لیں۔ان کے بقول اس دوران مختلف محلوں سے دو یا تین طالبان نکلتے اور اپنے ساتھ یرغمال رضاکاروں کو لاکر گاڑی میں بٹھاتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کو اور ان کے تقریباً سترہ ساتھیوں کو گاڑی میں نامعلوم مقام کی طرف روانہ کردیا اور آدھے گھنٹے کا سفر طے کرنے کے بعد انہیں خالی میدان میں اتار دیا گیا۔ ان کے بقول یہ لوگ طالبان تھے جن کے پاس مارٹر گولے، راکٹ، دستی بم، بارود، کلاشنکوفیں اور خنجر تھے۔ ان کے مطابق طالبان نے ہر ایک کا ایک کوڈ نام رکھا تھے جو نمبروں کے حساب سے تھا۔ مثال کے طور پر وہ وائرلس پر کہتے کہ نمبر سات فلاں جگہ پہنچ جائے اور نمبر بارہ فلاں کام کرے۔ ان کے مطابق انہوں نے ایک سو بیس تک کا نمبر بھی سنا۔ ان کے بقول وہ لہجے سے وزیرستانی اور باجوڑی معلوم ہورہے تھے۔
حاجی شیرین کا مزید کہنا تھا کہ انہیں جب گاڑیوں سے اتارا گیا تو اس وقت حیرت انگیز طور پر طالبان کی تعداد سو سے بھی بڑھ گئی جس میں صرف ایک شخص بغیر نقاب کے تھا جنہیں وہ پہچان نہیں پارہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان نے مقامی رضاکاروں کے سربراہ کے طور پرہم چار افراد کا نام لے کر بلایا اور مخاطب کرتے ہوئے کہا ’تم سب کافر ہو کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوجاؤ کیونکہ تم حکومت کے لیے کام کررہے ہو۔ ہم نے کہا کہ ہم مسلمان ہیں لیکن وہ نہ مانے اور ہم نے مجبوری میں کلمہ طیبہ پڑھ ہی لیا۔‘ ان کے مطابق اس کے بعد انہوں نے ہمیں دو سو گز دور لیکر گئے اور آپس میں یہی بات کررہے تھے کہ ان کے’ ذبح‘ کرنے کا حکم آیا ہے مگر اس دوران بعض نے کہا کہ نہیں ان کو صرف جرمانہ کرکے چھوڑ دو۔
ان کے بقول جب وہ جرمانہ کرنے پر متفق ہوئے تو انہوں نے ہمیں لائن میں بھٹاکر کر خنجروں سے ایک ایک کان کاٹ لیا اور اس وقت ہمیں یہ بات سمجھ آئی کہ طالبان جرمانہ’جسم کے کسی عضو‘ کے کاٹنے کو کہتے ہیں۔ دوسرے شخص حاجی بہرام کا کہنا تھا کہ اتفاق سے ان کے ایک ساتھی کے ہاتھ کھل گئے اور اسطرح وہ خون آلود اور نیم بے ہوشی کی حالت میں ہسپتال پہنچ گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحفظ دینا حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن حکومت نے ان کو خود ہی اپنی حفاظت پر مامور کردیا ہے۔ حاجی شیرین کا کہنا تھا کہ طالبان نے ان کے ساتھ دھوکا کیا ہے کیونکہ انہوں نے یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ پہرہ دینے والے رضاکاروں کو کچھ نہیں کہیں گے۔ ان افراد کا کہنا تھا کہ طالبان کے اس اقدام نے انہیں خوفزدہ نہیں کیا ہے بلکہ علاقے میں ان کے خلاف غصہ مزید بڑھ گیا ہے کہ انہوں نے بے گناہ لوگوں کے کان کاٹ کر’غیر انسانی‘ عمل کیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||