مہمند ایجنسی، جھڑپ میں 7ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپ میں ایک سکیورٹی اہلکار اور چھ شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔ مقامی پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ مہمند ایجنسی کے تحصیل ساسی کے علاقے دروازگئی میں مقامی شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر راکٹوں اور خودکار ہھتیاروں سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ ایک زخمی ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی شروع کی جس میں چھ شدت پسند ہلاک ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والے شدت پسندوں میں مقامی طالبان کے ایک کمانڈر زار محمد المعروف زارے شامل ہیں۔ کمانڈر کی لاش مقامی انتظامیہ نے اپنے قبضے میں لے لی ہے۔انہوں نے کہا کہ شدت پسندوں کے حملے میں سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ بھی تباہ ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی میں توپخانے کا بھی استعمال کیا جس کے نتیجے میں شدت پسندوں کے دو ٹھکانے تباہ ہوگئے ہیں۔ یاد رہے کہ مہمند ایجنسی میں گزشتہ ایک سال سے حالت انتہائی کشیدہ ہے جس میں سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں پر حملے روزانہ کا معمول بن گیا ہے۔ | اسی بارے میں باجوڑ: کرفیو سے لوگ تنگ18 November, 2008 | پاکستان موجودہ آپریشن میں باجوڑ اہم کیوں؟29 October, 2008 | پاکستان مہمند: چیک پوسٹ پر حملہ26 October, 2008 | پاکستان لوئی سم پر کنٹرول کا دعویٰ25 October, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||