BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 22 January, 2009, 10:58 GMT 15:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مہمند، طالبان امیر ہلاکت کی تردید

مہمند آپریشن
سکیورٹی فورسز کی عسکریت پسندوں کے خلاف چوتھے روز بھی کارروائیاں جاری
قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں مقامی طالبان نے سکیورٹی فورسز کی ایک کارروائی میں اپنے سربراہ کمانڈر عمر خالد کی ہلاکت کی سختی سے تردید کی ہے۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین دنوں کے دوران سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں ان کے چودہ ساتھی ہلاک ہوچکے ہیں۔

مہمند ایجنسی میں تحریک طالبان پاکستان کے مقامی ترجمان اکرام اللہ مہمند نے جمعرات کی صبح بی بی سی کو کسی نامعلوم مقام سے فون پر بتایا کہ ذرائع ابلاغ میں چھپنے والی ان اطلاعات میں کوئی حقیقت نہیں کہ کمانڈر عمر خالد سکیورٹی فورسز کے ایک کارروائی میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمر خالد زندہ اور صحیح سلامت ہیں اور ان کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔

ترجمان نے دو دن پہلے فرنٹیئر کور کی طرف سے جاری ہونے والے اس بیان کی بھی تردید کی جس میں ساٹھ عسکریت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ تاہم انہوں نے تصدیق کی کہ گزشتہ تین دنوں کے دوران سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں ان کے چودہ ساتھی ہلاک ہوچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ طالبان نے دروزگئی سے لکڑو تک کا علاقہ ایک حکمت عملی کے تحت خالی کرایا ہے جبکہ دوسری طرف ان کے بقول ان کی عسکری قوت مکمل طورپر محفوظ ہے۔

واضح رہے کہ بدھ سے مہمند ایجنسی میں مقامی طالبان کے سربراہ کمانڈر عمر خالد کی سکیورٹی فورسز کی ایک کارروائی میں ہلاکت کی افواہیں مسلسل گردش کرتی رہیں جبکہ جمعرات کو بعض اخبارات میں ان کی ہلاکت کی خبر بھی شائع ہوئی۔

دوسری طرف مہمند ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے عسکریت پسندوں کے خلاف چوتھے روز بھی کارروائیاں جاری ہیں جس میں ہلاکتوں کے حوالے سے مصدقہ اطلاعات نہیں ملی ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ آپریشن کی وجہ سے علاقے میں اہم سڑکیں بند ہیں جبکہ چند مقامات پر بازار اور تجارتی مراکز کے بند ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

علاقے سے مقامی لوگ پہلے ہی پشاور، چارسدہ اور دیگر محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کرچکے ہیں۔ سکیورٹی حکام کا دعویٰ ہے کہ باجوڑ ایجنسی میں شدت پسندوں کے خلاف شدید آپریشن کے بعد زیادہ تر عسکریت پسند مہمند ایجنسی کے ملحقہ علاقوں میں منتقل ہوگئے ہیں۔

اسی بارے میں
مہمند ایجنسی، جھڑپ میں 7ہلاک
16 December, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد